
عصری یا سائنسی علوم بھی قرآنی اور الٰہی علوم ہیں، صرف مدرسے کے علوم نہیں ۔۔تحریر: مبشرالملک
امتِ مسلمہ کے فکری اور علمی زوال کے اسباب پر غور کیا جائے تو ایک بڑی وجہ علم کے بارے میں ہمارا محدود تصور بھی نظر آتا ہے۔ ہمارے معاشرے میں عام طور پر فقہ، حدیث، تفسیر، قراءت، عقائد اور نماز، روزہ، زکوٰۃ اور حج کے مسائل سے متعلق علوم کو ہی “دینی علوم” سمجھا جاتا ہے، جبکہ طب، انجینئرنگ، فلکیات، زراعت، معاشیات، نفسیات، بحریات، معدنیات، تعمیرات اور دیگر عصری علوم کو یا تو ثانوی حیثیت دی جاتی ہے یا بعض حلقوں میں انہیں مغربی، دجالی، مادی یا کفریہ علوم قرار دے کر ان سے دور رہنے کی تلقین کی جاتی ہے۔
( ویزین اسپہ ۔۔۔کوہیو أسمانو۔۔ ڑاپھیک استری حلیم بھایو گنی مرمت کوراو شتم سکولوبیلہ۔ ہنیہ ریتای کی افسوس لہ ہیہ کوہی سکولو بیلہ نو بیتی ۔۔۔ مدرسو پروشٹہ بیروا کیچہ ثوابی گنے سو۔ اوا تو سداہیو لوڑی ہوسیتم۔ مہ نسہ اسک ای ملگیری تو ریتای کی پون غوس ، سکولی اوشک اوغ پیکو ثواب نو باک بیرایہ۔؟
سے بیدوا بیتی ریتای کی ہیس دنیاویی تعلیم لہ انگریزی رینیان ۔مولانا أزاد ران سی فار کیٹ ۔ڈی فار ڈاک۔ سبق نو گمراہی رے۔
ای ملگیری ریتای عرابیہ ۔۔۔بی فار ۔۔ بقرہ ۔۔۔ ریکو ثواب اردوا گایے ۔انگلشیہ سی فار کاو ریکو گناہ یہ عجیب لو۔
اوأ توت ریت یہ وےاوغیہ تہ کوہیو مرمت کوری رویان ۔پوردوان جانورانتے اوغ مہیا کوریک چھیو ریپھی ہزار رکاتو سار زیت ثواب ۔اسے حیران بیتی مہ لوڑتای۔ دشمانان ہش نورینیان نا۔
اوا گیلہ کوری ہیہ لوان دومان مہ عمر پچپن سال ہوی کورا مسجدہ خطیب مولانا خلیق الزمان دام براکات۔مولانا حضرت حبیب اللہ علیہ رحمہو ۔مولانا عماد الدین دام برکہ و سار غیر کوس کورا ڈاکٹراستاد۔پروفیسر۔انجینیر۔دوکاندار۔زمیبدار۔مزدور۔سیاست دان۔ سرکاری ملازمو دی اجرو ثوابو مستحق کا جوشی اسونی۔
بے شک فقہ۔علم کلام حدیث۔وا قران ممبہ علم وا ہے کوہیار ۔۔۔ ژوی نیسی عصری علومان شکلہ دنییو سیراب کونیان ۔ہمی گلایو کھوارا ارتام کی روی اسپہ علماءمان پست خیال مو جوشانی۔)
معاشرےاور علماء کا یہ رویہ نہ صرف قرآنِ مجید کی تعلیمات سے ہم آہنگ نہیں بلکہ امتِ مسلمہ کو مزید پسماندگی کی طرف دھکیلنے کا باعث بھی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جس طرح نماز، روزہ اور دیگر عبادات اللہ تعالیٰ کے احکام ہیں، اسی طرح انسانی زندگی کی بقا، سہولت اور ترقی کے لیے درکار علوم بھی اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمتیں ہیں۔ قرآن مجید بار بار انسان کو زمین و آسمان، پہاڑوں، سمندروں، ستاروں، جانوروں، نباتات اور انسانی وجود میں غور و فکر کی دعوت دیتا ہے۔ اگر یہ علوم غیر ضروری یا غیر دینی ہوتے تو قرآن ان کی طرف انسان کی توجہ مبذول نہ کراتا۔
قرآنِ مجید فلکیات (Astronomy) کی طرف رہنمائی کرتے ہوئے فرماتا ہے:
“اور سورج اپنے مقررہ راستے پر چل رہا ہے۔” (یٰسین: 38)
“اور سورج اور چاند ایک حساب کے پابند ہیں۔” (الرحمن: 5)
“اور سب اپنے اپنے مدار میں تیر رہے ہیں۔” (الانبیاء: 33)
یہ آیات کائنات کے منظم نظام اور فلکیاتی حقائق پر غور و فکر کی دعوت دیتی ہیں۔
میڈیکل سائنس (Medical Science)، حیاتیات (Biology) اور علمِ جنین (Embryology) کے حوالے سے قرآن کہتا ہے:
“اور ہم نے ہر جاندار چیز کو پانی سے پیدا کیا۔” (الانبیاء: 30)
“پھر ہم نے نطفہ کو علقہ بنایا، پھر علقہ کو مضغہ بنایا۔” (المؤمنون: 12-14)
اور شہد کے بارے میں فرمایا:
“اس میں لوگوں کے لیے شفا ہے۔” (النحل: 69)
نفسیات (Psychology) کے بارے میں ارشاد ہوتا ہے:
“بے شک نفس برائی پر اکساتا ہے۔” (یوسف: 53)
اور:
“اللہ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی حالت نہ بدلے۔” (الرعد: 11)
زراعت (Agriculture) اور باغبانی (Horticulture) کے میدان میں قرآن بار بار زمین، فصلوں اور باغات کا ذکر کرتا ہے:
“اور ہم نے اس میں کھجوروں اور انگوروں کے باغات پیدا کیے۔” (یٰسین: 34)
حضرت یوسف علیہ السلام نے سات سالہ زرعی منصوبہ بندی اور غذائی ذخیرہ اندوزی کا پروگرام پیش کیا:
“سات سال مسلسل کھیتی کرو…” (یوسف: 47)
یہ جدید زرعی منصوبہ بندی اور فوڈ سیکیورٹی کی ایک شاندار مثال ہے۔
معاشیات (Economics)، تجارت (Commerce) اور مالی نظم و نسق کے حوالے سے سورۂ قریش میں تجارتی قافلوں کا ذکر ہے:
“قریش کے جاڑے اور گرمی کے سفروں کے سبب۔” (قریش: 1-2)
جبکہ قرآن کی سب سے طویل آیت قرض اور مالی معاملات کو تحریری شکل دینے کا حکم دیتی ہے:
“جب تم آپس میں قرض کا معاملہ کرو تو اسے لکھ لیا کرو۔” (البقرہ: 282)
یہ اصول جدید اکاؤنٹنگ، بینکاری دستاویزات اور معاشی نظم و ضبط کی بنیادوں میں شمار ہوتا ہے۔
انجینئرنگ (Engineering)، فنِ تعمیر (Architecture)، معدنیات (Mineralogy) اور دھات کاری (Metallurgy) کے حوالے سے قرآن میں ذوالقرنین علیہ السلام کے عظیم بند کا ذکر ہے:
“میرے پاس لوہے کے تختے لاؤ۔۔۔ پھر اس پر پگھلا ہوا تانبا انڈیل دو۔” (الکہف: 96)
یہ تاریخ کے عظیم ترین انجینئرنگ منصوبوں میں سے ایک کا قرآنی بیان ہے۔
حضرت سلیمان علیہ السلام کے دور میں تعمیرات اور صنعت کا ذکر یوں ملتا ہے:
“وہ ان کے لیے قلعے، مجسمے اور بڑے بڑے حوض بناتے تھے۔” (سبأ: 13)
ملکہ سبا کے محل میں شیشے کے فرش کا ذکر بھی تعمیراتی فنون کی ترقی کی نشاندہی کرتا ہے:
“یہ شیشے سے بنا ہوا ہموار فرش ہے۔” (النمل: 44)
لوہے کی اہمیت بیان کرتے ہوئے قرآن فرماتا ہے:
“اور ہم نے لوہا اتارا جس میں بڑی قوت اور لوگوں کے لیے بے شمار فوائد ہیں۔” (الحدید: 25)
بحریات (Oceanography)، جہاز سازی (Naval Engineering) اور بحری نقل و حمل (Maritime Transport) کے میدان میں حضرت نوح علیہ السلام کو کشتی بنانے کا حکم دیا گیا:
“ہماری نگرانی اور وحی کے مطابق کشتی بناؤ۔” (ہود: 37)
جبکہ بڑے بحری جہازوں کے متعلق فرمایا:
“اور اس کی نشانیوں میں سمندر میں پہاڑوں جیسے جہاز ہیں۔” (الشوریٰ: 32)
فوجی سائنس (Military Science)، دفاعی حکمت عملی (Defense Strategy) اور عسکری تیاری کے متعلق قرآن کا حکم ہے:
“اور ان کے مقابلے کے لیے اپنی استطاعت کے مطابق قوت اور بندھے ہوئے گھوڑے تیار رکھو۔” (الانفال: 60)
یہ آیت ہر دور کی دفاعی تیاری، عسکری طاقت اور قومی سلامتی کی بنیاد فراہم کرتی ہے۔
قرآن فرعون، عاد، ثمود اور دیگر قدیم تہذیبوں کے آثار و تعمیرات کا ذکر کرتا ہے جو آج آثارِ قدیمہ (Archaeology)، تاریخ (History) اور تمدنی علوم (Civilizational Studies) کے اہم موضوعات ہیں۔
تاریخ گواہ ہے کہ جب تک مسلمان علم کو ایک وحدت سمجھتے رہے، دنیا کی قیادت ان کے ہاتھ میں رہی۔ اس دور میں مسجد، مدرسہ، رصدگاہ، تجربہ گاہ اور شفاخانہ ایک ہی علمی تہذیب کے مختلف شعبے تھے۔ ابن سینا، البیرونی، ابن الہیثم، جابر بن حیان، الخوارزمی اور دیگر عظیم مسلم سائنسدان اسی قرآنی فکر کے پروردہ تھے۔ انہوں نے کبھی علم کو “دینی” اور “دنیاوی” خانوں میں تقسیم نہیں کیا۔ ان کے نزدیک ہر وہ علم جو انسانیت کے لیے مفید ہو، اللہ تعالیٰ کی نشانیوں کو سمجھنے کا ذریعہ ہے۔
بعد کے ادوار میں مختلف سیاسی، فکری اور استعماری عوامل کے تحت علوم کو دینی اور عصری خانوں میں تقسیم کر دیا گیا۔ اسی تقسیم نے امت کی فکری وحدت کو نقصان پہنچایا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ دینی علوم کے ماہرین دنیا کے عملی، سائنسی، صنعتی اور معاشی میدانوں میں کمزور ہوتے گئے، جبکہ عصری علوم کے ماہرین کی ایک بڑی تعداد دین، روحانیت اور اللہ تعالیٰ سے مضبوط تعلق قائم رکھنے میں ناکام رہی۔ یوں امت کا ایک حصہ دنیا سے کٹ گیا اور دوسرا حصہ دین سے دور ہوتا گیا۔
اس تقسیم کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوا کہ سائنس، صنعت، معیشت اور ٹیکنالوجی کے وہ ثمرات جو مسلمانوں کے حصے میں آنے چاہئیں تھے، دوسروں نے حاصل کر لیے۔ امتِ مسلمہ زوال کا شکار ہوئی اور آج تک اس خلا کو مکمل طور پر پُر نہیں کر سکی۔
اس کے باوجود اللہ کا شکر ہے کہ آج بھی مسلمان سائنس، طب، انجینئرنگ، تعلیم، تحقیق اور ٹیکنالوجی کے میدانوں میں قابلِ قدر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومتیں اور علماء کرام ان کی بھی حوصلہ افزاءی کریں۔جس طرح ان شعبوں کے لوگ مدرسوں۔مساجد، خانقاہوں کی مالی مدد اور قدر کرتے ہیں اسی طرح سائنسی تحقیق، فنی تعلیم، انجینئرنگ، طب، زراعت اور دیگر نافع علوم کی سرپرستی میں علماء کا کردار جاندار ہونا چاہیے ان کی دعاوں میں عصری علوم کے طالب علم کا بھی حصہ ہونا چاہیے۔نہ کہ ان علوم کے بارے۔ شک و شبہات ۔
نوجوانوں کو ان شعبوں میں آگے بڑھنے کی ترغیب دیں۔خصوصا بچیوں میں میڈیکل اورتدرسی شعبے میں اگے بڑھنے کا درس۔
حقیقت یہ ہے کہ اگر نیت درست ہو تو معاشرے کا ہر فرد عبادت اور ثواب کے راستے پر گامزن ہو سکتا ہے۔ وطن کی سرحدوں پر کھڑا سپاہی، مریضوں کی خدمت کرنے والا ڈاکٹر، بچوں کو تعلیم دینے والا استاد، دیانت دار سرکاری افسر، انصاف پسند سیاست دان، کامیاب بزنس مین، محنتی کسان، مزدور، سائنسدان، انجینئر، ٹرانسپورٹر، ریڑھی بان، حجام اور ہر وہ شخص جو حلال روزی کماتا اور انسانیت کے لیے نفع کا باعث بنتا ہے، وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں اجر و ثواب کا مستحق ہو سکتا ہے۔
اسلام محنت، دیانت اور خدمتِ خلق کو عزت دیتا ہے۔ نافع علم اور حلال محنت دونوں اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے ذرائع ہیں۔ اسی لیے ضروری ہے کہ ہم علم کو دوبارہ ایک وحدت کے طور پر دیکھیں، دینی اور عصری علوم کے درمیان مصنوعی دیواریں ختم کریں اور ایسی نسل تیار کریں جو قرآن و سنت سے بھی وابستہ ہو اور سائنس و ٹیکنالوجی میں بھی دنیا کی قیادت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہو۔
یہی وہ راستہ ہے جو امتِ مسلمہ کو دوبارہ عزت، وقار، خود اعتمادی اور علمی سربلندی کی منزل تک پہنچا سکتا ہے۔
