
چترال لوئر میں 9 تا 14 سال کی بچیوں کو رحم کے کینسر سے بچاؤ کی ویکسین لگانے کا فیصلہ، علماء سے تعاون کی اپیل
چترال (چترال ایکسپریس)حکومتِ پاکستان نے ضلع چترال لوئر میں 9 سے 14 سال کی عمر کی بچیوں کو رحم کے کینسر سے محفوظ رکھنے کے لیے ایک جامع ویکسینیشن مہم شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس کے تحت ضلع بھر کی 22,000 بچیوں کو حفاظتی ٹیکے لگائے جائیں گے۔
اس سلسلے میں ٹاؤن ہال چترال میں ایک آگاہی اجلاس منعقد ہوا جس میں علماء کرام، خطباء اور ائمہ مساجد نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی ڈی ایچ او چترال ڈاکٹر ارشاد احمد اور کوآرڈینیٹر ای پی آئی (EPI) ڈاکٹر فرمان نظار نے کہا
کہ یہ ویکسین بچیوں کو جان لیوا کینسر سے بچانے اور ان کے محفوظ مستقبل کے لیے نہایت ضروری ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ عالمی ادارہ صحت (WHO) سے منظور شدہ یہ ویکسین مکمل طور پر محفوظ اور موثر ہے، لہٰذا والدین کسی بھی قسم کی افواہوں اور منفی پروپیگنڈے پر کان نہ دھریں۔
اس موقع پر ضلع خطیب فضل مولیٰ نے علماء و ائمہ کرام پر زور دیا کہ وہ جمعہ کے خطبات اور دینی مجالس کے ذریعے اس پیغام کو عام کریں۔
انہوں نے کہا کہ عوام میں اس موذی مرض اور اس کے بچاؤ کی تدابیر سے متعلق شعور بیدار کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ معاشرے کو کینسر سے پاک کیا جا سکے۔
