تازہ ترینمکتوب چترال

چترال میں کباڑ کاروبار کی نگرانی، جرائم اور منشیات کی روک تھام کیلئے اہم اقدامات تحریر: بشیر حسین آزاد

چترال میں بڑھتی ہوئی چوری کی وارداتوں، مشکوک خرید و فروخت اور جرائم پیشہ عناصر کی سرگرمیوں کے پیش نظر لوئر چترال پولیس کی جانب سے کباڑ کاروبار کی نگرانی کے لیے اٹھایا گیا حالیہ اقدام عوامی حلقوں میں نہایت اہم اور بروقت قرار دیا جارہا ہے۔ ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر لوئر چترال رفعت اللہ خان کی خصوصی ہدایات پر ایس ڈی پی او سرکل چترال سجاد حسین کی سربراہی میں ایس ایچ او تھانہ سٹی چترال بلبل حسن نے کباڑ کاروبار سے وابستہ افراد کے ساتھ ایک خصوصی اجلاس منعقد کرکے نہ صرف امن و امان کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا بلکہ چوری شدہ سامان کی خرید و فروخت کی روک تھام پر بھی واضح لائحہ عمل دیا۔

معاشرتی مشاہدات اور مختلف واقعات سے یہ بات سامنے آتی رہی ہے کہ اکثر نشے کے عادی افراد اپنی لت پوری کرنے کے لیے گھروں، دکانوں، مساجد، سرکاری تنصیبات اور دیگر مقامات سے قیمتی اشیاء، بجلی کے تار، لوہے کے سامان، موٹر پارٹس اور دیگر دھاتی اشیاء چوری کرکے انہیں کباڑ کی دکانوں میں فروخت کرتے ہیں۔ کئی علاقوں میں چوری شدہ سامان کا سراغ بھی بعد میں کباڑ مارکیٹ سے ملنے کی اطلاعات سامنے آتی رہی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پولیس کی جانب سے کباڑ کے کاروبار کو باقاعدہ نگرانی میں لانا وقت کی اہم ضرورت بن چکا تھا۔

پولیس حکام نے اجلاس کے دوران واضح کیا کہ کباڑ کے کاروبار میں شفافیت، مکمل ریکارڈ کی دستیابی اور مشکوک اشخاص پر نظر رکھنا ناگزیر ہے۔ ایس ایچ او تھانہ سٹی چترال نے کباڑ ڈیلرز کو ہدایت کی کہ وہ ہر خرید و فروخت کا مکمل اندراج کریں، فروخت کنندگان کی شناخت محفوظ رکھیں اور کسی بھی مشکوک سامان یا مشتبہ شخص کی فوری اطلاع پولیس کو دیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جرائم کی روک تھام صرف پولیس کی ذمہ داری نہیں بلکہ اس میں معاشرے کے ہر طبقے، خصوصاً تاجروں اور کاروباری افراد کا تعاون انتہائی اہم ہے۔

اجلاس میں شریک کباڑ کاروبار سے وابستہ افراد نے پولیس کے ساتھ مکمل تعاون کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ وہ قانون کی پاسداری کریں گے اور کسی بھی غیر قانونی سرگرمی کا حصہ نہیں بنیں گے۔ انہوں نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ کاروبار کو شفاف اور قانونی دائرے میں رکھنے سے نہ صرف معاشرے میں اعتماد بڑھے گا بلکہ ان کے اپنے کاروبار کی ساکھ بھی بہتر ہوگی۔

عوامی حلقوں نے پولیس کے اس اقدام کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر کباڑ کی دکانوں کی مؤثر نگرانی کی جائے تو چوری کی وارداتوں میں نمایاں کمی لائی جاسکتی ہے۔ شہریوں نے انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ تمام کباڑ دکانوں میں سی سی ٹی وی کیمرے نصب کرنا لازمی قرار دیا جائے، دکانوں کی رجسٹریشن اور باقاعدہ انسپکشن کا نظام بنایا جائے، جبکہ مشکوک سرگرمیوں میں ملوث عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔

ماہرین کے مطابق جرائم، منشیات اور چوری کے واقعات ایک دوسرے سے جڑے ہوئے مسائل ہیں۔ نشے کے عادی افراد اکثر فوری رقم کے حصول کے لیے چوری کا راستہ اختیار کرتے ہیں، اور اگر چوری شدہ سامان کی فروخت کے راستے بند کردیئے جائیں تو جرائم کی شرح میں خاطر خواہ کمی ممکن ہے۔ اسی لیے پولیس اور کباڑ کاروبار سے وابستہ افراد کے درمیان تعاون نہ صرف قانون نافذ کرنے میں مددگار ثابت ہوگا بلکہ معاشرے کو منشیات اور جرائم کے ناسور سے محفوظ بنانے میں بھی اہم کردار ادا کرے گا۔

چترال کے عوام امید ظاہر کر رہے ہیں کہ پولیس کی یہ پیش قدمی وقتی کارروائی تک محدود نہیں رہے گی بلکہ اسے مستقل بنیادوں پر جاری رکھا جائے گا تاکہ علاقے میں امن و امان، شہری تحفظ اور قانون کی بالادستی کو مزید مضبوط بنایا جاسکے۔

زر الذهاب إلى الأعلى
Ads Blocker Image Powered by Code Help Pro

Ads Blocker Detected!!!

We have detected that you are using extensions to block ads. Please support us by disabling these ads blocker.

Powered By
100% Free SEO Tools - Tool Kits PRO