
اسلامیہ کالج پشاور میں مبینہ ہراسانی واقعہ: چترال یونیورسٹی فیکلٹی ایسوسی ایشن کی شدید مذمت
چترال (چترال ایکسپریس) چترال یونیورسٹی فیکلٹی ایسوسی ایشن نے اسلامیہ کالج یونیورسٹی پشاور میں ایک خاتون لیکچرار اور طالبات کے ساتھ مبینہ ہراسانی، دھونس، دھمکی آمیز رویے اور بدسلوکی کے واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شفاف تحقیقات اور ذمہ دار عناصر کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
ایسوسی ایشن کے صدر ظہور الحق دانش
کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ایک خاتون لیکچرار کو ہراساں کرنے، خوف و ہراس پھیلانے اور طالبات کو ذہنی اذیت و عدم تحفظ سے دوچار کرنے جیسے واقعات نہایت سنگین ہیں اور کسی بھی تعلیمی ادارے کے لیے باعث تشویش ہیں۔
بیان میں کہا گیا کہ اس قسم کے واقعات تعلیمی ماحول کے وقار، تحفظ اور تقدس کو مجروح کرتے ہیں، اس لیے خواتین اساتذہ اور طالبات کو ہراساں کرنے کے واقعات کے خلاف مکمل عدم برداشت کی پالیسی اپنانا ناگزیر ہے۔
فیکلٹی ایسوسی ایشن نے اسلامیہ کالج یونیورسٹی پشاور کی انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ معاملے کی شفاف، منصفانہ اور غیر جانبدارانہ تحقیقات یقینی بنائی جائیں اور ملوث عناصر کے خلاف سخت تادیبی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ علمی و تدریسی برادری ہر قسم کی ہراسانی، دھونس، دھمکی اور تشدد کے خلاف اساتذہ اور طلبہ کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتی ہے۔
