
صحافیوں کے حقوق کے لیے چترال میں بھرپور یکجہتی کا مظاہرہ
چترال (چترال ایکسپریس) خیبر یونین آف جرنلسٹس اور پشاور پریس کلب کی جانب سے صحافیوں پر بڑھتے ہوئے تشدد، دھمکیوں، جبری برطرفیوں اور آزادیٔ صحافت پر قدغنوں کے خلاف صوبہ بھر میں احتجاجی تحریک کے اعلان کے تحت چترال میں بھی صحافی برادری نے بھرپور یکجہتی کا اظہار کیا۔
جمعہ 15 مئی کو بعد از نماز جمعہ چترال پریس کلب میں صحافیوں نے احتجاجی مظاہرہ کیا اور خیبر یونین آف جرنلسٹس کی کال کی حمایت کرتے ہوئے آزادیٔ صحافت کے تحفظ اور صحافیوں کے حقوق کے لیے آواز بلند کی۔
مظاہرین کا کہنا تھا
کہ ملک بھر خصوصاً خیبر پختونخوا میں صحافیوں کو تشدد، دھمکیوں اور مختلف مقدمات کا سامنا ہے جبکہ متعدد میڈیا اداروں کی جانب سے کارکن صحافیوں کو جبری طور پر فارغ کرنے، تنخواہیں اور بقایاجات ادا نہ کرنے کے باعث صحافی شدید معاشی مشکلات سے دوچار ہیں۔
مقررین نے کہا
کہ وفاقی و صوبائی حکومتوں کی جانب سے پیکا ایکٹ اور دیگر قوانین کے تحت صحافیوں کو نوٹسز جاری کیے جا رہے ہیں جو آزادیٔ اظہارِ رائے اور آزاد صحافت کے لیے خطرناک رجحان ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ صحافیوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے، جبری برطرفیوں کا سلسلہ بند کیا جائے اور میڈیا ورکرز کے بقایاجات فوری ادا کیے جائیں۔
چترال کی صحافی برادری نے اس عزم کا اظہار کیا کہ صحافیوں کے حقوق، آزادیٔ صحافت اور جمہوری اقدار کے تحفظ کے لیے ہر سطح پر جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔
