تازہ ترین

*منشیات: چند لمحوں کی سرشاری، پوری زندگی کی تباہی*..تحریر:ابو سلمان محمدقاسم

قرآن و سنت، عقلِ سلیم اور حقیقی معاشرتی واقعات کے آئینے میں ایک جاندار کالم

دنیا میں بعض تباہیاں ایسی ہوتی ہیں جو دھماکے کے ساتھ نہیں آتیں؛ وہ خاموش قدموںض سے داخل ہوتی ہیں۔ پہلے عادت بنتی ہیں، پھر ضرورت، پھر مجبوری، پھر غلامی اور آخرکار انسان کو اس مقام تک پہنچا دیتی ہیں جہاں اسے اپنے زوال کا احساس بھی ہوتا ہے مگر واپسی کا راستہ دشوار دکھائی دیتا ہے۔

منشیات ایسی ہی ایک خاموش تباہی ہے۔

یہ صرف ایک گولی، ایک پیکٹ، ایک پُڑی، ایک سگریٹ یا ایک نشہ آور مشروب نہیں؛ یہ عقل پر حملہ، صحت پر وار، کردار پر ضرب، خاندان کے سکون پر یلغار اور مستقبل کے چراغ پر پھونک ہے۔

ایک نوجوان اسے چند لمحوں کی سرشاری سمجھ کر ہاتھ لگاتا ہے، مگر کبھی یہی چند لمحے اس کی تعلیم، روزگار، عزت، صحت، رشتے اور پوری زندگی کے برس نگل لیتے ہیں۔

منشیات کیا ہیں؟

منشیات سے مراد وہ نشہ آور یا نفسیاتی اثر رکھنے والے مادے ہیں جو انسان کے دماغ اور اعصابی نظام کو متاثر کرتے ہیں، شعور اور فیصلہ سازی میں خلل پیدا کر سکتے ہیں اور مسلسل استعمال کی صورت میں انحصار یا لت پیدا کر سکتے ہیں۔

آج دنیا میں چرس، افیون، ہیروئن، کوکین، کرسٹل میتھ یا “آئس”، بعض نشہ آور گولیاں اور دوسرے مصنوعی یا قدرتی مادے مختلف معاشروں کے لیے سنگین مسئلہ بن چکے ہیں۔

لیکن اسلام کا زاویۂ نگاہ صرف یہ نہیں کہ “یہ چیز جسم کو نقصان دیتی ہے”؛ اسلام انسان کی عقل، جان، مال، دین، عزت اور خاندان سب کی حفاظت چاہتا ہے۔ اسی لیے نشے کے دروازے کو ابتدا ہی میں بند کیا گیا۔

قرآنِ کریم کا فیصلہ: نشہ کامیابی کا راستہ نہیں

قرآنِ مجید نے شراب اور نشہ آور چیزوں کے بارے میں نہایت واضح اور تدریجی انداز اختیار فرمایا۔

1۔ سورۃ البقرہ: نشے میں نقصان زیادہ ہے

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

﴿يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْخَمْرِ وَالْمَيْسِرِ ۖ قُلْ فِيهِمَا إِثْمٌ كَبِيرٌ وَمَنَافِعُ لِلنَّاسِ وَإِثْمُهُمَا أَكْبَرُ مِنْ نَفْعِهِمَا﴾

“لوگ آپ سے شراب اور جوئے کے بارے میں پوچھتے ہیں، کہہ دیجیے کہ ان دونوں میں بڑا گناہ ہے اور لوگوں کے لیے کچھ فائدے بھی ہیں، لیکن ان کا گناہ ان کے فائدے سے بہت زیادہ ہے۔”

(البقرہ: 219)

قرآن نے یہاں انسانی ذہن کو ایک بنیادی اصول دیا:

اگر کسی چیز میں وقتی منفعت ہو بھی، مگر اس کا نقصان اس کے فائدے سے کہیں بڑھ جائے تو عقلِ سلیم اسے اختیار نہیں کرتی۔

2۔ سورۃ النساء: نشہ عقل کو ڈھانپ دیتا ہے

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:ث

﴿لَا تَقْرَبُوا الصَّلَاةَ وَأَنْتُمْ سُكَارَىٰ حَتَّىٰ تَعْلَمُوا مَا تَقُولُونَ﴾

“نشے کی حالت میں نماز کے قریب نہ جاؤ، یہاں تک کہ تمہیں معلوم ہو کہ تم کیا کہہ رہے ہو۔”

(النساء: 43)

یہ آیت نشے کے ایک بنیادی نقصان کو واضح کرتی ہے: انسان اپنے الفاظ، شعور اور اعمال پر مکمل گرفت کھو سکتا ہے۔

3۔ آخری اور قطعی اعلان

پھر اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

﴿إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنْصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ﴾

“اے ایمان والو! شراب، جوا، بت اور پانسے ناپاک شیطانی کام ہیں، پس ان سے بالکل بچو تاکہ تم فلاح پاؤ۔”

(المائدہ: 90)

یہاں لفظ فَاجْتَنِبُوهُ قابلِ غور ہے: صرف “کم استعمال کرو” نہیں، بلکہ اس سے دور رہو، اس کا راستہ چھوڑ دو۔

4۔ نشہ انسانوں کے درمیان دشمنی پیدا کرتا ہے

اسی کے بعد فرمایا:

﴿إِنَّمَا يُرِيدُ الشَّيْطَانُ أَنْ يُوقِعَ بَيْنَكُمُ الْعَدَاوَةَ وَالْبَغْضَاءَ فِي الْخَمْرِ وَالْمَيْسِرِ وَيَصُدَّكُمْ عَنْ ذِكْرِ اللَّهِ وَعَنِ الصَّلَاةِ﴾

“شیطان تو یہی چاہتا ہے کہ شراب اور جوئے کے ذریعے تمہارے درمیان دشمنی اور بغض ڈال دے اور تمہیں اللہ کی یاد اور نماز سے روک دے۔”

(المائدہ: 91)

گویا قرآن نے نشے کے چار بڑے نتائج ایک ہی آیت میں بیان کر دیے:

دشمنی، بغض، ذکرِ الٰہی سے دوری اور نماز سے محرومی۔

سنتِ رسول ﷺ: ہر نشہ آور چیز سے اجتناب

5۔ ہر نشہ آور چیز حرام ہے

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

«كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ»

“ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔”

(صحیح مسلم)

یہ حدیث نہایت جامع ہے۔ یعنی حکم صرف کسی خاص زمانے کے مشروب تک محدود نہیں؛ نشہ پیدا کرنے والی چیز کی علت کو دیکھا گیا ہے۔

6۔ زیادہ نشہ آور ہو تو کم مقدار بھی ممنوع

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

«مَا أَسْكَرَ كَثِيرُهُ فَقَلِيلُهُ حَرَامٌ»

“جس چیز کی زیادہ مقدار نشہ پیدا کرے، اس کی تھوڑی مقدار بھی حرام ہے۔”

(سنن ابی داؤد؛ جامع ترمذی)

یہ اصول اس سوچ کی نفی کرتا ہے:

“میں تو صرف تھوڑا سا لیتا ہوں، مجھے کیا نقصان ہوگا؟”

7۔ نشہ آور چیز کو شرعی اصطلاح میں خمر قرار دیا گیا

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

«كُلُّ مُسْكِرٍ خَمْرٌ وَكُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ»

“ہر نشہ آور چیز خمر ہے اور ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔”

(صحیح مسلم)

8۔ نشے سے متعلق پورا کاروباری سلسلہ بھی خطرناک ہے

رسول اللہ ﷺ نے خمر کے بارے میں ان لوگوں پر بھی سخت وعید بیان فرمائی جو اس کی تیاری، خرید و فروخت، ترسیل اور استعمال کے عمل میں شریک ہوں۔

(سنن ابی داؤد؛جامع ترمذی)

یہاں ایک بڑا معاشرتی سبق ہے:

نشے کا مسئلہ صرف نشہ کرنے والے کا مسئلہ نہیں؛ نشہ بیچنے والا، پھیلانے والا اور اس تجارت کو بڑھانے والا بھی معاشرے کی تباہی میں حصہ دار بنتا ہے۔

9۔ نشہ ایمان اور کردار پر بھی اثر انداز ہوتا ہے

سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا:

“خمر سے بچو، کیونکہ یہ تمام برائیوں کی ماں ہے۔”

یہ قول سنن نسائی میں مذکور ہے۔ روایت کے سیاق میں اس کے نتیجے میں نماز چھوڑنے، قتل اور دوسرے گناہوں کی طرف جانے کے خطرے کا ذکر آتا ہے۔ (سنن نسائی)

یہ ایک نہایت بامعنی تعبیر ہے:

برائی ہمیشہ اکیلی نہیں آتی؛ ایک برائی دوسری برائی کے لیے دروازہ کھول دیتی ہے۔

10۔ نشے کی ترسیل میں شریک ہونا بھی سنگین معاملہ ہے

رسول اللہ ﷺ نے شراب کے متعلق اس کے پینے والے کے ساتھ ساتھ پلانے والے، بیچنے والے، خریدنے والے، اٹھانے والے اور پہنچانے والے وغیرہ کا بھی ذکر فرمایا۔

(سنن ابی داؤد)

اس سے واضح ہوتا ہے کہ اسلام نشے کی سپلائی چین کو بھی اخلاقی مسئلہ سمجھتا ہے۔

مزید قرآنی اصول: جان، مال اور پاکیزگی کی حفاظت

یہاں چند آیات ایسی ہیں جن کا اصل موضوع براہِ راست منشیات نہیں؛ البتہ وہ انسانی جان، مال اور پاکیزگی کی حفاظت کے عمومی اصول بیان کرتی ہیں، جنہیں منشیات کے نقصانات پر غور کرتے وقت سامنے رکھا جا سکتا ہے۔

11۔ ناپاک چیزوں سے اجتناب

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

﴿وَيُحَرِّمُ عَلَيْهِمُ الْخَبَائِثَ﴾

“اور وہ ان پر ناپاک چیزیں حرام کرتا ہے۔”

(الاعراف: 157)

12۔ اپنے آپ کو ہلاکت میں نہ ڈالو

﴿وَلَا تُلْقُوا بِأَيْدِيكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ﴾

“اور اپنے ہاتھوں اپنے آپ کو ہلاکت میں نہ ڈالو۔”

(البقرہ: 195)

نوٹ: اس آیت کا اصل سیاق اللہ کی راہ میں خرچ سے متعلق ہے؛ اسے منشیات کی ممانعت کی براہِ راست نص نہیں کہنا چاہیے۔ البتہ جان کو جان بوجھ کر تباہی کی طرف لے جانے کے بارے میں یہ ایک عمومی شرعی اصول ضرور فراہم کرتی ہے۔

13۔ جان کی حرمت

﴿وَلَا تَقْتُلُوا أَنْفُسَكُمْ إِنَّ اللَّهَ كَانَ بِكُمْ رَحِيمًا﴾

“اور اپنے آپ کو قتل نہ کرو، بے شک اللہ تم پر بہت مہربان ہے۔”

(النساء: 29)

نشہ انسان کی جان، دماغ، جسم اور فیصلہ سازی کو نقصان پہنچا سکتا ہے؛ اس لیے اسلام کا عمومی مزاج انسانی جان کی حفاظت کے بالکل مطابق ہے۔

14۔ فضول خرچی سے ممانعت

﴿وَلَا تُبَذِّرْ تَبْذِيرًا ۝ إِنَّ الْمُبَذِّرِينَ كَانُوا إِخْوَانَ الشَّيَاطِينِ﴾

“فضول خرچی نہ کرو، بے شک فضول خرچی کرنے والے شیطانوں کے بھائی ہیں۔”

(الاسراء: 26-27)

نشے کی لت میں مبتلا شخص صرف صحت نہیں گنواتا؛ وہ اکثر اپنی آمدنی، گھر کے اخراجات اور بچوں کے حقوق کو بھی متاثر کرتا ہے۔

اب آئیے واقعات کی دنیا میں

قرآن و حدیث کی تعلیمات کے بعد جب ہم اپنے گردوپیش کی دنیا دیکھتے ہیں تو تصویر مزید واضح ہو جاتی ہے۔

واقعہ اول: یونیورسٹی کے طلبہ تک “آئس” پہنچانے کی کوشش

23 اپریل 2025 کو لاہور میں پولیس نے ایک اہلکار کو مبینہ طور پر کرسٹل میتھ یعنی “آئس” پنجاب یونیورسٹی کے طلبہ تک پہنچانے کی کوشش کے الزام میں گرفتار کیا۔ اسی رپورٹ میں پولیس نے ایک دوسرے آپریشن کے دوران تعلیمی اداروں، ہاسٹلز اور کالجز کے قریب آئس کی سپلائی کرنے والے افراد کی گرفتاری اور منشیات کی برآمدگی کا بھی ذکر کیا۔

یہ واقعہ ہمیں ایک خوفناک حقیقت دکھاتا ہے:

منشیات ہمیشہ ویران جگہوں سے نوجوانوں تک نہیں پہنچتیں؛ کبھی کبھی ان کا راستہ تعلیمی ماحول کے دروازے تک آ جاتا ہے۔

واقعہ دوم: پنجاب میں آئس کی بڑی مقدار کی برآمدگی

جون 2025 میں ڈان نے رپورٹ کیا کہ پنجاب پولیس نے سال 2025 کے پہلے پانچ ماہ میں 404 کلوگرام آئس برآمد کرنے کا دعویٰ کیا، جبکہ 2023 میں 61.9 کلوگرام اور 2024 میں 175 کلوگرام کی برآمدگی رپورٹ ہوئی تھی۔ پولیس اور طبی ماہرین کے حوالے سے رپورٹ میں آئس کے استعمال کے ساتھ بے خوابی، اضطراب، جارحانہ رویے اور نوجوانوں میں مختلف خطرناک سرگرمیوں کے بڑھنے پر تشویش ظاہر کی گئی۔

یہ اعداد و شمار استعمال کرنے والوں کی مجموعی تعداد کا براہِ راست اندازہ نہیں ہیں، کیونکہ برآمدگی کا تعلق پولیس کارروائیوں سے ہے؛ لیکن یہ ضرور ظاہر کرتے ہیں کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے اسے ایک سنگین مسئلہ سمجھ رہے تھے۔

واقعہ سوم: خیبر میں نوجوانوں کے بارے میں تشویش

29 جون 2025 کی ایک ڈان رپورٹ میں خیبر کے بعض علاقوں میں والدین، صحت کے ماہرین اور سول سوسائٹی کی جانب سے نوجوانوں میں آئس اور ایکسٹیسی گولیوں کے بڑھتے استعمال پر تشویش کا ذکر کیا گیا۔ رپورٹ میں مقامی افراد کے حوالے سے تعلیمی اداروں اور تفریحی اجتماعات کے قریب ان مادوں کی دستیابی کے دعوے بھی بیان ہوئے۔

یہ ہمارے لیے بالخصوص اس لیے اہم ہے کہ مسئلہ صرف بڑے شہروں تک محدود سمجھ کر نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔

واقعہ چہارم: 19 سالہ نوجوان کی موت

9 نومبر 2024 کو ڈان نے کراچی میں 19 سالہ نوجوان کی موت کی خبر شائع کی۔ پولیس کے مطابق ڈاکٹرز نے موت کو منشیات کی اوورڈوز سے منسوب کیا اور اہلِ خانہ نے بتایا کہ نوجوان آئس کا عادی تھا۔ یہ پولیس اور طبی حکام کی ابتدائی رپورٹ تھی، جسے حتمی عدالتی یا فرانزک فیصلہ سمجھنا درست نہیں ہوگا۔

ایک 19 سالہ زندگی…

جس عمر میں خواب آنکھوں میں ہوتے ہیں، اس عمر میں ایک گھر کو اپنے بیٹے کی میت کا سامنا کرنا پڑا۔

یہی وہ مقام ہے جہاں “نشہ تفریح ہے” کا جھوٹا تصور اپنے بھیانک انجام کے ساتھ کھڑا نظر آتا ہے۔

واقعہ پنجم: ایک خاندان کی خاموش جنگ

جولائی 2024 میں دی نیوز نے پشاور میں کرسٹل میتھ کے عادی ایک 28 سالہ شخص کی تفصیلی داستان شائع کی۔ رپورٹ میں اس شخص کا نام تبدیل کر کے “ساجد علی” لکھا گیا۔ وہ علاج کے لیے بحالی مرکز گیا، کچھ بہتری آئی، مگر پھر دوبارہ نشے کی طرف لوٹ گیا اور خاندان کو ایک بار پھر جدوجہد کرنا پڑی۔

یہ واقعہ ایک اور حقیقت آشکار کرتا ہے:

نشہ چھوڑ دینا صرف ایک دن کا فیصلہ نہیں؛ بعض لوگوں کے لیے یہ طویل علاج، مسلسل نگرانی، خاندان کی مدد اور بار بار سنبھلنے کی جدوجہد ہوتی ہے۔

اس لیے نشے کے عادی شخص کو گالی دینا آسان ہے، مگر اسے واپس زندگی کی طرف لانا زیادہ ضروری ہے۔

منشیات کا سب سے بڑا نقصان: انسان خود اپنا دشمن بن جاتا ہے

نشے کی پہلی شکست جسم نہیں، ارادہ ہے۔

پہلے انسان کہتا ہے:

“میں جب چاہوں گا چھوڑ دوں گا۔”

کچھ عرصے بعد وہ کہتا ہے:

“میں کوشش تو کرتا ہوں، لیکن چھوڑ نہیں پاتا۔”

اور ایک وقت آتا ہے جب وہ کہتا ہے:

“میرے پاس کوئی راستہ نہیں۔”

حالانکہ راستہ موجود ہوتاہےمگر اب اس راستے پر چلنے کے لیے صرف خواہش نہیں، علاج، مدد، صبر اور مسلسل نگرانی بھی درکار ہوتی ہے۔

نوجوان نسل: سب سے قیمتی سرمایہ

عالمی ادارۂ صحت کے مطابق کم عمری میں مادۂ نشہ استعمال کرنا بعد کی زندگی میں انحصار اور دوسرے مسائل کے زیادہ خطرے سے وابستہ ہے، اور نوجوان اس حوالے سے نسبتاً زیادہ متاثر ہونے والی آبادی ہیں۔ WHO یہ بھی بتاتا ہے کہ بچوں اور نوجوانوں میں الکحل اور منشیات کا استعمال بعد کی زندگی میں اعصابی، رویّاتی، سماجی اور تعلیمی مسائل سے وابستہ ہو سکتا ہے۔

اس لیے نوجوان کو یہ کہنا کافی نہیں:

“نشہ حرام ہے۔”

بلکہ اسے یہ بھی سکھانا ہوگا:

“اپنی زندگی کیوں قیمتی ہے؟”

اسے مقصد دینا ہوگا، مصروفیت دینا ہوگی، کھیل دینا ہوگا، کتاب دینا ہوگی، مسجد سے تعلق دینا ہوگا، اچھے دوست دینے ہوں گے، والدین کا اعتماد دینا ہوگا اور سب سے بڑھ کر یہ احساس دینا ہوگا کہ وہ کسی بھی نشے سے کہیں زیادہ قیمتی ہے۔

گھر: منشیات کے خلاف پہلی سرحد

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

«كُلُّكُمْ رَاعٍ وَكُلُّكُمْ مَسْؤُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ»

“تم میں سے ہر شخص نگہبان ہے اور ہر ایک سے اس کی رعیت کے بارے میں سوال ہوگا۔”

(صحیح بخاری و صحیح مسلم؛ سنن ابی داؤد)

اس حدیث کی روشنی میں والدین کی ذمہ داری صرف کھانا، لباس اور تعلیم فراہم کرنا نہیں؛ اولاد کی صحبت، عادات، ذہنی کیفیت، سرگرمیوں اور دوستوں پر مناسب توجہ بھی ذمہ داری کا حصہ ہے۔

بچوں سے بات کیجیے۔

ان کے دوستوں کو جانیے۔

ان کی خاموشی کو سمجھیے۔

اور جب کوئی بچہ غلطی کرے تو دروازہ بند نہ کیجیے؛ اصلاح کا دروازہ کھولیے۔

استاذ: ایک زندگی بچانے والا کردار

ایک استاذ ہر روز درجنوں بچوں کے سامنے کھڑا ہوتا ہے۔ وہ صرف کتاب نہیں پڑھاتا؛ وہ مستقبل بناتا ہے۔

اگر ایک استاذ اپنے طالب علم کے رویے میں غیر معمولی تبدیلی محسوس کرے، اس کی تعلیم گرتی نظر آئے، وہ اچانک مشکوک صحبت اختیار کرے یا غیر معمولی تنہائی اور بے ترتیبی کا شکار ہو تو بروقت توجہ اس کی زندگی بدل سکتی ہے۔

اکثر بڑے حادثے سے پہلے چھوٹی چھوٹی نشانیاں ظاہر ہو جاتی ہیں۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم ان نشانیوں کو پڑھنا سیکھیں۔

منشیات کے خلاف جنگ صرف پولیس کی ذمہ داری نہیں

یہ مسئلہ نہ صرف قانون کا ہے، نہ صرف صحت کا، نہ صرف تعلیم کا، اور نہ صرف مذہب کا۔

یہ اجتماعی ذمہ داری ہے۔

والدین نگرانی کریں۔

اساتذہ تربیت کریں۔

علما شعور دیں۔

طبی ماہرین علاج کریں۔

قانون نافذ کرنے والے ادارے سپلائی نیٹ ورک کے خلاف کارروائی کریں۔

میڈیا نشے کو فیشن کے طور پر پیش کرنے کے بجائے اس کے حقیقی نقصانات دکھائے۔

اور معاشرہ نشے کے شکار انسان کو صرف “برا آدمی” سمجھ کر چھوڑنے کے بجائے اسے علاج اور اصلاح تک پہنچانے میں مدد دے۔

نشے سے نجات کا دروازہ بند نہیں

جو شخص نشے میں مبتلا ہوچکا ہے، اسے مایوسی میں دھکیلنا درست نہیں۔

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

﴿لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ﴾

“اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو۔”

(الزمر: 53)

اس لیے توبہ، علاج، اچھی صحبت، خاندان کی مدد، ماہرِ علاج کی نگرانی اور مسلسل احتیاط کے ذریعے واپسی کی کوشش کی جانی چاہیے۔

نشے میں مبتلا شخص کو چھپانا علاج نہیں؛

اسے مناسب مدد تک پہنچانا علاج کی طرف پہلا قدم ہے۔

آخری پکار

ذرا سوچیے!

ایک طرف ایک ماں ہے جو اپنے بیٹے کے انتظار میں دروازے کی طرف دیکھ رہی ہے۔

دوسری طرف ایک باپ ہے جو اس امید میں اپنی جمع پونجی خرچ کر رہا ہے کہ بیٹا دوبارہ پہلے جیسا ہوجائے گا۔

ایک بہن ہے جو اپنے بھائی کے بدلتے ہوئے رویے سے خوف زدہ ہے۔

ایک استاد ہے جو دیکھ رہا ہے کہ ایک ذہین طالب علم دن بہ دن اپنی تعلیم سے دور ہوتا جا رہا ہے۔

اور دوسری طرف وہ ہاتھ ہیں جو اس نوجوان کو “صرف ایک بار” کے نام پر نشہ تھما رہے ہیں۔

یہ صرف ایک پیکٹ نہیں؛

یہ ایک گھر کے سکون کے خلاف سازش ہے۔

یہ صرف ایک گولی نہیں؛

یہ ایک طالب علم کے مستقبل پر حملہ ہے۔

یہ صرف ایک نشہ نہیں؛

یہ عقل، صحت، کردار اور خاندان کی قیمت وصول کرنے والی لعنت ہے۔

قرآن نے صدیوں پہلے سوال کیا:

﴿فَهَلْ أَنْتُمْ مُنْتَهُونَ﴾

“تو کیا تم باز آتے ہو؟”

(المائدہ: 91)

آج یہی سوال ہمارے معاشرے، ہمارے گھروں، ہمارے نوجوانوں، ہمارے تعلیمی اداروں اور ہم سب کے سامنے کھڑا ہے:

کیا ہم اپنی نسل کو نشے کے حوالے کر دیں گے، یا اسے کتاب، کردار، علم، ایمان، محنت اور باوقار زندگی کی طرف لے جائیں گے؟

یاد رکھیے:

نشہ چند لمحوں کی مصنوعی خوشی دے سکتا ہے،

مگر اس کی قیمت اکثر برسوں کی حقیقی اذیت ہوتی ہے۔

نشہ انسان کو پرواز نہیں دیتا؛

اس کے پروں کو کاٹ دیتا ہے۔

نشہ غم نہیں مٹاتا؛

غم کے ساتھ ایک نئی زنجیر بھی ڈال دیتا ہے۔

نشہ آزادی نہیں؛

ایک ایسی غلامی ہے جس کی زنجیریں نظر نہیں آتیں۔

آئیے اپنے گھروں میں محبت پیدا کریں، نوجوانوں کو مقصد دیں، اچھی صحبت دیں، کھیل اور تعمیری سرگرمیوں کے مواقع دیں، قرآن و سنت سے جوڑیں، بروقت علامات کو پہچانیں اور جو شخص اس دلدل میں پھنس چکا ہو اسے تحقیر نہیں بلکہ حکمت، علاج اور امید کا راستہ دکھائیں۔

اللہ تعالیٰ ہماری نسلوں کو ہر قسم کے نشے، برے ماحول اور شیطانی فتنوں سے محفوظ فرمائے، والدین کو حکمت، اساتذہ کو بصیرت، نوجوانوں کو پاکیزہ عزم اور ہمارے معاشرے کو اصلاح و خیر کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یارب العالمین

زر الذهاب إلى الأعلى
Ads Blocker Image Powered by Code Help Pro

Ads Blocker Detected!!!

We have detected that you are using extensions to block ads. Please support us by disabling these ads blocker.

Powered By
100% Free SEO Tools - Tool Kits PRO

اشتہارات بند کیوں ہیں؟۔

براہِ کرم ہمارے پلیٹ فارم کو سپورٹ کرنے کے لیے اشتہارات کو روکنے والی ایپ بند کر دیں۔ آپ کی معاونت ہمارے لیے اہم ہے۔