
چترال اور بونی میں ملاکنڈ ڈویژن میں وفاقی ٹیکسوں کے نفاذ کے خلاف تاجروں اور سول سوسائٹی کا شدید احتجاج، ’ٹیکس فری زون‘ کی حیثیت بحال رکھنے کا مطالبہ
چترال(چترال ایکسپریس)ملاکنڈ ڈویژن میں وفاقی ٹیکسوں کے ممکنہ نفاذ کے خلاف تجار یونین چترال اور انجمن تاجرانِ ملاکنڈ کی کال پر لوئر اور اپر چترال میں مکمل ہڑتال اور احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔ مظاہرین نے وفاقی حکومت سے ملاکنڈ ڈویژن کی ’ٹیکس فری زون‘ کی آئینی و قانونی حیثیت برقرار رکھنے کا پرزور مطالبہ کیا ہے۔
لوئر چترال میں تجار یونین کی اپیل پر اتالیق پل پر ایک عظیم الشان احتجاجی جلسہ منعقد ہوا، جس میں تاجروں، وکلاء، سیاسی و سماجی رہنماؤں
اور عام شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ مظاہرے کے باعث اتالیق پل پر آمد و رفت معطل رہی جبکہ الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کے نمائندے بھی اس موقع پر موجود تھے۔
جلسے سے تجار یونین چترال کے صدر نور احمد خان، دین محمد ندیم، عبدالولی خان ایڈووکیٹ، ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر مومن الرحمن ایڈووکیٹ، جماعت اسلامی کے رہنما مغفرت شاہ، امیر وجیہہ الدین، جے یو آئی کے قاضی نسیم، اے این پی کے صدر حاجی عید الحسین، پی ٹی آئی کے سید فرید جان اور اگیگا کے صدر ضیاء الرحمن سمیت دیگر مقررین نے خطاب کیا۔
مقررین نے حکومت کو سخت خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ملاکنڈ ڈویژن ایک انتہائی پسماندہ اور قدرتی آفات سے شدید متاثرہ علاقہ ہے، جہاں کے عوام کسی بھی قسم کا وفاقی ٹیکس ادا کرنے کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر ملاکنڈ ڈویژن کی ٹیکس فری حیثیت ختم کرنے کی کوشش کی گئی تو پورے چترال اور ملاکنڈ ڈویژن میں مکمل شٹر ڈاؤن ہڑتال، دھرنے اور دمادم مست قلندر ہوگا۔
دوسری جانب صدر انجمن تاجرانِ ملاکنڈ حاجی عبد الرحیم کی کال پر اپر چترال کے ہیڈکوارٹر بونی میں بھی
تاجروں اور آل پارٹیز کی جانب سے احتجاجی ریلی نکالی گئی جو مرکزی چوک بونی پہنچ کر بڑے جلسے میں تبدیل ہو گئی۔ جلسے کی صدارت صدر تجار یونین بونی رحیم خان اور سینئر نائب صدر محمد اسلام نے کی۔
جلسے سے جماعت اسلامی کے امیر اسد الرحمٰن، تحریک حقوقِ عوام کے صدر مختار احمد سنگین، جے یو آئی کے امیر و سابق تحصیل ناظم مولانا محمد یوسف، مسلم لیگ (ن) کے سینئر نائب صدر محمد پرویز لال، تحصیل صدر جاوید خان، سابق چیئرمین فضل الرحمٰن، سابق صدر تجار یونین محمد شفیع، نائب صدر ٹریڈ یونین بونی افسر علیم، محمد ناظم خان اور عزیز الدین لال نے خطاب کیا۔
مقررین نے اپنے خطاب میں کہا کہ اسلام آباد جیسے ترقی یافتہ شہروں کے ٹیکس قوانین اپر چترال کے غریب اور بنیادی سہولیات سے محروم عوام پر تھوپنا ناانصافی کی انتہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اشرافیہ کی مراعات کا بوجھ غریب عوام پر ڈالنے کی کسی صورت اجازت نہیں دی جائے گی۔
صدارتی خطاب میں رحیم خان نے تمام سیاسی و سماجی تنظیموں، تاجروں اور اپر چترال پریس کلب کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ صدر انجمن تاجران ملاکنڈ حاجی عبدالرحیم کی قیادت میں یہ تحریک تمام عوام کے حقوق کی جنگ ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ اگر مطالبات فوری طور پر تسلیم نہ کیے گئے تو احتجاج کا دائرہ کار بڑھا کر بھوک ہڑتال، دھرنا اور اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کیا جائے گا۔
احتجاجی جلسے کا اختتام سابق امیر جماعت اسلامی مولانا جاوید حسین کی دعائیہ کلمات پر ہوا۔
