
این ایچ اے کا گرم چشمہ روڈ پر 4 اکتوبر تک اسفالٹ بچھانے کا کام شروع کرنے کا اعلان
سابق صوبائی وزیر سلیم خان کی جی ایم این ایچ اے سید نواز خان سے پشاور میں اہم ملاقات، روڈ کی تعمیر میں تاخیر پر عوامی تشویش سے آگاہ کیا
پشاور (چترال ایکسپریس):قومی شاہراہ اتھارٹی (این ایچ اے) نے چترال گرم چشمہ روڈ کے 10 کلومیٹر حصے پر 4 اکتوبر 2026 تک ہر صورت اسفالٹ (تارکول) بچھانے کا کام شروع کرنے کی یقین دہانی کرا دی ہے۔ یہ فیصلہ پاکستان پیپلز پارٹی کے صوبائی نائب صدر و سابق صوبائی وزیر سلیم خان اور جنرل منیجر (جی ایم) این ایچ اے مینٹیننس سید نواز خان کے مابین این ایچ اے آفس پشاور میں
ہونے والی ایک اہم ملاقات کے دوران کیا گیا۔
ملاقات کے دوران سابق صوبائی وزیر سلیم خان نے جی ایم این ایچ اے کو گرم چشمہ روڈ کی تعمیر میں غیر ضروری تاخیر پر شدید تحفظات اور عوامی اشتعال سے آگاہ کیا۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ چترال میں موسم تیزی سے سرد ہو رہا ہے، اور شدید سردی میں اسفالٹ بچھانے سے کام کا معیار متاثر ہوتا ہے۔ سلیم خان نے این ایچ اے حکام سے مطالبہ کیا کہ 3 یا 4 اکتوبر تک ہر صورت میں تارکول بچھانے کا کام شروع کیا جائے تاکہ عوام کو درپیش مشکلات کا خاتمہ ہو سکے۔
جی ایم این ایچ اے سید نواز خان نے سلیم خان کے مطالبات کا مثبت جواب دیتے ہوئے وعدہ کیا کہ 4 اکتوبر تک گرم چشمہ روڈ پر اسفالٹ بچھانے کا کام لازمی شروع کر دیا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ معیا ر پر کوئی سمجھوتہ کیے بغیر موسم کی مطابقت سے 10 کلومیٹر کے حصے پر کام جلد از جلد مکمل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔
تاخیر کی وجہ بیان کرتے ہوئے جی ایم این ایچ اے نے بتایا کہ این ایچ اے کی مشینری بمبوریت روڈ پر مصروف ہونے کی وجہ سے گرم چشمہ روڈ کے کام میں تاخیر ہوئی۔ انہوں نے اس تاخیر پر معذرت کرتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ اب مزید کوئی تاخیر نہیں کی جائے گی۔
جی ایم این ایچ اے نے مزید انکشاف کیا کہ 82 کلومیٹر طویل “چترال تا گرم چشمہ – دوراہ پاس” میگا پروجیکٹ کے PC-1 کی منظوری آخری مراحل میں ہے اور اسے اگلے سال کے ADP (سالانہ ترقیاتی پروگرام) میں شامل کر لیا جائے گا۔
سابق صوبائی وزیر سلیم خان نے واضح کیا کہ گرم چشمہ کے عوام اب کسی بھی مزید تاخیری حربے کو برداشت کرنے کے موڈ میں نہیں ہیں، لہٰذا مقررہ ڈیڈ لائن پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔ آخر میں انہوں نے عوامی مطالبے پر توجہ دینے پر جی ایم این ایچ اے اور وفاقی حکومت کا شکریہ ادا کیا اور امید ظاہر کی کہ اس مرتبہ مقررہ تاریخ کے اندر کام کا باقاعدہ آغاز کر دیا جائے گا۔
