
پٹرولیم لیوی ختم نہ کی تو اسلام آباد کی طرف مارچ کریں گے: جماعتِ اسلامی چترال
چترال(چترال ایکسپریس)امیرِ جماعتِ اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمٰن کی اپیل پر ملک بھر کی طرح چترال اور اپر چترال میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں اور پٹرولیم لیوی میں اضافے کے خلاف شدید احتجاجی مظاہرے کیے گئے، جبکہ حکومت کو خبردار کیا گیا ہے کہ اگر مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ اور دھرنا دیا جائے گا۔
لوئرچترال میں احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے امیرِ جماعتِ اسلامی چترال وجیہ الدین نے
کہا کہ وزیراعظم کی یقین دہانی پر احتجاجی تحریک مؤخر کی گئی تھی، لیکن وعدہ خلافی کے باعث تحریک کا دوبارہ آغاز کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے صوبے میں گورنر راج کے نفاذ اور سیاسی کارکنوں کی گرفتاریوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ عوامی وسائل لوٹنے والوں کے بجائے سیاسی کارکنوں کو انتقام کا نشانہ بنانا افسوسناک ہے۔
انہوں نے سابق ڈی سی لوئر چترال راؤ ہاشم عظیم کی انکوائری رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے چترال کے ترقیاتی منصوبوں، ڈیزاسٹر مینجمنٹ اور بیوٹیفکیشن کے نام پر ہونے والی مبینہ کرپشن کے ذمہ داروں کے خلاف فوری اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا۔
وجیہ الدین نے دروش اور چترال میں بجلی کی شدید لوڈشیڈنگ اور محکمے کی بدانتظامی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ 106 میگاواٹ بجلی پیدا کرنے والے خطے کے عوام کو صرف 3 لائن مینوں اور 3 میٹر ریڈرز کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ انہوں نے میٹر ریڈنگ میں تاخیر، کئی ماہ کے یک مشت بھاری بلوں کی ترسیل اور غیر ضروری لوڈشیڈنگ کو فوری ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب بونی چوک (اپر چترال) میں نمازِ جمعہ کے بعد امیرِ جماعتِ اسلامی اپر چترال اسد الرحمٰن کی زیرِ صدارت بڑا احتجاجی جلسہ منعقد ہوا۔
جلسے سے ڈپٹی سیکریٹری شجاع الدین لال، نائب امیر مختار احمد لال، جنرل سیکریٹری اشفاق احمد اور یوتھ صدر (موڑکھؤ) امین الرحمٰن نے بھی خطاب کیا۔
مقررین نے پٹرولیم لیوی کو ٹیکس کے بجائے “بھتہ” قرار دیتے ہوئے کہا کہ غریب عوام کی جیبوں پر ڈاکہ ڈال کر اشرافیہ کی عیاشیاں پوری کی جا رہی ہیں۔ صدارتی خطاب میں اسد الرحمٰن نے واضح کیا کہ اپر چترال کے کارکنان مرکزی قیادت کی اپیل پر اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ اور دھرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔
انہوں نے مقامی انتظامیہ کے دہراؤ معیار کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ کھیل تماشوں کے لیے ہزاروں افراد جمع ہوں تو قانون خاموش رہتا ہے، لیکن عوامی حقوق کی بات پر دفعہ 144 نافذ کر دی جاتی ہے۔ اسد الرحمٰن نے ملاکنڈ ڈویژن پر ٹیکسوں کے نفاذ کا فیصلہ واپس لینے اور تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال بونی کو کیٹگری ‘ڈی’ سے کیٹگری ‘سی’ میں اپ گریڈ کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ہسپتال کو کیٹگری ‘ڈی’ کی حیثیت سے آؤٹ سورس کرنے کے خلاف آل پارٹیز کا احتجاج صرف عارضی طور پر مؤخر کیا گیا ہے، اگر مسئلہ حل نہ ہوا تو دوبارہ دھرنا دیا جائے گا۔
احتجاز کے اختتام پر نائب امیر مختار احمد نے دعائیہ کلمات ادا کیے۔
