
مدرسہ عثمانیہ گلشن آباد چمرکن میں سالانہ تقریبِ دستار بندی و تقسیمِ جوائز کا باوقار انعقاد
چترال (چترال ایکسپریس): مدرسہ عثمانیہ گلشن آباد چمرکن میں سالانہ تقریبِ دستار بندیِ حفاظِ کرام و تقسیمِ جوائز نہایت تزک و احتشام اور روح پرور ماحول میں منعقد ہوئی۔ تقریب میں کلامِ الٰہی حفظ کرنے والے 7 خوش نصیب حفاظِ کرام کی دستار بندی کی گئی، جبکہ تعلیم و تربیت اور نظم و ضبط میں نمایاں کارکردگی دکھانے والے طلبہ کو خصوصی انعامات سے نوازا گیا۔
تقریب کی صدارت امیرِ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت (حلقہ چمرکن) حضرت قاری محمد یوسف صاحب نے فرمائی، جبکہ مسؤل وفاق المدارس العربیہ ضلع لوئر چترال استاذ القراء حضرت قاری عبدالرحمن قریشی صاحب نے بطورِ خاص شرکت کی اور حفاظِ کرام سے آخری سبق سماعت فرمایا۔ تقریب میں پروفیسر مفتی عتیق الرحمٰن (گورنمنٹ ڈگری کالج چترال) اور مفتی میر حسام الدین (سینئر اسلامیات ٹیچر، ایون) نے بحیثیت مہمانِ خصوصی و مقرر شرکت کی۔ نظامت کے فرائض مہتمم مدرسہ مولانا قاری حبیب الرحمن صاحب نے انجام دیے جبکہ آغاز قاری خضر حیات کی تلاوت سے ہوا۔
اس موقع پر میزبان کی حیثیت سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا محمد قاسم صاحب (جن کے فرزند سلمان قاسمی نے بھی حفظِ قرآن کی سعادت حاصل کی) نے تمام معزز مہمان علمائے کرام اور شرکاء کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ علمائے کرام کی تشریف آوری تمام حفاظ اور ان کے والدین کے لیے باعثِ
سعادت و افتخار ہے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مہمانِ خصوصی پروفیسر مفتی عتیق الرحمٰن نے نوجوان نسل کو درپیش جدید فکری و اخلاقی چیلنجز پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے سوشل میڈیا (فیس بک، یوٹیوب، انسٹاگرام) کے مثبت و داوتی استعمال پر زور دیتے ہوئے نوجوانوں کو گمراہ کن افکار اور نام نہاد اسکالرز سے ہوشیار رہنے کی تلقین کی۔
دیگر مقررین مفتی میر حسام الدین اور قاری محمد یوسف صاحب نے اپنے خطاب میں حفظِ قرآن کی عظمت، والدین کی ذمہ داریوں اور اساتذہ کی بے لوث خدمات پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ انہوں نے واضح کیا کہ دستارِ فضیلت محض ایک اعزاز نہیں بلکہ ایک عظیم ذمہ داری ہے، جس کا تقاضا ہے کہ حفاظ اپنے اخلاق و عمل سے قرآن کی سچی تصویر بنیں۔
تقریب کے دوران نمایاں کارکردگی پر تین طلبہ کو بالخصوص سراہا گیا:
مفتی سلمان قاسمی (ولد مولانا محمد قاسم): جنہوں نے محض 9 ماہ کے مختصر عرصے میں قرآن پاک حفظ کیا اور بہترین حاضری و نظم و ضبط کا مظاہرہ کیا۔
عدنان کریم (ولد فضل کریم): جنہوں نے کم مدت میں حفظ مکمل کرنے کے ساتھ اخلاق و صفائی میں نمایاں مقام حاصل کیا۔
محمد حمید (ولد مولانا حزب اللہ): جنہوں نے دورانِ حفظ اعلیٰ تعلیمی رویے اور پابندیِ وقت پر خصوصی انعام حاصل کیا۔
واضح رہے کہ مدرسہ عثمانیہ کی بنیاد اگست 1999ء میں فاضل دارالعلوم کراچی حضرت مولانا حافظ قاری حبیب الرحمٰن صاحب نے رکھی، جو تب سے علاقے میں دینی تعلیم و اخلاقی تربیت کی شمع روشن کیے ہوئے ہیں۔
تقریب کا اختتام ملک و ملت کی سلامتی، امتِ مسلمہ کے اتحاد اور مدرسے کی ترقی کے لیے کی جانے والی رقت انگیز دعا اور حاضرین کے لیے وسیع ضیافت پر ہوا۔
