تازہ ترین

متاثرین کو مزید سیلاب سے بچانے کے لئے فیصلہ جات پر عملدرآمد کرواکر تمام بکریوں کو ریشن کے چراگاہوں سے بھگایا جائے۔

چترال ( نمائندہ چترال ایکسپریس ) بالائی چترال میں سیلاب سے متاثرہ گاؤں ریشن کے باشندوں نے وزیر اعلی خیبر پختونخوا اورچیف سیکرٹری خیبر پختونخوا سے تحصیل مستوج کی موجودہ انتظامیہ کو فوری طور پر تبدیل کرنے اور غیر جانبدار آفیسران کے تعیناتی کا مطالبہ کیا ہے ۔ اور کہا ہے ۔ کہ موجودہ انتظامیہ کی اقرباء پروری ،رشتہ پرستی اور مفاد پرست ٹولے کی حمایت کی بنا پر حکومتی واضح فیصلہ جات پر عملدر آمد نہ ہونے کے باعث ہزاروں مویشی ریشن کے بالائی چراگاہوں میں موجود ہیں ۔ جس کی وجہ سے جنگلات اور سبزے کی بیخ کنی کے باعث تباہ کُن سیلاب سے ریشن کے لوگ مہاجر بن کر رہ گئے ہیں ۔ گذشتہ روز ریشن کے مقام پر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سابق ناظم امیراللہ ، صو بیدار ( ر) امیر الدین ، محمد نظام الدین ، (ریٹائرڈ) تھانیدار عبدالصمد خان ،محمد زاہد ،غلام علی ،عبد الرب ،(ر) صوبیدار میجر کاکا جان و دیگر نے کہا ۔ کہ ریشن میں سیلاب کی سب سے بڑی وجہ یہاں کے بالائی چراگاہوں میں غیر مقامی لوگوں کی ہزاروں بکریوں کی موجودگی ہے ۔ جنہیں چند لوگ یہاں پال کر مفادات حاصل کرتے ہیں ۔ ان بکریوں کو علاقے سے نکالنے کیلئے حکومتی فیصلہ جات موجود ہیں ۔ لیکن تحصیل مستوج میں موجود انتظامیہ کے آفیسران اپنے رشتہ دار مفاد پرست ٹولہ کی خاطر فیصلے پر عملدرآمد کرکے بکریوں کو ان چراگاہوں سے نکالنے میں مسلسل لیت و لعل سے کام لے رہے ہیں ۔ اور نتیجتا جنگلات اور سبزا ختم ہونے کی وجہ سے بارش ہوتے ہی علاقہ سیلاب کی زد میں آجاتا ہے ۔ اور تباہی آجاتی ہے ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ ریشن کے تین سو گھرانے مستقل بنیادوں پر ہجرت کرنے پر مجبور ہو چکے ہیں ۔ مکانات اور زمینات سیلاب کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں ۔ جبکہ مستقبل میں انتظامیہ کی اقرباء پروری ، مفاد پرست عناصر کی سرپرستی اور فیصلہ جات پر عملدرآمد میں تاخیر کی بنا پر مال مویشیوں کی موجودگی سے مزید سیلابی تباہی کے واضح امکانات ہیں ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ انتظامیہ ایک فریق کی پشت پناہی کرکے ریشن میں تصادم کی فضا پیدا کرنا چاہتا ہے ۔ اور حکومت کیلئے دانستہ طور پر مشکلات پیدا کرنے کی سازش کی جارہی ہے ۔ لیکن ہم قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے کی بجائے بالائی حکومت سے اپیل کرتے ہیں ۔ کہ فیصلہ جات پر عملدرآمد کرواکر تمام بکریوں کو ریشن کے چراگاہوں سے بھگایا جائے ۔ اور متاثرین کو مزید تباہ کرنے کی بجائے ان کے تحفظ کیلئے اقدامت کئے جائیں ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ مستوج کی موجودہ انتظامیہ کی موجودگی میں یہ کام ممکن نہیں ۔ اس لئے ان کی جگہ غیر جانبدار آفیسران کا یہاں تبادلہ کرکے علاقے اور عوام پر رحم کیا جائے ۔


اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ مواد

اترك تعليقاً

إغلاق