تازہ ترین

خود کو ہیکاپ کے عہدہ دار ظاہر کرنے والے ظہیرالدین بابر اور سید مظفر شاہ کا ہیکاپ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔شہزادہ فرہاد عزیز

چترال ( نمائندہ چترال ایکسپریس) ہندو کُش ایسوسی ایشن فار پیراگلائڈنگ )ہیکاپ) چترال کے صدر شہزادہ فرہاد عزیز نے کہا ہے ۔کہ بعض لوگ ذاتی مفادات کے حصول میں ناکامی کے بعد ایسو سی ایشن کو بلیک میل کرنے کی غرض سے خود کو ہیکاپ کے بانیوں میں ظاہر کرنے کی ناکام کوشش کررہے ہیں ۔ جبکہ حقیقت یہ ہے ۔ کہ ان لوگوں نے ہمارا دامن پکڑ کر اُڑنا سیکھا ۔چترال پریس کلب میں جمعرات کے روز ہیکاپ کے دیگر ممبران سید سجاد حسین شاہ ، سید معراج حسین ،بلور خان ، ساجد ضیا ء ، آصف علی،فاروق اقبال و غیرہ کے ہمراہ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے گذشتہ روز خود کو ہیکاپ کے عہدہ دار ظاہر کرنے والے ظہیرالدین بابر اور سید مظفر شاہ کے الزامات کو سختی سے مسترد کیا ۔ اور کہا ۔ کہ 2011کے بعد اُن کا ہیکاپ سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔ اس لئے وہ نہ ہیکاپ کا نام استعمال کرسکتے ہیں ۔ اور نہ مالیاتی امور کے حوالے سے پوچھنے کا حق رکھتے ہیں ۔ انہوں نے چترال میں پیراگلائڈنگ کے سلسلے میں تفصیلات بتاتے ہوئے کہا ۔ کہ چترال میں سب سے پہلے پیراگلائڈنگ کی بنیاد 2004میں شہزادہ سراج الملک ، سیف اللہ جان اور شہزادہ فرہاد عزیز نے رکھی ۔ 2007میں ایسوسی ایشن کا قیام عمل میں آیا ۔ شمس الدین اس کے سیکرٹری رہے ۔ 2008میں بونی کے چار افراد اس ایسوسی ایشن میں بطور ممبر لئے گئے ۔ جن میں ظہیر الدین ،سید مظفر وغیرہ شامل تھے ۔ جبکہ 2009میں ہیکاپ کو سوشل ویلفیئر کے ساتھ رجسٹرڈ کیاگیا ۔ اس دوران ہم نے اپنے ذاتی وسائل سے ونگز حاصل کرکے ممبران کو ٹریننگ دی ۔ اورممبران کی تعداد بڑھ گئی ۔ اس دوران شندور فیسٹول کے موقع پر پیراگلائڈنگ کیلئے جب بیرونی ٹیم آئی ۔ تو ہیکاپ نے یہ کہہ کر احتجاج کیا ۔ کہ چترال میں پائلٹوں کی بڑی ٹیم موجود ہے ۔ اس لئے برونی ٹیم کو دیے جانے والے فنڈز ہیکاپ کو دیے جائیں ۔ اور یہ اس علاقے کے پائلٹوں کا حق بنتا ہے ۔ اُس وقت بونی کے موجودہ منحرف افراد ہیکاپ سے بغاوت کرکے تریچمیر پیراگلائڈنگ کے نام سے تنظیم قائم کرکے بیرونی پیراگلائڈنگ ٹیم کا حصہ بنے اور اپنا راستہ مستقل طور پر جدا کر لیا ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ ظہیر الدین اور سید مظٖفر شاہ سمیت اُن کے دیگر ساتھیوں کا موجودہ وقت میں ہیکاپ کا حصہ ہونے کا دعوی حقیقت کے بالکل بر عکس ہے ۔ کیونکہ انہوں نے 2011میں اپنا راستہ خود ہیکاپ سے جدا کرلیا تھا ۔ اور ہیکاپ نے اُن کے غلط رویے کی بنا پر جنرل باڈی کا اجلاس بلا کر متفقہ قرارداد کے ذریعے اُنہیں خارج کر دیا ہے ۔ جس کے تمام دستاویزات موجود ہیں ۔ انہوں نے کرپشن کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ۔ کہ تمام مالی امور کی اپڈیٹڈ دستاویزات اور اڈٹ رپورٹ موجود ہیں ۔ انہوں نے ہیکاپ کے منحرف جنرل سیکرٹری پر الزام لگا یا ۔ کہ غلام سرور کے رویوں سے ہیکاپ کو نقصان پہنچا ۔ اور وہ کسی ایک بات پر نہیں ٹکتے ۔ آج وہ جن کے ساتھ ناچ رہے ہیں ۔ انہی کے خلاف انہوں نے پولیس میں طویل بیان ریکارڈ کیا ہے ۔ جو ہیکاپ کے پاس محفوظ ہے ۔ انہوں نے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا ۔ کہ ہیکاپ کے جنرل سیکرٹری شمس الدین نے سوشل ویلفیئر میں رجسٹریشن کرتے وقت اپنے گھر بونی کا پوسٹل ایڈریس لکھا ہے ۔ جس کا ہر گز یہ مطلب نہیں ۔ کہ ہیکاپ بونی کے نام پر رجسٹرڈ ہو اہے ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ اس تنازعے کے حل میں سوشل ویلفیئر آفیسر کا بیان حتمی کردار ادا کر سکتا ہے ۔ لیکن بار بار پولیس کی طرف سے بیان دینے کے اسرار کے باوجود مذکورہ آفیسر گریزان ہے ۔ اور ہیکاپ اُن کے خلاف اقدامات پر بھی سوچ رہا ہے ۔


اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ مواد

اترك تعليقاً

إغلاق