تازہ ترین

جماعت اسلامی پی ٹی آئی کے ساتھ خوش نہیں تو وہ الگ ہوجائیں۔ایم پی اے بی بی فوزیہ

ٓچترال(نمائندہ چترال ایکسپریس)ڈسٹرکٹ ناظم ،جماعت اسلامی کے نمائندے اور پی پی پی کے ایم پی ایزآئیں دن پریس کانفرنس اور اکباری بیانات دے کر کرکے خود کو مظلوم بناکر عوام کی آنکھوں میں دھول جھونک رہے ہیں۔پالیمانی سکرٹری ایم پی اے بی بی فوزیہ نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ منتخب نمائندے یا تو اپنے اختیارات کے بارے میں نہیں جانتے یا سب کچھ جانکر صوبائی حکومت کو بدنام کرنے کی سازش کررہے ہیں۔پچھلے سال سیلاب کے دوران وزیراعلیٰ اور اُن کی کبینٹ کے اہم وزار چترال میں تین دن تک موجودرہے۔سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیے۔اور ایمرجنسی میں مین روڈز اور پل بحال کیے۔پائپ لائن اور چینل کو بحال کیا گیا۔اور جولائی ہی میں بحالی کے لئے فنڈ جاری ہوئے مگر ضلعی حکومت کی عدم دلچسپی اور ایم پی ایز کے من مانی کی وجہ سے وہ فنڈ تاہم استعمال نہیں ہوئے۔منتخب عوامی نمائندے اپنی سیاست چمکانے کے لئے اپنی مرضی کے منصونے شامل کرنا چاہتے ہیں جو سراسر ناانصافی ہے۔وزیر اعلیٰ نے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں سی ڈی ایل ڈی کے پراجیکٹ کرنے کے احکامات جاری کیے مگر حیرانگی کی بات یہ ہے کہ فنڈز کو استعمال کرنے کے بجائے پریس کانفرنس ہورہے ہیں۔صوبائی حکومت نے عوامی مسائل کو حل کرنے کے لئے ہی بلدیاتی نظام متعارف کروایا مگر افسو س کی بات ہے کہ اختیارات کے ساتھ فنڈز بھی استعمال نہیں ہورہے ہیں۔جہاں تک لوکل گورنمنٹ فنڈ کی کٹوٹی کا معاملہ ہے تو ابھی کوئی فیصلہ نہیں ہوا ہے۔مرکزی گورنمنٹ کی طرف سے صوبے کو فنڈ نہیں ملے ہیں لیکن جون میں متوقع ہے کہ فنڈ مل جائینگے تو فنڈ میں کٹوٹی نہیں ہوگی۔ایم پی اے بی بی فوزیہ نے مزید کہا کہ موجودہ صورت حال میں ان کی درخواست پروزیراعلیٰ نے ایک میٹنگ بلائی ہے جس میں ایم پی ایز،ڈسٹرکٹ ناظم اور ڈی سی چترال شرکت کرینگے۔اوراس میٹنگ میں اب تک کے پراگرس اور پنڈنگ پراجیکٹ کے بارے وزیراعلیٰ کو بریفنگ دی جائیگی تاکہ آئیندہ کے لئے لائحہ عمل طے ہوسکے۔میٹنگ میں ریشن پاؤر ہاؤس کے حوالے سے بھی بحث ہوگی۔بی بی فوزیہ نے مزید بتایا کہ رسکیو1122اس سال چترال میں کام شروع کریگا۔عبدالاکبر چترالی کے بیان پہ شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جماعت اسلامی پی ٹی آئی کے ساتھ خوش نہیں تو وہ الگ ہوجائیں۔ایم ایم اے اور پی پی پی نے اپنے دور حکومت میں 50کلوواٹ کے ہائڈل پراجیکٹ نہ بناسکے اور آج ریشن پاؤر پہ سیاست کررہے ہیں۔جبکہ پی ٹی آئی کے حکومت کے 55منصوبے چترال میں جاری ہیں۔اُنہوں نے عبدالاکبر کو اپنی باری تک انتظار کرنے کا بھی مشورہ دی۔اُنہوں نے پی پی پی کے ممبران کو مشورہ دیا کہ بجٹ سیشن کا بائیکاٹ کرنے کے بجائے اسمبلی فلور میں آکرٹف ٹائم دے۔


اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ مواد

اترك تعليقاً

إغلاق