تازہ ترین

پڑوسی ملک بھارت کی شرارت سے شندور کی سرزمین پر جھگڑے اٹھائے جارہے ہیں: جلا ل الدین ممبرتحصیل کونسل

پڑوسی ملک بھارت کی شرارت سے شندور کی سرزمین پر گلگت بلتستان کے بعض شر پسند عناصر نئے نئے جھگڑے اُٹھا رہے ہیں اور بعض دوسرے لوگ لالچ کا شکار ہو کر شرپسندوں کی حمایت کرتے ہوئے نظر آرہے ہیں ایسے لوگوں کو گمنام سمجھ کر خاموش رہنے سے یہ تاثر پھیلتا ہے کہ ان کی بے سر وپا گفتگو نے لاسپور کے لوگوں کو لا جواب کر دیا دراصل ان کی تحریروں میں جواب کے قابل کوئی بات ہی نہیں لاسپور کے محب وطن عوام نے 2010 میں تحریری بیاں دیا تھا جو ہفت روزہ پلس (Pulse) کر اچی اور دیگر اخبارات میں شائع ہوا بیان میں اس حقیقت سے پردہ اُٹھا یا گیا کہ سر فراز شاہ نامی شخص بھارتی ایجنسی (RAW) کے لئے کام کرتا ہے 6 سال بعد 15 اگست 2016 کو بھارتی وزیر اعظم نریند ر مودی نے اپنی تقریر میں اعتراف کیا کہ گلگت بلتستا ن میں ہمارے خیر خواہ اور ہمدرد موجود ہیں جو ہمارے لئے کام کرتے ہیں ۔بھارتی وزیراعظم کا بیان سامنے آنے کے بعد راء کے ساتھ سر فراز شاہ کے خفیہ رابطوں کی قلعی کھل گئی اب اس کو راز میں رکھنے کی کوئی گنجائش نہیں رہی ۔کریم اللہ نامی کسی شخص نے مطالبہ کیا ہے کہ اکاش وانی اور آل انڈیا ریڈیو کی ریکارڈ نگ کو سوشل میڈیا کے ذریعے منظر عام لا یا جائے یہ بچگانہ مطالبہ ہے اس کی ریکارڈ نگ 26 اپریل 2015 کے روز متعلقہ اداروں کو پیش کی گئی ہے ایسے معامالات کو سرکاری زبان میں حساس معلومات کا نام دیا جاتاہے اور حساس معلومات پر ایرے غیر ے کونہیں دی جاتیں اس طرح کا مطالبہ نہایت بچگانہ مطالبہ ہے مجھے اس بات پر افسو س ہوا کہ کریم اللہ نامی شخص نے محمد شہاب الدین ایڈوکیٹ کو تاریخ اور سماجی علوم سے بے بہر ہ ہونے کا طعنہ دیا ہے ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی کو اس نے سطحی معلومات رکھنے کا طعنہ دیا ہے میرا صرف ایک مطالبہ ہے مطالبہ یہ ہے کہ کریم اللہ نامی شخص1843 کے معاہد ہ امر تسر کا کوئی ایک اقتباس اور 1947 میں ڈوگرہ حکمران کی طرف سے شندور کے اُس پار لنگر سے لیکر کارگل تک گلگت بلتستان او رغذر کا علاقہ بھارت میں شامل کرنے کی دستا ویز سے دوسطریں اپنے کالم میں دے اور ثابت کرے کہ شندور کے معاملے میں بھارت ملوث نہیں ہے میں جانتا ہوں کہ کریم اللہ نامی شخص کے لئے یہ کام مشکل ہے میں آسان مطالبہ سامنے رکھتا ہوں قائد عوام ذولفقار علی بھٹو شہید کے حکم سے قائم ہونے والے فیڈرل پنڈ کمیشن نے شندو ر کے بارے میں 5 اگست 1975 کو نوٹی فیکیشن جاری کیا وہ سرکاری گزٹ میں شائع ہوا ہے اُس میں شندور کے دونوں پولو گراؤنڈ خیبر پختونخوا (سابق این ڈبلیو ایف پی ) کی ملکیت قرار دیے گئے میں اس نوٹی فیکشن کو کوئی معقول جواب لکھ کر سرفراز شاہ اور محمد مجاہد کے ہاتھ میں دید ے تاکہ وہ اپنے بھارتی آقاؤں کا نمک حلال کر سکیں اگر یہ بھی کریم اللہ نامی شخص اور فدا علی شاہ غذری جیسے لوگوں کے بس میں نہیں ہے تو پھر اپنی حدود میں رہیں سورج کو چراغ نہ دکھا ئیں آسمان پر تھو کنے کی جسارت نہ کریں سرفراز شاہ اور محمد علی مجاہد کو یہ تکلیف ہے کہ شندور میں ’’ دل دل پاکستان ‘‘ کے نشانات کیوں لگے ہوئے ہیں چترال سکاؤٹس کا پوسٹ کس لئے قائم ہوا ہے یہ وہ درد ہے جو بھارت کے پیٹ میں بھی مروڑ پیدا کر تا ہے لاسپور کے عوام ’’ د ل دل پاکستان ‘‘ کے نشانات کو کبھی مٹانے نہیں دینگے کھوار میں مشہور مصرعہ ہے
’’ لاسپریکو سُم بول بوغے ‘‘ یہ بات آج بھی اپنی جگہ درست ہے ۔


اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ مواد

اترك تعليقاً

إغلاق