تازہ ترین

ذرا سوچئے ۔۔۔

 ادارے کا مرسلہ نگار سے متفق ہونا ضروی نہیں
………………تحریر :ہماحیات چترال
یہ بات تو سچ ہے کہ ہم ترقیاتی کاموں میں کچھ زیادہ ہی بڑھ چڑ ھ کر حصہ لیتے ہیں اور اتنے جوش و جذبے کے ساتھ کا م کرتے ہیں کہ دیکھنے والے دیکھتے ہی رہ جاتے ہیں ہم اپنے کام میں اتنے مگن اور پکے ہوتے ہیں کہ اپنے اخراجات پر بھی نظر ثانی نہیں کرتے اب آپ خود غور کریں اور کہیں کہ بچی نادان ہے کچھ بھی بول رہی ہے حال ہی میں ہمارے ایم پی اے صاحب نے بونی چوک سے لیکر آغاخان ہیلتھ سنٹرتک ایک روڈ بنایا تھا جس میں انہوں نے تین ملین سے زیادہ کا بجٹ استعمال ہوا تھا لیکن آج آپ وہاں جاکر دیکھیں ایسا لگ رہا ہے جیسے وہاں کچھ ہوا ہی نہ ہو سڑک پر پھر وہی کیچڑ اور درختوں پر وہی دھول مٹی حالانکہ اس سڑک کو بنے ابھی ایک سال کا عرصہ بھی نہیں ہواہے یہی نہیں بلکہ بونی بازار میں داخل ہوتے وقت اگر آپ کی گاڑی کا سامنا کسی اور گاڑی سے ہوجائے تو ایک دوسرے کے احترام میں ایک دوسرے کو راستہ دینا گویا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے یوں تو علاقہ چھوٹا ہے لیکن ہمارے ایم این اے اورایم پی اے کی غفلتوں کی وجہ سے بڑے بڑے مسائل سامنے آتے ہیں صر ف بونی ہی نہیں بلکہ بہت سے ایسے منصوبے ہیں جن کا بل دکھا کر رقم تو وصول کیا جا چکا ہے لیکن وہاں کام کے کوئی اثار نظر نہیں آتے اب سوال یہ ہے کہ میں بونی پر ہی کیوں نکتہ چینی کر رہی ہوں سیدھی سی بات ہے آپ خود جائزہ لیں پچھلے سال سے ہم بونی میں لیڈر ز کا انتخاب کر رہے ہیں ہمارے سابق MPAصاحب بھی بونی سے تعلق رکھتے تھے اور ہمارے موجودہ MPAصاحب بھی بونی ہی کے رہنے والے ہیں ساتھ ساتھ ہمارے سابق تحصیل ناظم بونی ہی کے ہیں لیکن افسوس وہ کسی اور علاقے کو چھوڑئے اپنے ہی گاؤں میں تبدیلی نہیں لاسکے اور جہاں تک بات بونی کے لوگوں کی ہے وہ اتنا فخر محسوس کرتے ہیں کہ ان کی خامیوں میں بھی انکو خوبیاں نظرآتی ہیں جناب!میں جانتی ہوں کہ بونی لیڈرز پیدا کرنے میں سب سے آگے ہے لیکن اپنا کردار ادا کرنے میں سب سے پیچھے ۔اب میر ا سوال صوبائی حکومت سے یہ ہے کہ آپ کیوں نہیں پوچھتے کہ آپ کا اتنا بجٹ آخر جاتا کہاں ہے ؟پیسہ تو وصول کیا جاتا ہے لیکن اس کا مناسب استعمال ہو رہا ہے ؟کیا عوام صوبائی حکومت کے کام سے خوش ہیں ؟یہ کچھ ایسے سوالات ہیں اگر آپ لیڈرو ں سے پوچھے کہ ہم نے تو کیا تھا لیکن قدرتی آفات کو کون روک سکتا ہے ؟سیلاب سب کچھ بہاکر لے گیا عوام تو اس جواب سے مطمئن نہیں ہے اور یہی سمجھانا ہے کہ اوپر سے لیکر نیچے تک پورا نظام گڑ بڑ ہے ۔
اب لیڈروں کے لئے میرا مشورہ ہے کہ ذرا سوچئے ۔۔۔پہلے عوام کے لئے اپنے دل میں ہمدردی پیدا کریں پھر کالا چوغا پہن کر اسٹیچ پر بر اجمان ہوں ۔
اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ مواد

اترك تعليقاً

إغلاق