تازہ ترین

سائنسی تحقیق اور آفات کے حوالے سے معلومات اور تجربات کے مطابق چترال کے 371گاؤں انتہائی خطرناک قرار

چترال ( محکم الدین ) فوکس ہیومنٹیرین اسسٹنس نے خبر دار کیا ہے ۔ کہ چترال شدید طور پر قدرتی آفات کی زد میں ہے ۔ اس لئے انسانی جانوں کے تحفظ اور املاک کو بچانے کیلئے ضروری ہے ۔ کہ میپنگ سے نشاندہی شدہ مقامات میں رہائشی مکانات ، سرکاری املاک سمیت دیگر انفراسٹرکچر کی تعمیر میں احتیاط برتی جائے ۔ چترال کے ایک مقامی ہوٹل میں فوکس کے زیر اہتمام “ہیزارڈ میپنگ اور رسک اسسمنٹ “کے موضوع پر منعقدہ سمینار سے خطاب کرتے ہوئے سی ای او فوکس نصرت نصاب نے کہا ۔ کہ چترال آفات کا گھر بن چکا ہے ۔ اور یہ دُنیا کا واحد خطہ ہے ، جو سو فیصد آفات کے نقصانات کی زد میں ہے ۔ یہاں چاروں موسم میں سیلاب ، زلزلہ ، برف اورپہاڑی تودوں کے گرنے اور لینڈ سلائڈنگ کے حالات سے لوگ دوچار ہیں ۔ اس لئے لوگوں کو ان نقصانات سے بچنے کیلئے آگہی و معلومات مستند سائنسی اداروں سے حاصل کرکے اُس پر عمل کرنا چاہیے ۔ تاکہ آفات سے دوچار ہونے کی صورت میں کم سے کم نقصانات ہوں ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ اس کیلئے کمیونٹیز ، سرکاری اداروں اور غیر سرکاری اداروں سب کو مل کر ایک مشترکہ حکمت عملی اور پلان کے تحت اقدامات کرنے چاہئیں ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ اس بات کی اشد ضرورت ہے ۔ کہ حکومت جہاں کروڑوں روپے کے سکول یا دیگر تعمیرات کرتا ہے ۔ تو اُن کو ایسے جگہے میں تعمیر نہ کیا جائے ۔ کہ اُن بلڈنگز اور اُس سے مستفید ہونے والے سکولوں کے بچے یا دیگر اداروں کے اہلکاروں کی جانوں کو خطرہ ہو ۔ اس لئے جانی اور مالی نقصانات سے بچنے کیلئے اُن کی پہلے رسک اسسمنٹ کی جائے ۔ جس کی سہولت فوکس ہیومنٹیرئن اسسٹنٹس مہیا کر سکتا ہے ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ چترال جغرافیائی اور ترقی کے لحاظ سے دور اُفتادہ ضلع ہے ۔ اس لئے یہاں آفات سے متعلق معلومات کی فراہمی بھی ایک بڑا مسئلہ ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ کئی انسانی جانیں گذشتہ کئی سالوں سے مختلف آفات کی وجہ سے ضائع ہو رہی ہیں ۔ پراجیکٹ منیجر سلمان الدین نے ایک پریزنٹیشن کے ذریعے چترال کے خطرناک مقامات کی تفصیل بتائی اور کہا ۔ کہ سائنسی تحقیق اور آفات کے حوالے سے معلومات اور تجربات کے مطابق چترال کے 650دیہات میں سے 371گاؤں انتہائی خطرناک قرار دیے گئے ہیں ۔ دس گلیشئرز خوفناک رسک پر ہیں ، پانچ سلائڈنگ ایریاز اور 103 مقامات برف کے تودے گرنے کے زد میں ہیں ۔ 702سکولوں میں سے 376سکول خطرناک حالت سے دوچار ہیں ۔ جبکہ 207سکول خطرناک ترین ایریاز میں موجود ہیں ، اسی طرح 1117عبادت گاہوں میں سے 670کو انتہائی خطرات درپیش ہیں ،91ہیلتھ یونٹس میں سے 43کو اور 125پُلوں کو شدید خطرہ ہے ۔ جبکہ 968دیگر انفراسٹرکچر سیلاب ، سلائڈنگ ، پہاڑی تودے اور کٹاؤ کا شکار ہیں ، اس لئے بار بار کے حادثات کے نقصانات کو کم کرنے کیلئے ٹھوس اقدامات کئے جانے چاہئیں ۔ اور یہ اقدامات ضلعی انتظامیہ اور چترال کے تمام سرکاری داروں ، غیر سرکاری اداروں اور کمیونٹی کے تعاون سے ہی ممکن ہے ۔ ممبر ڈسٹرکٹ کونسل چترال اور رہنما پی ٹی آئی عبد الطیف نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا ۔ کہ اللہ پاک نے دنیا میں تمام قدرتی وسائل کو دانشمندانہ طریقے سے استعمال کرنے کا حکم فرمایا ہے ۔ لیکن آج ہم اُس حکم کے خلاف تمام قدرتی وسائل سے دُشمنوں کا سلوک کرتے ہیں ۔ اور نتیجتاً خود ہمارے ہاتھوں ہماری تباہی ہو رہی ہے ۔ اگر ہم آج بھی ان آفات سے بچنے کی کو شش کریں ۔ تو ان نقصانات میں بہت کمی آ سکتی ہے ۔ سمینار کے مہمان خصوصی ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر عبد الغفار نے فوکس ہیومنٹیرئن کے کردار کی تعریف کی ۔ اور کہا ،کہ قدرتی آفات سے متعلق آگہی دینا اور لوگوں میں حساسیت پیدا کرنا انتہائی اہمیت کی حامل ہے ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ سرکاری طور پر کئی سکول اور دیگر ادارے بغیر کسی تحقیق کے انتہائی خطرناک مقاما ت میں تعمیر کئے گئے ہیں ۔ جن کو محفوظ بنانے ، یا اُنہیں کسی دوسری جگہ منتقل کرنے کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ یہ بات باعث تشویش ہے ۔ کہ بعض علاقوں کے لوگ آفات سے دوچار ہونے کے باوجود اپنی زندگی کو داؤ پر لگا کر دوبارہ اُن ہی مقامات میں مکانات تعمیر کر رہے ہیں ۔ جبکہ بعض سرکاری عمارات کو بھی محفوظ بنانے کی کوشش نہیں کی جاتی ۔ جس سے حکومت اور عوام دونوں کا نقصان ہوتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنے گھروں میں بھی آفات کی صورت میں اپنی جانوں کو محفوظ بنانے اور اپنے انتہائی ضروری سامان اور دستاویزات کے تحفظ کیلئے منصوبہ بندی کرنی چاہیے ۔ انہوں نے تمام اداروں کے آفیسران سے یہ معلو مات دوسروں تک پہنچانے کی ہدایت کی ۔ اور کہا ۔ کہ اداروں کو چاہیے ۔ کہ فوکس کی طرف سے ہیزارڈ میپنگ پر عمل کریں ۔سمینار سے منیجر فوکس چترال امیر محمد اور سابق ڈپٹی دائریکٹر انفارمیشن یوسف شہزاد نے بھی خطاب کیا ۔


اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ مواد

اترك تعليقاً

إغلاق