چترال لوئرمضامین

جیو نیوز کا جرگہ اور اے آر وائی کی نگا ہیں اسلام آباد ,لاہور اور بنی گالہ تک ہی محدود رہتی ہیں

تحریر:عنایت اللہ اسیر

جیو نیوز کا جرگہ اور اے آر وائی کی نگا ہیں اسلام آباد ,لاہور اور بنی گالہ تک ہی محدود رہتی ہیں
الیکشن کمیشن نے 14850 مربع میل پر پھیلے ہویے دشوار گذار پہاڑی سلسلوں اور سو سو کلو میٹر لمبے دشوار گذار 29 وادیوں پر مشتمل ضلع چترال کو اس کی چترال میں موجود چار لاکھ آبادی کے تناسب سے اس کے ایک صوبائی سیٹ سے محروم کردیا ہے حالانکہ چترال کی آبادی کا نصف سے ذیادہ حصہ محنت مزدوری کےلیے پاکستان اور پاکستان سے باہر رہتے ہیں جن کی کل تعداد چار لاکھ سے ذیادہ ہوگی کیونکہ چترال میں کوئی کارخانہ اور روزگار کے بہتر مواقع دستیاب نہیں چترال سے باہر رہنے والے ان چار لاکھ سے زیادہ افراد کا جینا مرنا خوشی غمی راحت و مشکل سب چترال سے وابستہ ہیں ان کا اصل گھر,راہ ورسم آنا جانا سال بھر جاری رہتا ہے مردم شماری کے دوران ہمارے آرمی کے بہادر جوانوں نے صرف گھروں میں موجود افراد کو ہی رجسٹر کرایا اور اگر کوئی بیٹا کراچی لاہور یا پشاور میں مزدوری کرتا ہو تو اس کا اندراج ہی نہیں کیا گیا
جس بنا پر چترال کے باشندے اپنے ایک صوبائی سیٹ سے محروم ہوگے.آج چترال کے باشندے سخت مایوسی سے دوچار ہیں اور یہ سوچ ان کے ذہنوں میں اُبھر رہی ہے کہ 2018 کے ووٹ کابھی بیکاٹ کیا جائے کیو نکہ جب دو نمائند گان کے ہوتے ووے ہمارے مسائل حل نہیں ہوسکتے تو ایک نمایندہ صوبائی اسمبلی میں کس طرح ہماری نمایندگی کا حق ادہ کر سکے گا
صوبائی اسمبلی نے بجا طور پر متفقہ قرار داد اس سیٹ کی بحالی کے لیے سفارش کرتے ہوے پاس کرکے اپنا فریضہ ادا کردیا ہے اب قومی اسمبلی سے بھی اس صوبائی سیٹ کی بحالی کی قرار داد پاس کرنی ہے مگر ہاتھیوں کی لڑائی میں چترال کے صوبائی سیٹ کی بحالی کی بات کون کرے .صرف اُمید میڈیا کے معتبر معزز پروڈیوسروں اوراہم مسائل پر گفتگو کرنے والوں سے گذارش ہے کہ اس مسئلے پر پانی سر سے گذر نے سے پہلے کوئی پروگرام کرکے اس نما ئند گی کی بحالی میں ہماری آوازالیکشن کمیشن تک پہنچادیں اگر کوئی قومی اسمبلی کا ممبر اس کالم کو پڑے تو اس سلسلے میں ہمارے قومی اسمبلی کے معزز فعال اور نوجوان نمائندے کے مشورے سے تحریک استحقاق وقت ضائع کیے بےغیر قومی اسمبلی میں پیش کرکے اتفاق راے سے الیکشن کمیشن سے چترال کے صوبائی سیٹ کی بحالی کی سفارش کرائے

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى