
یونیورسٹی آف چترال میں پائیدار اور لچکدار معاشروں کی تشکیل پر پہلی بین الاقوامی کانفرنس کا آغاز
چترال (چترال ایکسپریس)یونیورسٹی آف چترال میں ’’پاکستان میں پائیدار اور لچکدار معاشروں کی تشکیل‘‘ کے عنوان سے تین روزہ پہلی بین الاقوامی کانفرنس کا باقاعدہ آغاز ہو گیا۔ کانفرنس کی افتتاحی تقریب کی صدارت یونیورسٹی آف چترال کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر حاضِر اللہ نے کی،
جبکہ وائس چانسلر UET مردان پروفیسر ڈاکٹر گل محمد خان، معروف دانشور ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی، محققین اور عالمی ماہرین نے شرکت کی۔
افتتاحی خطاب میں وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر حاضِر اللہ نے
ملکی و غیر ملکی مندوبین کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی اور قدرتی آفات کے پیش نظر اب روایتی ترقیاتی ماڈل کافی نہیں رہے۔ ہمیں ایسی کمیونٹیز تشکیل دینی ہوں گی جو بحرانوں کا پیشگی اندازہ لگانے اور ان کے اثرات سے بحال ہونے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہوں۔
تقریب کے مہمانِ خصوصی پروفیسر ڈاکٹر گل محمد خان نے یونیورسٹی انتظامیہ کو مبارکباد دیتے ہوئے
چترال میں ‘ارلی وارننگ سسٹم’ کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے مصنوعی ذہانت (AI) کے استعمال اور UET مردان و یونیورسٹی آف چترال کے درمیان تکنیکی تعاون کے امکانات پر بھی روشنی ڈالی۔
معروف دانشور ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی نے اپنے خطاب میں کہا
کہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے کے لیے حکمت عملی بناتے وقت پسماندہ اور متاثرہ طبقات کی ضروریات کو ترجیح دینی چاہیے۔ اس کے علاوہ، آسٹریلیا سے آن لائن شریک ماہرِ تعلیم ڈاکٹر پیٹر چارلس ٹیلر نے پائیدار ترقی کے حصول میں تعلیمی اصلاحات کے کردار پر تفصیلی گفتگو کی۔
تین روز تک جاری رہنے والی اس کانفرنس میں پاکستان اور بیرونِ ملک سے ماہرین، محققین اور دانشور اپنے تحقیقی مقالہ جات اور پریزنٹیشنز پیش کریں گے۔ نمایاں مقررین میں علی اکبر قاضی، ڈاکٹر بل اتوہ (آسٹریلیا)، محترمہ ریحانہ کوثر،ڈاکٹر شاہ فہد اور ڈاکٹر خالد خان شامل ہیں،
جبکہ نظامت کے فرائض ڈاکٹر حفیظ اللہ اور محترمہ عظمٰی شیر سر انجام دے رہے ہیں۔ تقریب کے اختتام پر وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر حاضِر اللہ نے مہمانِ خصوصی کو روایتی چترالی ٹوپی کا تحفہ پیش کیا۔
