تازہ ترینمضامین

چترال کی تاریخ مہذب ترین تہذیبی روایات اور جمہوری اقدار کا امین رہا ھے

……….تحریر:عنایت اللہ اسیر

ہمیں 1969 میں پولیٹیکل راج سے نکل کر ڈسٹرکٹ کی حیثیت میں جمہوری حقوق ملے اور یکدم 1970 کے انتخابات میں چترال سے مختلف سیاسی پارٹیوں کے امیدوار امنے سامنے آگیے مختلف قسم کے کفر کے فتوے رنگ و نسل کے تعصبات اور مکمل اسلامی نظام کے نفاذ کا ارزو لیکر سیاسی میدان میں کود پڑے،سخت ترین سیاسی اختلافات کے باوجود چترال کے مہذب باشندوں نے تمام سیاسی جماعتوں کے قایدین کو چترال تشریف آوری پر ہمیشہ ملکر سخت ترین سیاسی اختلافات کے باوجود شاندار استقبال کیا,دروش کے پولوگراونڈ میں جماعت اسلامی کےارباب سردار علی خان اور میاں طفیل محمد کے شوکت اسلام کا جلسہ جس کی صدارت شھزادہ حسام الملک جس کا اس وقت تعلق جماعت اسلامی سے نہیں تھا اور اسکی ہمدردی نیشنل عوامی پارٹی کی طرف تھا اور چترال شہر میں جس طرح چترال کے تمام شرافاء اور سفید ریشان نے پولو گراونڈ میں جماعت اسلامی کے شوکت اسلام کے جلسے میں دروش سے چترال پہنچنے پر جماعت اسلامی کے قایدین کا جس طرح عظیم و شان استقبال کیا وہ تاریخ کا حصہ ہے میں اس جلسے کا چشم دید گواہ ہوں اور میں نے پی پی پی ,نیشنل عوامی پارٹی اور بہت سے غیر سیاسی شرفاء کو کڑی دھوپ میں گھنٹوں کھڑے دیکھا ہے
بعد میں شہید ذولفقارعلی بھٹو کے استقبال کو میں میر ے بزرگ والد سیاسی مخالفت کے باوجود اورہزاروں چترال کے باشندوں نے چترال ایر پورٹ سے بے مثال استقبال کرکے چترال پولو گراونڈ لایا اس کی مثال نہیں ملتی
اسی پولو گراونڈ میں ہم نے محترمہ نصرت بھٹو صاحبہ کا شاندار استقبال کرکےاس کو چترال سے ووٹ دیکر کامیاب کرکے دیکھایا اسی پولو گراونڈ پر ہم نے شہید جمہوریت بی بی بینظیر بھٹو کی تقریر اور اس کی جرات اور جذبات بھری تقریر سنی اور محترمہ بیگم سلیمان مادر چترال سفید ریش معزز خاتون کی تقریر بھی سنی ہے پھر چترال سے قومی مومنٹ کے قومی اسمبلی کے امیدوارانتہائی معززخاتوں میری بہن بیگم شیرولی خان اسیر کی تقریر سنی ہے
اج اگر میاں نواز شریف عدالتی مارشلاء کےاس دور میں سزا پاکر چترال تشریف لا رہے ہیں تو ہمیں اپنے بہترین تہذیبی اقداراور مہمان نوازی کے بہترین روایات کو بر قرار رکھتے ہوئے سیاسی تعلقات سے بالا ترہوکر مہذب ترین روییے کا مظاہریہ کرنا چاہیئےاور فیس بک میں پوسٹ کرتے ہوےاپنی ماں بہن اور بیٹی کے مقام کا لحاظ رکھین جب ہم کسی بے ادب کے غیر مہذب رویے اور بے ادبی کو بُرا سمجھتے ۃیں تو بجا ہے اور مذ مت کرنا ہماری اخلاقی فریضہ بھی ہے اگر ہم نے خود بھی وہی رویہ اختیار کیا تو پھر ہم میں اور اس میں کیا فرق ہوجاییگا
( ادب از کہ اموختی از بے ادابان)
چترال کے باشندے احسان فراموش نہیں ہم 40 سال بعد بھی بھٹو کے نام پر قربان ہورےے ہیں ہم نے تمام اداروں کے مخالفت کے باوجود جنرل پرویز مشرف کے امیدوار کو کامیاب کرکے دیکھایا آج نواز شریف نے لواری ٹنل کی تکمیل,اور گولین گول پراجیکٹ کی تکمیل اور ترسیل,چترال گرم چشمہ روڈ کلاش ویلیز چترال روڈ ,گیس پلانٹس CPEC میں چترال کو شامل کرناچترال میں جاری اربوں کے تعمیری کام اور 2015 کے مصیبت ذدوں کی عملی مدد چترال یونیورسٹی 250 بستروں کی A گریڈ ہسپتال کی منظوری اگر ان خدمات کا بدلہ صرف اور صرف ان کا شانداراستقبال اور اگر کجھ کام زیر التواء ہیں تو گیلے شکوے بھی کرین گےچترال تشریف لانے والے ہرپارٹی کے قایدین پورے چترال کے مہمان ہوتے ہیں لہذہ ہرقسم کے سیاسی تعلقات سے بالاترہوکر استقبال کرنا ہی ہماری تاریخی روایت ہےاور اب تو تمام قایدین تشریف لاینگے ہم سب ان سب کا شاندار استقبال ہی ہماری مہذب روایات کا امین ہوگا
تمام سیاسی ورکرز سے درد مندانہ عاجزانہ اپیل ہے کہ الیکشن کےاس جذباتی ماحول میں چترال کے بین الاقوامی طور مہذب قوم ہونے کے شہرت پر انچ نہ آئے

زر الذهاب إلى الأعلى
Ads Blocker Image Powered by Code Help Pro

Ads Blocker Detected!!!

We have detected that you are using extensions to block ads. Please support us by disabling these ads blocker.

Powered By
100% Free SEO Tools - Tool Kits PRO

اشتہارات بند کیوں ہیں؟۔

براہِ کرم ہمارے پلیٹ فارم کو سپورٹ کرنے کے لیے اشتہارات کو روکنے والی ایپ بند کر دیں۔ آپ کی معاونت ہمارے لیے اہم ہے۔