
کمند کے ٹوٹتے ہی فرد بھی توازن کھو دیتاہے قوم بھی توازن سے محروم ہوجاتی ہے ذرائع ابلاغ میں سیاستدان اداروں کو بدنام کرتے ہیں کہ ان کی وجہ سے ملک پر قرضوں کا بوجھ لادا گیا ادارے سیاستدانوں کو بدنام کر تے ہیں کہ ان کی وجہ سے قوم تباہی کے دہانے پر پہنچ گئی حقیقت یہ ہے کہ قوم کی تباہی اور بربادی کا آغاز 1985ء کی غیر جماعتی اسمبلی سے ہوا یہاں تاریخی واقعات اور حکایات کو دہرانے کی گنجائش بھی نہیں ضرورت بھی نہیں مشہور براڈ کاسٹر اور ادیب رضا علی عابدی کا قول ہے کہ لمبی تمہید سننے کے بعد تحریر کا مزہ ختم ہوجاتا ہے اور 7منٹ تک سننے کے بعد تقریر میں دلچسپی نہیں رہتی 1985ء سے پہلے محکمہ خزانہ کے کام ماہرین معاشیات کے سپرد ہوا کرتے تھے محکمہ صحت کے معاملات سینئر ڈاکٹروں کے مشورے سے انجام پاتے تھے محکمہ تعلیم کے معاملات اساتذہ کی نگرانی میں دیئے جاتے تھے محکمہ تعمیرات کے سارے امور انجینئروں کے حوالے کئے جاتے تھے زندگی کے ہر شعبے میں پروفیشنلزم (Professionalism) تھی ہر کام اُس پیشے کا ماہر انجام دیتا تھا 1985ء میں زندگی کے تمام معاملات اُس پیشے کے سینئر لوگوں سے لیکر غیر متعلقہ عناصر کے ہاتھوں میں دیدیے گئے 1946ء کی منتخب اسمبلی کا ممبر ایگزیکٹیو انجینئر کے کام میں مداخلت نہیں کرتا تھا 1956،1970اور 1977ء میں منتخب ہونے والا رکن اسمبلی ڈپٹی کمشنر کے دفتر میں بیٹھ کر انتظامی امور پر بات نہیں کرتا تھا لوگل گورنمنٹ کے دفتر میں جاکر ترقیاتی کاموں کا ٹینڈر نہیں کھولتا تھا ،ہسپتال کی مشینری کہاں سے خریدی جائے ؟ سکول کی عمارت کا ٹھیکہ کس کو دیا جائے ؟ سڑک اور پُل کس طرح بنایا جائے ؟ ایسے کاموں میں ایم این اے ، ایم پی اے ،سینیٹر اور وزیر کی مداخلت نہیں ہوتی تھی 1985ء میں پروفیشنل نوعیت کے معاملات اراکین اسمبلی کو دیدیے گئے اس کا پسِ منظر بہت دلچسپ ہے حکومت نے 7سال ایک سیاسی جماعت کو ختم کرنے پر سارا بجٹ خرچ کیا وہ پارٹی ختم نہیں ہوئی بین الاقوامی دباؤ آگیا، امریکی دباؤ آیا کہ انتخابات کراؤ ، اقتدار منتخب نمائندوں کے حوالے کرو اس دباؤ کی وجہ سے انتخابات ناگزیر ہوئے تو حکومت نے فیصلہ کیا کہ انتخابات میں سیاسی جماعتوں کو حصہ لینے کی اجازت نہیں ہوگی لوگ انفرادی حیثیت میں منتخب ہوکر آئیں گے چنانچہ غیر جماعتی بنیادوں پر انتخابات کرائے گئے ملک بھر سے 800سے زائد اراکین اسمبلی منتخب ہوئے اسمبلیاں وجو دمیں آگئیں تو ان کو اپنی مرضی کے مطابق چلانا ایک گھمبیر مسئلہ بن گیامسئلے کا حل یہ ڈھونڈا گیا کہ محکمہ تعمیرات کا اختیار انڈر میٹرک وڈیرے کو دیدو محکمہ صحت کی بھاگ
ڈور پرائمری پاس مولوی کے ہاتھوں میں تھما دو ، محکمہ صحت کے تمام اختیارات ان پڑھ سجادہ نشین یا پیر صاحب کے قدموں میں ڈال دو اسمبلی کے ہر منتخب ممبر کو 50لاکھ روپے نقد کا ترقیاتی فنڈ لگ تھما دو سال بعد اس میں مزید اضافہ کرو سرکاری نوکریوں کیلئے اراکین اسمبلی کو مخصوص کوٹہ دیدو پی آئی اے ، واپڈا ، پاکستان سٹیل ، ریلوے اور دیگر محکمے سیاسی بھرتیوں کی نذر کرو اس طرح اراکین اسمبلی ’’ دم ہلاتے ہوئے تمہارے پاس آئیں گے اور جب تک تم حکومت میں ہو وہ ’’ دم ہلاتے‘‘ رہیں گے دُم ہلانے کی ترکیب بھی اُس وقت کے صدر مملکت نے خود استعمال کی تھی انہوں نے آئین کو ’’ کاغذ کا ٹکڑا ‘‘ قرار دیا تھا سیاچن پر دشمن نے حملہ کیا تو انہوں نے یہ کہہ کر سیاچن کے دفاع سے انکار کیا تھا کہ ’’ نہ اس میں گھاس اُگتی ہے نہ اس میں پھول کھلتے ہیں ‘‘ 1985ء کی ’’ دم ہلانے والی اسمبلی ‘‘ سے لیکر 2013ء کی ’’ دم ہلانے ‘‘ والی اسمبلی تک آتے آتے ہر ایم این اے کو 5کروڑ روپے اور ہر ایم پی اے کو دو کروڑ روپے کے ترقیاتی فنڈ دینے کی نوبت آگئی اخبارات میں اراکین اسمبلی کے نام سے ٹینڈر کے اشتہارات آنے لگے اور تحصیل میونسپل ایڈمنسٹریشن کے ذریعے ٹینڈر ہونے لگے سیاسی مداخلت کی وجہ سے تمام محکمے برباد ہوگئے محکموں کے ڈائریکٹر بے بس ہوئے ، انتظامی سیکرٹری ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ گئے بیوروکریسی کا جو مضبوط سسٹم انگریزوں کے دور سے 1985ء تک چلا آیا تھا وہ تباہ ہوگیا رہی سہی کسر 2001ء کے ’’ ڈیولوشن پلان ‘‘ نے پوری کردی ڈیولوشن پلان کے تحت ضلعی انتظامیہ کو توڑ دیا گیا کراچی کا شہر ایم کیو ایم کے حوالے کیا گیا سوات اور دیر کا انتظام طالبان کے ہاتھ میں دے دیا گیا قرضوں سے نجات ، سماجی ترقی ، انتظامی امور میں بہتری اور ملک کی بقا، سلامتی کا راز اس امر میں پوشیدہ ہے کہ اراکین اسمبلی، بلدیاتی نمائندوں اور سیاسی کارکنوں سے اختیارات واپس لیکر پروفیشنلز کو دیدیے جائیں تعلیم کا کام استاد کے سپرد ہو صحت کے معاملات ڈاکٹر کے حوالے کئے جائیں اور تعمیرات کے امور انجینئرز کو دیدیے جائیں صوبائی سکرٹریٹ اور وفاق دفاتر میں انتظامی سکرٹریوں کے تمام اختیارات واپس کئے جائیں اراکین اسمبلی کو قانون سازی تک محدود کیا جائے ملک کی بقا، سلامتی اور قرضوں سے نجات کا راز اسی میں مضمر ہے امریکی صدر اور چینی وزیر اعظم100 روپے کا منصوبہ نہیں دے سکتے ہمارا وزیر اعظم 50کروڑ کے منصوبے کا اعلان کس خوشی میں کرتا ہے جس کا کام اس کو سانجھے
ڈور پرائمری پاس مولوی کے ہاتھوں میں تھما دو ، محکمہ صحت کے تمام اختیارات ان پڑھ سجادہ نشین یا پیر صاحب کے قدموں میں ڈال دو اسمبلی کے ہر منتخب ممبر کو 50لاکھ روپے نقد کا ترقیاتی فنڈ لگ تھما دو سال بعد اس میں مزید اضافہ کرو سرکاری نوکریوں کیلئے اراکین اسمبلی کو مخصوص کوٹہ دیدو پی آئی اے ، واپڈا ، پاکستان سٹیل ، ریلوے اور دیگر محکمے سیاسی بھرتیوں کی نذر کرو اس طرح اراکین اسمبلی ’’ دم ہلاتے ہوئے تمہارے پاس آئیں گے اور جب تک تم حکومت میں ہو وہ ’’ دم ہلاتے‘‘ رہیں گے دُم ہلانے کی ترکیب بھی اُس وقت کے صدر مملکت نے خود استعمال کی تھی انہوں نے آئین کو ’’ کاغذ کا ٹکڑا ‘‘ قرار دیا تھا سیاچن پر دشمن نے حملہ کیا تو انہوں نے یہ کہہ کر سیاچن کے دفاع سے انکار کیا تھا کہ ’’ نہ اس میں گھاس اُگتی ہے نہ اس میں پھول کھلتے ہیں ‘‘ 1985ء کی ’’ دم ہلانے والی اسمبلی ‘‘ سے لیکر 2013ء کی ’’ دم ہلانے ‘‘ والی اسمبلی تک آتے آتے ہر ایم این اے کو 5کروڑ روپے اور ہر ایم پی اے کو دو کروڑ روپے کے ترقیاتی فنڈ دینے کی نوبت آگئی اخبارات میں اراکین اسمبلی کے نام سے ٹینڈر کے اشتہارات آنے لگے اور تحصیل میونسپل ایڈمنسٹریشن کے ذریعے ٹینڈر ہونے لگے سیاسی مداخلت کی وجہ سے تمام محکمے برباد ہوگئے محکموں کے ڈائریکٹر بے بس ہوئے ، انتظامی سیکرٹری ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ گئے بیوروکریسی کا جو مضبوط سسٹم انگریزوں کے دور سے 1985ء تک چلا آیا تھا وہ تباہ ہوگیا رہی سہی کسر 2001ء کے ’’ ڈیولوشن پلان ‘‘ نے پوری کردی ڈیولوشن پلان کے تحت ضلعی انتظامیہ کو توڑ دیا گیا کراچی کا شہر ایم کیو ایم کے حوالے کیا گیا سوات اور دیر کا انتظام طالبان کے ہاتھ میں دے دیا گیا قرضوں سے نجات ، سماجی ترقی ، انتظامی امور میں بہتری اور ملک کی بقا، سلامتی کا راز اس امر میں پوشیدہ ہے کہ اراکین اسمبلی، بلدیاتی نمائندوں اور سیاسی کارکنوں سے اختیارات واپس لیکر پروفیشنلز کو دیدیے جائیں تعلیم کا کام استاد کے سپرد ہو صحت کے معاملات ڈاکٹر کے حوالے کئے جائیں اور تعمیرات کے امور انجینئرز کو دیدیے جائیں صوبائی سکرٹریٹ اور وفاق دفاتر میں انتظامی سکرٹریوں کے تمام اختیارات واپس کئے جائیں اراکین اسمبلی کو قانون سازی تک محدود کیا جائے ملک کی بقا، سلامتی اور قرضوں سے نجات کا راز اسی میں مضمر ہے امریکی صدر اور چینی وزیر اعظم100 روپے کا منصوبہ نہیں دے سکتے ہمارا وزیر اعظم 50کروڑ کے منصوبے کا اعلان کس خوشی میں کرتا ہے جس کا کام اس کو سانجھے
