
تحریر: عنایت اللہ اسیر
03469103996
aseerchitral@yahoo.com
چنکہ ٹریڈ اینڈ ٹویرزم ڈیولپمنٹ کے موضوع پر CAEHچترال,چترال یونیورسٹی اور چترال چمبر اف کامرس اینڈ انڈسٹریز کے تعاون سے چترال یونیورسٹی میں 13 اکتوبر سے 15 اکتوبر 2018 ایک پر وقار سیمینار کاانعقاد کر رہا ھے جس میں لواری ٹنل کے بے تعمیر اور تکمیل کے بعد اور CPEC کی امد امد کے اس تاریخی تبدیلی کے اھم ترین لمحات میں چترال کے جغرافیای اھمیت اور اس کے سیاحت اور تجارت کے اسان ترین مواقع اور چترال کے خوبصورت مقامات کی نشاندھی اور تاجکستان افغانستان اور چایینا کے ساتھ ذمینی مختصر ترین راستوں کی نشاندھی کی جاییگی اور چترال میں ڈرای پورٹ,کا قیام اور جایز تجارت کی راھوں کو کھول کر چترال ,دروش,ارندو,گرم چشمہ اور مستوج کے بازارون کو جایز تجارت کے لیے کھول کر پاکستان کےلیے مھانہ کثیر ذر مبادلہ کمانے کے ساتھ ساتھ چترال میں رھنے والے 20 سے 30 ھزار افغان باشندوں کے ھاتوں نقد کرنسی کے افغانستان لے جانے کے راستے کو بند کرنا جو دوکاندار,ھوٹل ,قصاب,تنور اور ٹرانسپورٹ اور محنت مزدوری کرکے نقد لے جاتے ھیں کیونکہ ان کو چترال کے کسی بھی بازار سے فٹ بال ,چاے چینی پایپ پلاسٹک کپڑے سیمنٹ اور کباڑ تک خرید نے کی اجازت نہیں اور یہ پاکستان دوشمنی کے مترادف ھے
حالانکہ چترال کے ریاستی دور میں بھی افغانستان اور سنٹرل ایشیاء کے ریاستوں سے جایز تجارت ھوا کرتی تھی بنگال کا ریشم اور بمبی کے چینی اور برتن چترال کے ھندو تاجر لاکر چینی ترکستان اور روسی ترکستان تک لے جاکر لعل بدخشان اور لارجورد اور قیمتی پتھر اور افیون کی تجارت چترال ھی ھوا کرتا ھوں ھا حج کے قافلے بھی چترال ھی سے گذرتے تھے کیونکہ شاھراہ قراقرم 60 کی دھای میں تعمیر ھوا
ھندوستان کے اس وقت کے ھندو دوکاندارون کےاولاد اب بھی چترال بازار میں ھمارے مسلمان بھای کے طور پر چترال بازار کی رونق ھیں چینی ترکستان کے تاجرون کی اولاد بھی چترال بازار میں ظاہرشاہ وغیرہ اور راولپنڈی میں چترال سے متعلقہ یوق تاجر جو کاشغر سے چترال پھر اسلام اباد میں چاینا مارکیٹ اباد کرکے پاکستان کے معزز شھری ھیں
پاکستان بننے کے بعد بھی ڈسٹرک کونسل چترال کا سالانا امدن 1998 تک کروڑون میں صرف چنگی کی مد میں گرم چشمہ اور عشیریت سے ھوتی تھی جس سے چترال کا ڈسٹرک کونسل چلتا تھا
جب سے گرم چشمہ اور عشریت کی چنگی ختم اور افغانستان سے جایز تجارت اور امدورفت کو بند کیا گیا چترال کے ڈسٹرک کونسل کا سالانا امدن 0 ھوکر روڈ کولیز بھی فارغ اور ڈسٹرک کونسل کے تعمیر کردہ تمام لنک روڈز کنڈرات میں تبدیل ھوکر موت اور حادثات کا سبب بنے ھوے ھیں حتا کہ دفتری پٹی کیش اور کاغذ قلم پنسل کے روزانہ کے اخراجات قرض پر یا صوبای حکومت اور مرکزی حکومت کے رحم وکرم پر رہ گیے ھیں اخراجات پہلے سے ذیادہ اور امدن یکسر ختم حالانکہ چترال اس حال میں ھی خود کفیل اور اگر اس کے ذمینی راستے جایز تجارت کے لیے کھولے گیے تو صوبہ اور مرکز کو بھی ماھوار کروڑون کا حصہ دے سکتا ھے
1978 سے 1998 تک بدخشان وادی کنڑ اور تاجکستان تک کے لیے تجارت چترال بازار اور پشاور سے رات دن جاری رہا اور چترال کے گاڑیوں ھوٹلون کا کاروبار گرم رہا اور اچانک اس پاکستان اور چترال کے ضلعی حکومت کے کروڑون کی امدن اور بازار روں کی گرمی کو کس نے کس کے کہنے پر بند کیا جس سے پاکستان کی کرنسی نقد افغانستان جانا شروغ ھوا
انے والا سیمینار ان تمام جایز قانونی اور محفوظ راستوں کی نشاندھی کر ے گا جس سے پاک ملک کو کثیر زرمبادلہ کمایا جاسکے گا اور نیے راستوں کی نشاندھی کی جاییگی اور سیاحت کے فروغ کے لیے مقامات کی نشاندھی کی جاییگی
اپنے راے مشورے اور بہترین ڈاکومینٹیریز بر وقت Rcd کے واٹ سب نمبر پر فلوڈ کیجیے اور سیکریٹریز جناب ظہور الحق دانش,جلال الدین,عطاءحسین اطہر اور نایاب اور پروفیسر شفیق کے ساتھ شیر کیجے
اپ سب کے تعاون سے یہ قومی مفاد کا سیمنار کامیاب ھوگا CAEH اپ کے قیمتی اراء کو قدر کی نگاہ سے دیکھے گی
