تازہ ترینمضامین

ٹی ایم او آفس کی منتقلی نا منظور

………..تحریر:مولانا حبیب اللہ انقلابی ۔۔ممبر صوباٸی کونسل جمعیت علمإ اسلام…….

 تحصیل موڑکہو کو قدیم زمانے سے علاقے میں مرکزیت حاصل رہی ہے۔ موڑ کہو چار یونین کونسلوں پر مشتمل ہے جس کی آبادی بالائی علاقوں سے لے کر تریچ تک 70 ہزار سے زیادہ ہے، دوسری طرف تورکہو کی ٹوٹل آبادی بیس ہزار ہے اور تور کہو کا علاقہ موڑکھو کی چار یونین کونسلوں کے مقابلے میں صرف 2 یونین کونسلوں پر مشتمل ہے۔ تحصیل موڑکھو کی وسیع آبادی، آبادی کی ضروریات، رسائی اور موڑکھو کی قدیمی مرکزی حیثیت کے پیش نظر حکومت پاکستان نے بھی اپنے انتظامی ڈھانچے کی ترتیب میں موڑکھو کو اہمیت دی اور اسے تحصیل کے قدرتی انتظامی مرکز کے طور پر منتخب کیا۔ یہ موڑ کھو کا جائز حق تھا۔ اپنے جغرافیائی محل وقوع کے اعتبار سے بھی تحصیل کے انتظامی و سرکاری مرکز کی حیثیت سے موڑ کھو اس بات کا اصولی طور پر حق رکھتا ہے کہ اس کی مرکزیت باقی رکھی جائے، اس لیے کہ یہ تحصیل بھر کے تمام علاقوں کے عوام کے لیے قابل رسائی ہے، نیز تحصیل کے ریجنز کی آبادی کو مد نظر رکھا جائے تو موڑکھو ریجن کی آبادی دوسرے ریجن کے مقابلے میں زیادہ ہے۔ قدرتی طور پر آبادی کے بڑے حصے کو یہ حق حاصل ہونا چاہیے کہ انتظامی مراکز اس کے قریب موجود ہوں۔ ان تمام تر زمینی حقائق کے باوجود تورکھو کے کچھ با اثر افراد کی کوشش ہے کہ موڑکھو میں قائم تحصیل کے انتظامی مراکز اور سرکاری دفاتر موڑکھو سے تورکھو شفٹ کر دئیے جائیں۔ اس مقصد کے لئے انہوں نے مختلف حربے اختیار کرکے علاقے میں بڑے پیمانے پر انتشار اور بے چینی کو ہوا دے دی ہے۔ موڑ کھو کےعوام جو تحصیل کے دیگر حصوں پر عددی اکثریت رکھتے ہیں، ان خبروں سے شدید غم و غصے اور بے یقینی سے دو چار ہیں کہ کچھ افسران کی ملی بھگت سے تورکھو کے کچھ عمائدین نے موڑ کھو سے ٹی ایم او اور دیگر دفاتر تورکھو منتقل کرنے کا منصوبہ بنا لیا ہے۔ یہ سراسر غیر منصفانہ اقدام ہے۔ موڑ کھو کے عوام اس کو اپنے حقوق اور تاریخی روایات پر شبخون سمجھتے ہیں۔ جس انداز میں اس اقدام کی منظوری کی اطلاعات آ رہی ہیں، یہ کسی طرح بھی موڑ کھو کے عوام کیلئے قابل قبول نہیں ہیں۔ موڑ کھو کے عوام غیر جمہوری اور غیر سیاسی طریقے سے اپنے حقوق کی اس کھلی پامالی اور علاقائی مفادات کا خون نہیں ہونے دیں گے۔ حقیقت یہ ہے کہ صرف تورکہو کی سہولت کو مدنظر رکھتے ہوئے اتنی زیادہ آبادی والے موڑکہو کے عوام کے لیے مشکلات پیدا کرنا ظلم اور نا انصافی ہے۔ صوبائی حکومت کی طرف سے TMO کا نوٹیفکیشن بھی موڑکہو کے نام پر ہے۔ S.P چترال نے تورکہو میں کھلی کچہری کے دوران D.S.P کو موڑکہو سے بونی منتقلی کا اعلان کرکے موڑکہو کے عوام کو مایوسی سے دوچار کیا ہے۔ بونی میں مستوج کے D.S.P پہلے سے بیٹھتے ہیں۔ اگر عوام کو سہولت اسی طریقے سے دینا ہے تو پھر ہفتے میں دو دن D.C.O کو بھی بونی آکر بیٹھنا چاہئے، S.P خود بھی موڑکہو آکر عوام کے مسائل حل کیا کریں اور وزیراعلیٰ کے پی کے صاحب بھی چترال سمیت ہر ضلع کو مہینے میں ایک دن دیا کریں۔ ہم اہل موڑکھو D.C.O چترال سے پرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ موڑکہو کے عوام کے وسیع تر مفاد میں T.M.O دفتر موڑکہو ہی میں برقرار رکھیں ورنہ موڑکہو کے عوام اپنے قانونی اور انتظامی حق کے لئے ہر سطح پر احتجاج کرنے پر مجبور ہوںگے۔ اس سلسلے میں مورخہ 8 اکتوبر 2018ء کو تحصیل ہیڈکوارٹر موڑ کھووریجون میں موڑکھو کے عوام کا ایک احتجاجی جلسہ عام زیر صدارت سابق تحصیل نائب ناظم جناب میرزا عالم منعقد ہوا۔ جس میں موڑکھو یونین کونسل کے ناظمین وکونسلروں کے علاوہ تمام پارٹیوں سے تعلق رکھنے والے عمائدین نے شرکت کی۔ مقررین نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ناظمین وعمائدین تورکھو TMO آفس وتحصیل ہیڈکوارٹر کو موڑکھو سے ہٹانے کے لیے جو حربے استعمال کررہے ہیں، یہ موڑکھو کے عوام کے لیے قابل قبول نہیں ہیں، کیونکہ تحصیل ہیڈکوارٹر کے لیے نوٹیفکیشن موڑکھو کے نام پر پہلے ہی ہوچکا ہے اور TMO آفس یہاں کام کررہا ہے اور TMO صاحب باقاعدگی کے ساتھ اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں اور SDPO صاحب عرصہ دو سال سے اپنے فرائض موڑکھو میں انجام دے رہے ہیں۔ اگر تورکھو کے عوام موڑ کھو کے ساتھ اپنا الحاق نہیں چاہتے تو وہ کسی تحصیل کے ساتھ اپنا الحاق کریں یا اپنی سب تحصیل کو ترقی دے کر تحصیل کا درجہ دینے کے لیے کوشش کریں لیکن حکومت کے منظورکردہ ہمارے علاقے کے تحصیل ہیڈکوارٹر میں ہاتھ ڈالنے کی کوشش ہرگز نہ کریں۔ مقررین نے حکومت اور ضلعی انتظامیہ سے درخواست کی کہ مذکورہ بالا حربوں سے تورکھو کے عوام کو باز رکھا جائے۔ بصورت دیگر موڑکھو کے عوام کوئی اقدام کر سکتے ہیں جس کی ذمہ داری ضلعی انتظامیہ اور حکومت پر ہوگی۔ نیز یہ درخواست کی گئی کہ موڑکھو میں ایک کھلی کچہری کا انعقاد کیا جائے جس میں تمام اداروں کے سربراہان شریک ہوں۔ ان سرگرمیوں سے ٹی ایم او آفس کی منتقلی کے معاملے پر موڑکھو کے عوام کے ردعمل، غیظ و غضب اور بے چینی اور علاقے میں پنپنے والے انتشار اور اضطراب کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ اگر انتظامی سطح پر ایسا کوئی فیصلہ کیا گیا ہے تو یہ سراسر غیر دانشمندانہ اور منفی مضمرات کے حامل انتہائی نا مناسب فیصلہ ہوگا اور یہ علاقے میں وسیع پیمانے پر انتشار اور اضطراب کو جنم دے گا، اس کے ساتھ ہی اس اقدام سے موڑ کھو اور تورکھو کے عوام کے درمیان کشیدگی اور خلیج بھی بڑھ سکتی ہے، جس کی تمام تر ذمے داری رات کے اندھیروں میں غلط اقدام کرنے والوں پر عائد ہوگی۔
زر الذهاب إلى الأعلى
Ads Blocker Image Powered by Code Help Pro

Ads Blocker Detected!!!

We have detected that you are using extensions to block ads. Please support us by disabling these ads blocker.

Powered By
100% Free SEO Tools - Tool Kits PRO

اشتہارات بند کیوں ہیں؟۔

براہِ کرم ہمارے پلیٹ فارم کو سپورٹ کرنے کے لیے اشتہارات کو روکنے والی ایپ بند کر دیں۔ آپ کی معاونت ہمارے لیے اہم ہے۔