محمد شریف شکیب ۔۔۔اپنی ادائوں پہ زرا غور کریں۔۔۔۔

طوفانی بارشوں اور تباہ کن سیلاب نے پورے ملک کی بنیادیں ہلا دی ہیں۔ایک ہفتے تک موسلادھار بارشوں اور سیلاب سے خواتین اور بچوں سمیت تین ہزار سے زائد افراد لقمہ اجل بن گئے ہزاروں افراد زخمی ہوئے ہیں۔لاکھوں رہائشی مکانات زمیں بوس ہوگئے اور مکین کھلے آسمان تلے آگئے ہیں۔ خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے دور افتادہ علاقوں میں ہزاروں افراد ابھی تک پہاڑوں اور غاروں میں پناہ گزیں ہیں۔سڑکیں، پل، ہوٹل، بازار، دفاتر اور درجنوں چھوٹے بجلی گھر بھی تباہ ہوگئے۔سینکڑوں خاندان ایسے ہیں جن کی کفالت کرنے والے سیلاب کی بے رحم موجوں کی نذر ہوگئے۔قدرتی آفت کو علمائے کرام اور دانشور حضرات مسلمانوں کے کالے کرتوتوں کا شاخسانہ قرار دے رہے ہیں کچھ لوگ اسے حکمرانوں کی نااہلی سے تعبیر کررہے ہیں کچھ دانشور عذاب الہی کو مکافات عمل کا نتیجہ قرار دے رہے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ اللہ تعالی اس قوم سے ناراض ہے جب تک پوری قوم گڑگڑا کر اللہ تعالی سے اپنی گناہوں کی معافی نہیں مانگتی۔یہ عذاب ٹلنے والا نہیں۔جب قوم پر آزمائش کا وقت آتا ہے تو پوری قوم متحد ہو کر اس کا مقابلہ کرتی ہے۔ہر شخص رضاکار بن کر میدان میں اترتا ہے اور اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر دوسروں کی جان و مال کی حفاظت کرتا ہے حالیہ آفت کے دوران بھی کئی ایسے لوگوں کو بھی دیکھا گیا جن کے اپنے گھر تباہ اور بچے سیلاب کی نذر ہو گئے تھے مگر وہ دوسروں کی جانیں بچانے میں مصروف تھے۔سیلاب کے دوران کچھ لوگ آذانیں دے رہے تھے کچھ کلمہ طیبہ کا ورد کر رہے تھے کچھ لوگ دوسروں کو مدد کے لئے پکار رہے تھے اور کچھ دعائیں مانگ رہے تھے لیکن ہماری دعائیں بے اثر ہوگئیں۔فریاد بھی کام نہ آئی۔شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم بحیثیت مجموعی اخلاقی دیوالیہ پن کا شکار ہوچکے ہیں ہم میں منافقوں کی تمام نشانیاں موجود ہیں جن کی نشاندہی احادیث مبارکہ میں ہوئی ہے ہم بات کرتے ہیں تو جھوٹ بولتے ہیں جب وعدہ کرتے ہیں تو اسے پورا نہیں کرتے اور امانت میں خیانت کرنا ہماری عادت بن چکی ہے ہم قسمیں کھا کر نقلی چیزیں اصلی چیز کے دام پر بیچتے ہیں۔زیادہ منافع کمانے کے لالچ میں اشیائے ضروریہ کی ذخیرہ اندوزی کرتے ہیں اور مصنوعی قلت اور گرانی پیدا کرکے لوگوں کی مجبوری کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہیں۔رمضان المبارک کا مقدس مہینہ آتے ہی ہمارے ہاں اشیائے ضروریہ کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگتی ہے حالیہ آفت کے دوران بھی چار ہزار روپے والے خیمے دس ہزار میں فروخت کئے گئے۔سپلائی میں کمی کا بہانہ کرکے چینی، دال، چاول، مصالحہ جات، چکن، انڈوں، گوشت ،سبزیوں اور پھلوں کی قیمتوں میں دوگنا اضافہ کرکے متاثرین کے زخموں پر مرہم رکھنے کے بجائے نمک پاشی کی گئی۔ہمیں اپنی ادائوں پر غور کرنا چاہئے کہ کیا ہم قابل معافی ہیں۔اور ہماری دعائیں کیوں قبول نہیں ہوتیں۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔