داد بیداد ۔۔۔شہرا ور اندر شہر ۔۔۔۔ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی

آج شہر کے ”اندر شہر“ نا می بازار میں سنار کی دکان پر نہیں بلکہ مہمند پختہ چائے فروش کی فرشی نشست پر بیٹھ کر کڑک چائے کی چسکیاں لیتے ہوئے ایک پشوری نو جوان سے پشاور کی کہا نیاں سن رہا ہوں فائیو جی کے تذکرے ہیں وہ جہاں جہاں مو بائل فون، ایزی کارڈ، ایزی لوڈ اور با یو میٹرک فون سم کی دکا نیں دکھا رہا ہے وہاں میں نے حما م، سقاوہ، چپلی کباب اور سری پا یے کی دکا نیں دیکھی تھیں وہ جہاں جہاں الیکٹرا نکس کی دکا نوں کا پتہ دے رہا ہے میں نے ان جگہوں پر کو ہاٹ، لنڈی کو تل، پا ڑہ چنا ر اور ڈیرہ اسما عیل خان کے بس اڈے دیکھے تھے جو جگہ نصف صدی بعد بھی ٹس سے مس نہ ہوئی وہ شہر کا اندر شہر ہے آسا ما ئی دروازے سے اس بازار میں داخل ہو جا ئیں تو سینکڑوں سال پرا نے بالا خا نوں کے جھروکے دعوت نظا رہ دیتے ہیں چوک یاد گار کی طرف سے بازار میں داخل ہوں تو مغرب میں مسجد مہا بت خان کے مینا روں کا نظا رہ سامنے آتا ہے اس گلی میں کچھ بھی نہیں بدلا، پشوری نو جوان کو یہ بات عجیب لگتی ہے کہ کچھ بھی نہیں بدلا آخر اس کا کیا مطلب ہوا؟ میں نو جوان کی انگلی پکڑ کر اُسے ما ضی میں لے جا تا ہوں اور ایک منظر اُس کے سامنے رکھتا ہوں خیبر بازار سے شعبہ بازار جا تے ہوئے چوک پر جیل پل کے با لمقا بل 5منزلہ پلا زا نظر آتا ہے یہ وہ جگہ ہے جہاں ایک چھوٹا سا پیٹرول پمپ ہوا کر تا تھا اس پمپ کے سامنے بس سٹاپ تھا، اس سٹاپ پر پی آئی اے کی بس صبح چار بجے ہوا ئی جہاز کے سواریوں کو اٹھا کر ائیر پورٹ لے جا تی تھی، ائیر پورٹ سے آنے والی سواریوں کو لا کر یہاں اتار تی تھی شعبہ بازار میں لنڈی کو تل جا نے والی بسوں کا اڈہ ہوا کر تا تھا آج کل کارخا نہ ما رکیٹ کو جو شہرت حا صل ہے ایسی شہرت لنڈی کوتل کو حا صل تھی کا بلی دروازے کے باہر خیبر بازار کے پیچھے سینما روڈ پر ڈیرہ اسمٰعیل خان، بنوں اور وزیر ستان کے بسوں کا اڈہ ہوتاتھا یہ بسیں صبح 3یا 4بجے نکلتی تھیں نو جوان کو یہ جان کر حیرت ہوئی جب میں نے بتا یا کہ پشاور کا سب سے مقبول ریستوران اسی روڈ پر واقع تھا جسے سلا طین کے نا م سے پہچا نا جا تا تھا یہ واحد ریستوران تھا جس کا ڈائننگ ہال ائیر کنڈیشنڈ تھا مگر یہ مہنگا بہت تھا تکہ کڑا ہی کے لئے لو گ دور دور سے اس کا رخ کر تے تھے نو جوان نے مجھے بتایا کہ ”چر سی تکہ“ بھی ایسا ہی ہے، میں نے کہا ما حول اور ذائقہ ایسا ہی ہو گا نا م ایسا نہیں ہے، پشوری نو جوان نے پو چھا کونسی ایسی چیز ہے جو 50سالوں میں نہیں بدلی، ویسی کی ویسی ہے میں نے کہا ایک تو اندر شہر کا میں نے شروع میں ذکر کیا دوسری چیز جو پرا نی حالت میں ہے وہ باڑے کی بس ہے، یہ بس نصف صدی پہلے جیسی تھی اب بھی ویسی کی ویسی ہے اُس وقت بھی باڑے کی بس ہشتنگری دروازے کے قریب اڈے سے روانہ ہو کر گنج، یکہ تو ت، سرد چاہ، آسیا اور ڈبگری کے دروازوں کو چھو تی ہوئی صدر میں داخل ہو تی تھی سٹیڈیم سٹاپ سے باڑے کا رُخ کر تی تھی، یہ بس آدھے گھنٹے کا فاصلہ 2گھنٹوں میں طے کر تی تھی اس کی خو بی یہ تھی کہ شہر اور صدر کا چکر لگا کر بیسیوں جگہوں پر رکتی، سواریاں اتار تی نئی سواریاں اٹھا تی اور کچھوے کی رفتار سے آگے بڑھتی نو جوان نے کہا بڈھہ بیر کے بس کا بھی ایسا ہی ذکر ہو تا ہے میں نے کہا بڈھ بیر کی بس کے بے شمار لطیفے شہر میں سنے اور سنا ئے جا تے ہیں شہرخو باں میں ہم جہاں بیٹھتے ہیں اس طرح کی ما ضی پر ستی کے تذکرے لیکر بیٹھتے ہیں انگریزی میں اس کو ”نو سٹلجیا“ کا نا م دیا جا تا ہے، جدید ترقی اور روشنیوں کی چکا چوند میں ہمیں وہ دور یا د آتا ہے جب شہر بھی سادہ تھا، لو گ بھی سادہ لو ح تھے البتہ حکمران سادہ لو ح نہیں تھے شاید حکمرانوں کا وطیرہ 300سال پہلے بھی آج والا ہی تھا تب رحمن با با (1632-1706ء) نے ایک شعر میں یو ں تشبیہہ دی ہے، حکمرا نوں کے ستم کی وجہ سے آگ کی تپش، قبر کی تاریکی اور پشاور کی زند گی میں کوئی فرق نہیں، اسی لئے کہا جا تا ہے کہ رحمن بابا کا کلا م ہر دور کے تقا ضوں کو پورا کر تا ہے۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔