بھلادی ہم نے جو اسلاف سے میراث پائی تھی…محمد شریف شکیب

 سات سمندر پار امریکہ سے تازہ خبر آئی ہے کہ ٹامپا شہر کی پولیس چیف کو چالان سے بچنے کے لئے ٹریفک وارڈن سے اپنا تعارف کرانے پر عہدے سے مستعفی ہونا پڑا۔ریاست فلوریڈا کے شہر ٹامپا میں خاتون پولیس چیف اپنے شوہر کے ہمراہ گاڑی میں گالف کورس جارہی تھی۔ راستے میں ٹریفک پولیس اہلکار نے انہیں روکا۔ٹریفک پولیس اہلکار نے گاڑی کا نمبر پلیٹ نہ ہونے اورپولیس چیف کے پاس ڈرائیونگ لائسنس نہ ہونے پر انہیں چالان کرنے کی کوشش کی۔چالان سے بچنے کے لئے پولیس چیف نے اپنا تعارف کراتے ہوئے بیج لہرایا اور کہا کہ امید ہے وہ اسے جانے دیں گے۔یہ منظر اہلکار کے لباس میں موجود کیمرے میں فلمبند ہوگیا۔واقعے کی ویڈیو سامنے آنے کے بعد گزشتہ ہفتے خاتون پولیس چیف نے اپنے طرز عمل پر معافی بھی مانگی تھی لیکن اب انہیں اپنے عہدے سے استعفیٰ دینا پڑگیا ہے۔رپورٹس کے مطابق ٹامپا پولیس چیف نے گزشتہ روز ادارہ جاتی تحقیقات کے بعد اپنا عہدہ چھوڑ دیا ہے جس کی تصدیق ٹامپا شہر کے میئر جان کیسٹر نے کی ہے۔ میئر کا کہنا تھاکہ پولیس چیف نے اخلاقیات کے اصولوں کو توڑا اور انہوں نے اپنی پوزیشن یا شناخت کے غلط استعمال سے متعلق پالیسیوں کی خلاف ورزی کی۔جس پر انہیں عہدے سے سبکدوش ہونا پڑا۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ امریکہ میں قانون واقعی اندھا ہوتا ہے وہ کسی کو عہدے اور اثرورسوخ کی بنیاد پر نہیں پہچانتا۔ دانستہ یا نادانستہ طور پر قانون توڑنے کی کوشش امریکی صدر بھی کرے تو وہ قانون سے نہیں بچ سکتا۔قانون کی حاکمیت جس معاشرے میں ہو۔ اسے ترقی کرنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ برطانیہ کو پارلیمانی جمہوریت کا ننھیال قرار دیا جاتا ہے۔ وہاں کا وزیراعظم ٹین ڈاوننگ سٹریٹ کے ایک چھوٹے سے بنگلے میں رہتا ہے۔ وزیراعظم، اس کی اہلیہ کو اپنے گھر کے کام خود کرنے پڑتے ہیں اپنی گاڑی خود ڈرائیو کرتے ہیں۔ بچوں کو سکول چھوڑنے وزیراعظم یا خاتون اول خود جاتی ہیں۔ راستے میں ٹریفک سگنل بند ہو تو اسے بھی قطار میں کھڑا ہونا پڑتا ہے۔ دوسری جانب ہمارے ہاں کی جمہوریت ہے جسے ہم نے برطانیہ سے ہی مستعار لیا ہے۔ ہمارے وزیراعظم ہاوس ، ایوان صدر، گورنر ہاوسز اور وزیراعلی ہاوسز پر قومی خزانے سے سالانہ اربوں روپے خرچ ہوتے ہیں۔ سیکورٹی کے سینکڑوں اہلکار وہاں تعینات ہوتے ہیں۔ وہاں نوکروں کی پوری فوج ہوتی ہے۔ جب وہ سیر کے لئے بھی باہر نکلیں تو ان کے راستے کی تمام سڑکیں بند ہوتی ہیں ان کے آگے پیچھے ہوٹر بجاتی پولیس کی درجنوں گاڑیاں ہوتی ہیں۔ اسی عیش و عشرت کی وجہ سے ہمارے حکمران کرسی کے ساتھ چمٹے رہتے ہیں۔اور اپنی اولاد کو بھی اسی راہ پر ڈالتے ہیں۔مغربی ممالک میں سیاست کو خدمت کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے جبکہ پاکستان سمیت جن ترقی پذیر ممالک میں نام نہاد جمہوریت ہے وہاں سیاست کو پیشہ سمجھا جاتا ہے۔ہمارے ہاں وی آئی پیز کے لئے بند ٹریفک سگنلز کھول دیئے جاتے ہیں۔ ون وے سڑکوں پر پولیس کی گاڑیوں کو چلنے کی اجازت ہوتی ہے۔ قانون بنانے اور اس پر عمل درآمد کرنے والے خود کو قانون سے بالاتر سمجھتے ہیں۔کسی بااثر آدمی پر پولیس ہاتھ نہیں ڈال سکتی۔ تاوقت یکہ اس سے بھی بااثر شخص کم بااثر پر ہاتھ ڈالنے کا حکم جاری نہ کرے۔ اور بااثر اسے سمجھا جاتا ہے جس کے پاس بہت زیادہ دولت ہوتی ہے یہ نہیں دیکھا اور جانچا جاتا کہ یہ دولت قانونی اور جائز طریقے سے حاصل کی گئی ہے یا کرپشن، ڈاکہ زنی، لوٹ مار، زمینوں پر قبضے، بلیک مارکیٹنگ یا منی لانڈرنگ سے بنائی گئی ہے۔ ایک دور وہ تھا کہ بھرے دربار میں ایک عام آدمی امیرالمومنین سے پوچھنے کی جرات کرتا تھا کہ مال غنیمت سے اسے جوکپڑا ملا ہے اس کا صرف کرتا بن گیا۔ خلیفہ نے کرتےکے ساتھ شلوار بھی اسے کپڑے کا بنایا ہے یہ اضافی کپڑا کہاں سے آیا۔ حضرت عمر فاروق کو وضاحت دینی پڑی کہ اس کے بیٹے نے اپنے حصے کا کپڑا انہیں دیا تھا جس کی انہوں نے شلوار بنادی۔ قانون کی حاکمیت کی اس سے بہتر مثال دنیا پیش نہیں کرسکتی۔ اسی قانون کی حاکمیت کی وجہ سے مسلمانوں نے ہفت اقلیم پر حکمرانی کی اور جب ہم نے خود کو قانون تصور کرنا شروع کردیا تو جہالت، غربت اور محکومیت کی آتھاہ گہرائیوں میں گر گئے۔ شاعر مشرق نے اسی تناظر میں کہا تھا کہ “بھلا دی ہم نے جو اسلاف سے میراث پائی تھی۔۔۔ ثریا سے زمین پر آسمان نے ہم کو دے مارا”

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔