
دسمبر کا مہینہ پاکستان پر بہت بھاری رہا ہے۔سانحہ سقوط ڈھاکہ اور آرمی پبلک سکول پشاور پر دہشت گردوں کے حملے سمیت ایسے واقعات اور سانحات اس مہینے رونما ہوئے جنہیں بھلایانہیں جاسکتا۔ بلاشبہ پاکستان کا دو لخت ہونا قومی تاریخ کا سب سے المناک واقعہ ہے۔ سولہ دسمبر1971کو نہ صرف مشرقی پاکستان ہم سے الگ ہوکر ایک الگ ملک بنگلہ دیش بنا۔بلکہ ہمارے 90ہزار سے زائد فوجی اور سویلین بھارت کے ہاتھوں جنگی قیدی بن گئے۔سقوط ڈھاکہ کے پس پردہ حقائق معلوم کرنے کے لئے حمودالرحمان کمیشن بھی بن گیا اس نے اپنی رپورٹ بھی تیار کی مگر وہ رپورٹ کبھی منظر عام پر نہیں آسکی۔سقوط ڈھاکہ کو لے کر ہمارے ہاں بہت سے مفروضے قائم کئے گئے اور زہرآلود پروپیگنڈہ مہم بھی چلائی گئی۔ کبھی ادھر میں ادھر تم کے شوشے چھوڑے گئے اور کبھی پاک فوج کی قیادت کو ملک توڑنے کا مورد الزام ٹھہرایا گیا۔ حقیقت یہ ہے کہ ہمارے ازلی دشمن بھارت نے قیام پاکستان کے دن سے ہی اس ملک کو توڑنے کی سازش شروع کی تھی۔ مکتی باہنی بھارتی خفیہ ایجنسی را نے ہی قائم کی تھی۔ جو بنگالیوں کے قتل عام میں ملوث رہی ہے اور اس کا الزام پاکستان پر لگایا جاتا رہا تاکہ بنگالیوں میں پاکستان کے خلاف نفرت کے جذبات بھڑکائے جاسکیں۔جس کا اعتراف بھارت کے سابق میجر جنرل سکھونت سنگھ نے اپنی کتاب انڈین وارز سینس انڈی پنڈنس اور بھارتی مصنف اور را کے سابق آفیسر آر کے یادیو نے اپنی کتاب مجیب نگر کا قیام میں کیا ہے کہ اندرا گاندھی پاکستان کو توڑنا چاہتی تھی اور انہوں نے بھارتی فوج اور خفیہ ایجنسی کو یہ ٹاسک سونپ دیا ہے۔بھارت نے شیخ مجیب کی مدد کی اور بنگلہ دیش کے قیام کے بعد ان کے قتل میں بھی بھارتی خفیہ ایجنسی ملوث تھی۔قومی تاریخ میں دوسرا المیہ واقعہ سانحہ اے پی ایس کی صورت میں سولہ دسمبر کو ہی پیش آیا جس میں دہشت گردوں نے پشاور کے ورسک روڈ پر واقع آرمی پبلک سکول میں گھس کر 144طلبا اور اساتذہ کو خون میں نہلادیا۔ اس واقعے میں درجنوں طلبا زخمی بھی ہوئے۔ اس واقعے نے پوری قوم کو ہلاکررکھ دیا۔ اور ہر گھر میں صف ماتم بچھ گئی۔پھولوں کے شہر پشاور میں ایک ہی روز ڈیڑھ سو معصوم بچوں کے جنازے اٹھے تو ہر آنکھ اشکبار تھی۔ ہر سال دسمبر کا مہینہ معصوم شہیدوں کی یاد دلاتا ہے۔ سانحہ حویلیاں بھی دسمبر میں پیش آیا تھا۔ پی آئی اے کا اے ٹی آر طیارہ 44مسافروں اور عملہ کے چار افراد سمیت 7دسمبر 2016کوچترال سے اسلام آباد کی طرف محو پرواز تھا۔ اس دوران انجن بند ہونے سے حویلیاں کے قریب پہاڑی سے ٹکرا کر تباہ ہوگیا۔ اس المناک حادثے میں ڈپٹی کمشنر چترال اسامہ احمد وڑائچ،معروف گلوکار اور نعت خوان جنید جمشید، سلمان اور میرے دوست اور بھائی عمرا خان نے بھی جام شہادت نوش کیا۔ سانحہ حویلیاں کی تحقیقات کے لئے بھی ایک کمیشن قائم کیاگیا تھا۔ چھ سال کا عرصہ گذرنے کے باوجود سانحے کی وجوہات اور ذمہ داروں کا تعین نہیں ہوسکا۔ پاکستان دسمبر کے مہینے میں ہی موٹر ویز کی تعمیر شروع ہوئی۔ اسی مہینے افغانستان پر سوویت یونین نے فوجی مداخلت کی جس کے گہرے منفی اثرات پاکستان پر مرتب ہوئے جس کا خمیازہ آج تک قوم بھگت رہی ہے۔ دسمبر میں ہی معاہدہ تاشقند پر دستخط ہوئے۔ پاکستان اسی مہینے دولت مشترکہ سے الگ ہوا۔ بھٹو نے دسمبر میں ملک کی بھاری صنعتوں کو قومیانے کا اعلان کیا۔سکھر بیراج اور ورسک ڈیم کی تعمیر بھی دسمبر میں شروع ہوئی۔ اسی مہینے پاکستان کی پہلی خاتون وزیراعظم محترمہ بے نظیر بھٹو کو لیاقت باغ راولپنڈی میں شہید کردیا گیا۔ ان کے قاتلوں کا بھی اب تک تعین نہیں ہوسکا۔ بین الاقوامی سطح پر بھی دسمبر میں اہم واقعات رونما ہوئے۔عراق کے سابق صدر صدام حسین کو دسمبر میں پھانسی دی گئی۔انڈونیشیا چار سو سال بعد نیدر لینڈ سے آزاد ہوا۔ دسمبر 2004میں ہولناک زلزلے اور سونامی سے دنیا کے تیرہ ممالک میں دو لاکھ سولہ ہزار افراد لقمہ اجل بن گئے۔ امریکہ کا خلائی مشن دسمبر 1968کو چاندکے مدار پر اتر گیا۔رائٹ برادرز نے اپنے جہاز کے ذریعے پہلی بار فضاء میں پرواز کرنے کا کامیاب تجربہ کیا۔ 1997میں دنیا کے 150ممالک نے کیوٹو جاپان میں گلوبل وارمنگ معاہدے پر دستخط کئے۔دسمبر1946میں اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے یونیسف کا قیام عمل میں آیا۔ جس نے ترقی پذیر ممالک میں تعلیم کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا ہے۔اسی مہینے انسانی حقوق سے متعلق اقوام متحدہ کا اعلامیہ جاری کردیاگیا۔ 1941میں جاپانی فوج نے دسمبر میں امریکی بندرگاہ پرل ہاربر پر حملہ کرکے اسے تہس نہس کردیا جس کے جواب میں امریکہ نے جاپانی شہروں ناگاساکی اور ہیروشیما پر ایٹم بم برسا دیئے۔دسمبر میں رونما ہونے والے ان قومی اور بین الاقوامی واقعات کے اثرات شاید آئندہ کئی صدیوں تک یاد رکھے جائیں گے۔
