داددبیداد..بے روزگاری کیوں؟..ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی

خبرآئی ہے کہ نوجوان نے اپنی بے روزگاری سے تنگ آکر خودکشی کی۔ چھوٹی سی خبر اخبار میں دوکالمی سرخی کے ساتھ شائع ہوئی ہے خبر میں بتایا گیا ہے ہے کہ نوجوان نے دومضامین میں ایم اے کیا تھا اُس کے پاس بی ایڈ اور ایم ایڈ کی پیشہ وارنہ ڈگریاں بھی تھیں اس کے باوجود وہ بے روزگار تھا ماں باپ طعنہ دیتے تھے کہ اتنا سارا پیسہ خرچ کرکے اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے باوجود بے روزگار پھررہا ہے بہن بھائی پوچھتے تھے کب روزگار ملے گا؟دوست احباب،عزیز،رشتہ دار جوبھی گھر آتا سب سے پہلے یہی پوچھتا کہ تمہیں روزگار ملا ہے یا نہیں؟اُس کا دل چاہتا تھا کہ کوئی اُس کے روزگار کانہ پوچھے مگر وہ کس کس کی زبان بند کرتا؟کس کس کی منت کرتا کہ اس موضوع پربات نہ کرو کس کس سے التجا کرتا کہ میرے روزگار کا مسئلہ گھر میں نہ چھیڑو اُس کے لئے ایسا کرنا ممکن نہ تھا اس لئے اُس نے سوچا بے روزگار نوجوان تم جاؤ دریا کی موجوں میں گم ہوجاؤ”نہ رہے بانس نہ بجے بانسری“چنانچہ افسوسناک واقعہ ہوا پھر اس کی رپورٹ اخبارات میں لگی تاکہ فیصلہ سازوں اور پالیسی بنانے والوں کے لئے عبرت کا کوئی سامان ہومگر ایسے واقعات ہوتے ہیں تو عبرت لینے والے منظر سے غائب ہوجاتے ہیں عموماًلوگ ایسے ناخوشگوار واقعات کی زمہ داری روزگار دینے والے اداروں پرڈال دیتے ہیں جب کہ ایسے واقعات کے اصل ذمہ دار وہ لوگ ہیں جوپالیسی بناتے ہیں اور جن کے ہاتھوں میں بڑے بڑے فیصلوں کا اختیار ہوتا ہے۔1989ء میں صوبائی وزیر اعلیٰ ایک بڑے ضلع کے دورے پرگیا اس دورے میں جن وفود کے ساتھ وزیراعلیٰ کی ملاقات طے کی گئی تھی ان میں بے روزگارگریجویٹس کا وفد بھی تھا وزیراعلیٰ نے خفیہ اداروں کے ذریعے وفد کے سربراہ اور دیگر ارکان کا تعارفی خاکہ تیار کروایا تھا وفد کا سربراہ انجینئر تھا اور بڑے این جی او میں نوکری کرتا تھا وفد کے10اراکین پرائیویٹ ہسپتالوں اور کالجوں میں نوکری پرلگے ہوئے تھے وزیراعلیٰ نے ان سے پوچھا کہ تم میں سے کوئی بھی بے روزگار نہیں ہے پھر تم نے اس نا م سے ایسوسی ایشن کیوں بنائی ہے؟وفد کے سربراہ نے کہا ہم سب انڈر ایمپلائیڈ ہیں ڈگری کے مطابق سرکاری روزگار ہمیں ملنا چاہیئے یہ ہمارا حق ہے وزیراعلیٰ نے کہا میں تمہاری خدمت کیلئے تیار ہوں لیکن تم اپنی غلط فہمی دور کروگریجویٹ ہونے کا مقصد نوکر بننا نہیں بلکہ باشعور اور کارآمدشہری بننا ہے روزگار کے اور بھی بے شمار دروزاے ہیں وزیراعلیٰ نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ٹائمز کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق ترقی یافتہ ممالک میں 75فیصد نوجوانوں کو نجی شعبے میں روزگار ملتا ہے اس لئے نوجوانوں کی پہلی ترجیح بھی یہ ہوتی ہے کہ روزگار کیلئے نجی شعبے سے رجوع کیا جائے جن نوجوانوں کے پاس غیر معمولی قابلیت اور صلاحیت ہوتی ہے وہ اپنا کاروبار شروع کرتے ہیں اور دوسرے نوجوانوں کو اپنے ہاں روزگار پرلگاتے ہیں سرکاری نوکری کونوجواں پسند نہیں کرتے یہ ان کی ترجیحات میں آخری نمبر پرہوتی ہے۔وفد کے ارکان نے باہر آکر دوستوں کوبتایا کہ وزیراعلیٰ نے روزگار دینے کے بجائے دعائیں اوربددعائیں دیکر ہمیں رخصت کیا ہے یہ غلط ترجیحات نوجوانوں کے ذہنوں میں پالیسی سازوں کے فیصلوں کی وجہ سے جگہ پاتی ہیں چین،جاپان اور کوریا میں 70فیصد طلباء اور طالبات کو میٹرک کے ساتھ فنی تعلیم دی جاتی ہے۔وہ20سال کی عمر میں کارخانوں کے اندر کام پرلگ جاتے ہیں اور ملک کی ہنرمندافراد ی قوت میں شامل ہوجاتے ہیں صرف30فیصد گریجویشن کرتے ہیں چنانچہ وہاں کوئی بے روزگار نہیں خدا بخشے ہمارے استاد ڈاکٹر محمدانور خان مرحوم کہا کرتے تھے کہ ڈبل ایم اے ٹرپل ایم اے ہونا کوئی قابلیت نہیں یہ نالائق ہونے کی نشانی ہے اس کا سیدھا مطلب یہ ہے کہ تم نے ایم اے کیا کچھ نہ ملا پھر ایم اے کیا کچھ نہیں ملا پھرایم اے کیا اب پوری عمر جوتے چٹخاتے پھروگے قابلیت یہ ہے کہ تم نے میٹرک کے ساتھ فنی تعلیم حاصل کی اس بنیاد پر کام شروع کیا اور معاشرے کے لئے،خاندان کے لئے،ماں باپ کے لئے مفید انسان بن گئے خدا کرے تمہیں کبھی ڈبل اور ٹرپل ایم اے کرنے کی ضرورت نہ پڑے1973ء میں ایک پالیسی بنی تھی جس کے تحت ہائی سکول میں ترکھان،مستری،الیکٹریشن،موٹر میکنک،زرعی مہارت کے سپلیشٹ وغیرہ تیارکرنے کیلئے ورکشاپ،اساتذہ اور سامان تدریس مہیا کیے جاتے تھے1979ء میں اس پالیسی کوختم کیا گیا اکیسویں صدی میں قوم کے نونہالوں کو اس قسم کی پالیسی چاہیئے جوافرادی قوت مہیا کرے بے روزگار گریجویٹ پیدانہ کرے بے روزگار کیوں؟اہم سوال ہے اس کا جواب یہ ہے کہ قدم قدم پر پالیسی اور فیصلہ سازی کی ناکامی آڑے آتی ہے۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔