قومی وسائل کا ضیاع…محمد شریف شکیب

اٹھارہ سال قبل8اکتوبر2005کے ہولناک زلزلے میں ہزارہ اور ملاکنڈ ڈویژن میں وسیع پیمانے پر جانی و مالی نقصان ہوا تھا۔اس قدرتی آفت سے ہونے والے نقصانات کا ازالہ ابھی تک نہیں ہوسکا ہے۔ زلزلے سے جو تعلیمی ادارے اور سرکاری عمارتیں زمین بوس ہوئی تھیں ان میں سے 60فیصد اب تک بحال نہیں ہوسکیں۔ ان جانی و مالی نقصانات کی بنیادی وجہ ناقص تعمیرات تھیں۔قومی تعمیر کے تقریبا تمام محکموں میں منصوبے کی تخمینہ لاگت کا صرف 30فیصد ہی اس منصوبے پرخرچ ہوتا ہے جبکہ 70فیصد کمیشن، چوری اور منافع کی شکل میں سرکاری اہلکاروں کی جیبوں میں چلا جاتا ہے۔ضلع چترال کا سب سے طویل لون ایری گیشن چینل اس کی زندہ مثال ہے۔ 1988میں اپرچترال کے تاریخی مگر بے آب و گیاہ علاقہ لون کو بروم گول سے نہر کے ذریعے پانی لاکر آباد کرنے کے منصوبے کی منظوری دی گئی۔ ابتدائی سروے کے مطابق اس نہر کی لمبائی ساڑھے گیارہ کلو میٹر تھی۔یہ منصوبہ 86لاکھ روپے کی ابتدائی لاگت سے شروع کیا گیا۔ تاہم اس کی تعمیر مکمل ہونے میں کئی سال لگ گئے اور اس کی لاگت ایک کروڑ بیس لاکھ سے بھی تجاوز کرگئی۔منصوبے کی تفصیلات کے مطابق تریچ میر گلیشئر کے دامن میں بروم گول سے چھ سو کیوسک پانی لون پہنچانا تھا جس سے نہ صرف زیرکاشت ہزاروں ایکڑ اراضی پر سالانہ دو فصلیں اگائی جانی تھیں بلکہ ہزاروں ایکٹر بنجر اراضی کوبھی سیراب کرنا تھا جس کی بدولت زرعی پیداوار میں اضافے کی صورت میں لوگوں کے معیار زندگی میں بڑی تبدیلی آنی تھی۔منصوبے پر تعمیراتی کام میں سست رفتاری کی وجہ سے اس کی تخمینہ لاگت بڑھ گئی اور متعلقہ محکمے کے ذمہ دار حکام نے پانی کے بہاو کو بھی دانستہ طور پر سست رکھا۔نقشے کے مطابق نہر کی ٹیل آنوٹیک تک لانے کے بجائے لون کی بالائی چراگاہ(غاری) کے مین نالے تک لاکر چھوڑ دیا گیا جس کی وجہ سے ساڑھے گیارہ کلو میٹر طویل نہر گھٹ کر ساڑھے نو کلو میٹر رہ گئی اوردو کلو میٹر نہر کے تحت آنے والی بنجر اراضی بھی سیراب نہ ہوسکی۔محکمہ آبپاشی کے مروجہ فارمولے کے تحت تعمیر کے وقت ایک ہزار فٹ فاصلے پر سطح کو ایک فٹ نیچے رکھا جاتا ہے تاکہ پانی بہاو بلارکاٹ جاری رہے۔ اس فارمولے کو یکسر نظر انداز کردیا گیا۔ بروم گول ہیڈ سے جب پانی نہر میں چھوڑا جاتا ہے تو ٹیل تک پہنچنے میں اسے ایک ہفتے کا وقت لگتا ہے جس سے اس نہر کی ناقص تعمیر کا بخوبی اندازہ لگایاجاسکتا ہے۔اس کی وجہ سے کچینہر ٹوٹنے اوربروم کا علاقہ متاثر ہونے کا خدشہ بھی رہتا ہے۔چترال کے بالائی علاقوں میں بارشیں کم ہوتی ہیں اس علاقوں میں گندم اورجوکی فصل کے علاوہ باغات اور پھل دار درختوں کو اپریل میں پانی کی ضرورت ہوتی ہے۔ لون ایری گیشن چینل کا پانی اگست اور ستمبر کے دو مہینوں میں ہی میسر آتا ہے۔نہر کی گہرائی اور چوڑائی کم ہونے اور بہاو میں سستی کی وجہ سے صرف ایک تہائی پانی ہی ٹیل تک پہنچ پاتا ہے۔ہر سال لون ایری گیشن چینل کی مرمت کے لئے لاکھوں روپے کے فنڈز جاری ہوتے ہیں۔ٹینڈر کھولے جاتے ہیں ٹھیکیدار ٹینڈر خرید لیتا ہے اور محکمے کے افسروں اور اہلکاروں کو ان کا حصہ دیتا ہے اور رفو چکر ہوتا ہے۔نہر کی نگرانی کے لئے چھ اہلکار متعین ہیں مگر ان میں سے ایک آدھ ہی کبھی کبھار نظر آتا ہے۔ستم بالائے ستم یہ ہے کہ پانی میسر نہ ہونے کے باوجود لوگوں سے باقاعدگی سے لگان وصول کیا جاتا ہے۔سرکاری ریکارڈ کے مطابق اس ایری گیشن چینل سے اضافی ایک ایکٹر بنجر اراضی بھی سیراب نہیں ہوئی۔اور قومی خزانے سے کروڑوں روپے اس بے سود
منصوبے پر ضائع ہوچکے ہیں۔ لون کے عمائدین نے قومی وسائل کے ضیاع اور عوامی مسائل کی بار بار نشاندہی کی مگر کسی کے کان میں جوں تک نہیں رینگی۔من حیث القوم ہماری معاشی، معاشرتی اور ذہنی پسماندگی کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہم ظلم و ناانصافی کو مقدر کا لکھا سمجھ کر سہہ لیتے ہیں اور اپنے حق کے لئے صدائے احتجاج بلند نہیں کرتے اور اگر کوئی ہمت کرکے احتجاج کر بھی لے تو نوٹس لینے والا کوئی نہیں ہوتا۔یہ بات طے ہے کہ جب تک ہم قومی وسائل کوملک و قوم کی امانت سمجھ کر ان کا ضیاع روکنے کے لئے قانون سازی اور عملی اقدامات نہیں کریں گے۔اس وقت تک ترقی کی شاہراہ پر آگے نہیں بڑھ سکتے اور آٹھ اکتوبر جیسے سانحات سے دوچار ہوتے رہیں گے۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔