ایون کے سلگتے مسائل کے حل کے حوالے سے کوشش کرنے کی غرض سے ایک غیر معمولی اجلاس کا انعقاد

چترال (محکم الدین ) علاقہ ایون کے سلگتے مسائل کے حل کے حوالے سے کوشش کرنے کی غرض سے ایک غیر معمولی اجلاس زیر صدارت سوشل ایکٹی وسٹ عنایت اللہ اسیر ایون ریور ان ہوٹل میں منعقد ہوا ۔ اجلاس میں چیرمین وی سیز ایون وجیہ الدین ، محمد رحمن ،سابق ناظم رحمت الہی ، کونسلر اسرار احمد ، یوتھ کونسلر صہیب عمر ، اسلم الدین ، جنرل کونسلر محمد امین شاہ ، لیڈی کونسلر انبیاءمہناز ،سابق کونسلر نسیمہ بی بی ،سوشل ورکرعبد الصمد ، اظہار نبی اور سابق ممبرضلع ضلع کونسل عبد الوہاب نے شرکت کی ۔اور تمام امور زیر بحث لانے کے بعد ذیل قراردادیں متفقہ طور پر منظور کی گئیں ۔ ایک قرارداد میں یہ مطالبہ کیا گیا ۔ کہ گورنمنٹ گرلز ہائی سکول ایون ضلع لوئر چترال میں سب سے زیادہ تعداد کی حامل سکولوں میں شامل ہے ۔ لیکن اس سکول میں طالبات کو گذشتہ کئی سالوں سے ناکافی واش رومز اور پانی کی عدم دستیابی کا مسئلہ درپیش ہے کثرطالبات واش رومز کی سہولت نہ ہونے کے باعث شدید ذہنی اذیت کا شکار ہیں ۔ اسی طرح چمرکن سے تعلق رکھنے والی سکول کی دو اساتذہ گذشتہ کئی عر صے سے ٹرانسفر و پوسٹنگ کی چکر میں رہتی ہیں ۔ جبک ایک استانی مسلسل چار مہینوں سے دیوٹی سے غیر حاضر ہے ۔ جس سے طالبات کا تعلیمی سال ضائع ہو رہا ہے ۔ اس لئے ڈیوٹی میں کوتاہی برتنے والے اساتذہ کے خلاف فوری ایکشن لیاجائے،سکول کے اندر نامکمل سہولتوں کو پورا کیا جائے ۔اجلاس میں حال ہی میں سکول ہذا میں متعین ہیڈ مسٹریس سے اس توقع کا اظہار کیا گیا ۔ کہ پی ٹی سی کو فعال بنا کر ان مسائل کے حل کیلئے بھر پور کردار ادا کرے گی ۔ اور غیر فعال اساتذہ کے خلاف سخت ترین ایکشن لے کر اسے ایک مثالی سکول بنانے میں اپنا کردار ادا کرےگی ۔ جس میں کمیونٹی ان کا بھر پور ساتھ دے گی ۔ اجلاس میں ایک قرارداد میں اس امر کا اظہار کیا گیا کہ ایون کالاش ویلیز روڈ کی تعمیرکیلئے مقامی لوگوں سے ان کی زمینات و مکانات کو کوڑیوں کے دام خرید لئے گئے ۔ جنہوں نے سڑک کی بلا تاخیر تعمیر کیلئے اپنے مکانات مسمار کئے اور قبریں کھود کر مردے دوسری جگہ منتقل کئے ۔ جبکہ بے پردگی الگ مول لی ۔تاکہ جلد سے جلد سڑک کی تعمیر ممکن ہو سکے ۔ لیکن افسوس کا مقام ہے ۔ کہ اب دن رات ایک کرکے سڑک تعمیر کرنے کی بجائے این ایچ اے اور ان کے ٹھیکہ دار لمبی تان کر سو رہے ہیں ۔ اور ایون قصبے کے اندر سڑک کا کوئی کام نہیں ہو رہا ۔ اس لئے مطالبہ ہے ۔کہ این ایچ اے ایون کے اندر سڑک کی تعمیر کو فوری اور تیز رفتاری سےشروع کرے ۔ ایک قرار داد میں سابق ایم پی اے چترال محترمہ بی بی فوزیہ کو ان کی عدالتی کامیابی و سرخروئی پر مبارکباد دی گئی ۔ اور کہاگیا ۔ کہ محترمہ بی بی فوزیہ نے بطور ایم پی اے ایون کو (چیتر) آرسی سی پل اورگورنمٹ گرلز ڈگری کالج ایون کا تحفہ دیا تھا ۔ پل کی تعمیر دو سال پہلےمکمل ہو چکی ہے اور زیر استعمال ہے ۔ لیکن گرلز ڈگری کالج ہائر ایجوکیشن کمیشن او لینڈ اونر کی باہمی سازباز کی وجہ سے ہنوز تعمیر ہونے سے محروم ہے ۔ اگر زمین فیزیبل نہیں ہے،تو لینڈ اونر سے متبادل زمین لے کر تعمیر کا آغاز کیا جائے ۔ کیونکہ اب تک ایون کی ہزاروں طالبات کالج کی تعمیر میں تاخیر کی وجہ سے تعلیم سے محروم ہو چکی ہیں ۔ اس لئے ہائر ایجوکیشن کمیشن کالج کی تعمیر فوری شروع کرے ۔ بصورت دیگر کمیونٹی تمام متعلقہ اداروں کے خلاف مقدمہ دائر کرنے پر مجبور ہو گی ۔ انہوں نے اس حوالے سے چترال اور ملکی سطح پر انسانی حقوق اور خواتین کے حقوق کےلئےکام کرنے والے اداروں اور تنظیموں سے بھی کردار ادا کرنے کا مطالبہ کیا۔اجلاس میں اس بات پر تشویش کا اظہار کیا گیا ۔ کہ ایون نالے کے اندر بننے والی سڑک کا پورا ملبہ دیوار بنائے بغیر نالے میں ڈالا جا رہا ہے۔ جس سے نالے کے پانی کے کٹاو سے تمام ملبہ قصبہ ایون کے پانی اور علاقے کو بری طرح متاثر کر رہا ہے ۔ اس لئے سڑک اور ملبے کے کٹاو کو روکنے کیلئے فوری طورپر دیواروں کی تعمیر شروع کی جائیں ۔اجلاس میں گورنمنٹ پرائمری سکول شغور ایون کی 2015 کے زلزلے میں متاثرہ دیوار کی تعمیر کرکے بحال کرنےکی بجائے سکول کو پرائیویٹ مکان میں منتقل کرنے کو محکمہ ایجوکیشن کی نا اہلی قرار دیا گیا ۔ جبکہ پانچ سالوں سے مالک مکان کو کرایہ بھی ادا نہیں کئے گئے ۔ مطالبہ کیا گیا ۔ کہ سکول کی دیوار فوری تعمیر کرکے طلبہ کو اص سرکاری سکول منتقل کیا جائے ۔ اور مالک مکان کو بقایاجات اداکردیے جائیں۔ اجلاس میں ایک دس رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی جو مذکورہ مسائل کے حل کیلئے متعلقہ اداروں سے رابطہ کرے گی ۔ جن میں چیرمین وجیہ الدین ،چیرمین محمد رحمن ،سابق ناظم رحمت الہی ،عنایت اللہ اسیر ،محب الرحمن ،لیڈی کونسلر انبیا مہناز ، سابق کونسلر نسیمہ بی بی،گوہر نیاب ،یوتھ کونسلر صہیب عمر اور سابق چیرمین ظہیرالدین شامل ہیں

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔