جشن یومِ ولادت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم..بدیع الرحمن چترالی

الحمدللہ اج 12 ربیع الاول جشن یومِ ولادت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور دنیا سے پردہ فرما نے کادن ہے۔ہمارے علماء حضرات میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم منانے یا نہ منانے کے بحث و مباحثے کے چکر میں اولجھے ہوے ہیں۔یہان تک سنے کو آتا ہے کہ اسلام سے ہی ایک دوسرے کو خارج قرار دیتے ہیں ۔
ہماری ان تمام سے گزارش ہے ۔کہ اس جشن عیدمیلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کو منانے یا نہ منانے پر زور دینےکے بجائے اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے تعلیمات اور ارشادات پر عمل کرنے کی تلقین کرتے تو کتنا بہتر ہو تا۔فرقہ واریت پھیلانے کے بجائے اسلام پھیلاتے۔ مسجد و مدارس میں مسلک کے بجائے مذہب پڑھاتے ۔اسلامی تاریخ و ادوار بیان کرتے ۔عدل وانصاف کی اسلامی مثالیں پیش کرتے۔انگریزی قانون سے آزادی اور اسلامی نظام کی نفاذ کیلئے کام تیز کرتے ۔ٹیکس کے متبادل زکوٰۃ نظام پر توجہ دیتے۔۔تو کیا خوب مسلمان بچے بچیوں کی تربیت ہوتی ۔اوراللہ تبارک و تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہمیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے تعلیمات پر عمل پیرا ہونے کی توفیق کے ساتھ ساتھ فرقہ واریت سے بھی محفوظ رکھے ۔امین ثمہ آمین ۔

 

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔