ادارہ ایف ایل آئی کے زیر اہتمام چترال میں زبانوں سے متعلق مہراکہ کا انعقاد ۔

چترال ( محکم الدین ) مادری زبانوں کے تحفظ اور ترقی کیلئے کام کرنے والا ادارہ فورم فار لینگویج انشیٹیوز کے زیر انتظام چترال میں ایک کثیراللسانی مہرکہ منعقد ہوا ۔ جس میں چترال میں بولی جانے والی بارہ زبانوں کے حالات، ان کی بقا کو درپیش مسائل اور ان کے تحفظ کیلئے کی جانے والی کوششوں پر تفصیل سے روشنی ڈالی گئی ۔ مہرکہ میں زبانوں کے محققین و قلم کاروں اور دانشوروں کی بڑی تعداد موجود تھی ۔ مختلف زبانوں پر کام کرنے والوں نے اپنے خطاب میں کہا ۔ کہ ایف ایل آئی کے تعاون سے چترال کے دور دراز وادیوں میں بولی جانے والی زبانوں کو اپنا وجود برقرار رکھنے میں مدد ملی ہے ۔جو تشویشناک حد تک معدومیت کے خطرے سے دوچار تھے ۔ مہرکہ آٹھ سیشنز پر مشتمل تھا ۔

افتتاحی نشست کے مہمان خصوصی انجمن ترقی کھوار کے صدر شہزادہ تنویر الملک تھے جبکہ چترال کی تاریخ پر عمیق نظر رکھنےوالے محقق سرور سہرائی نے صدر محفل کے فرائض انجام دی ۔ دیگر مہمانوں میں ڈی ای او لوئر چترال محمود غزنوی ، ممتاز محقق پروفیسر نقیب اللہ رازی ،محمد عرفان عرفان شامل تھے ۔

ایف ایل آئی کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر فخر الدین اخونزادہ نے افتتاحی سیشن میں مہرکہ کے انعقاد کے مقاصد بیان کرتے ہوئے کہا ۔ کہ ایف ایل آئی کی یہ کوشش ہے ۔ کہ چترال کی پانچ لاکھ کی آبادی میں ایک درجن سے زیادہ مختلف زبانیں بولنے والوں کو ایک جگہ پر جمع کرکے ان کے باہمی تعلق اور ر وابط کو مضبوط بنایا جائے ۔ تاکہ زبانوں کومعدومیت سے بچانے اور انہیں ترقی دینے کیلئے تمام اہل زبان مشترکہ طور پر کوشش اور جدوجہد کریں ۔

اس سیشن سے صدر محفل اور مہمان خصوصی و مہمانان اعزاز نے خطاب کرتے ہوئے ایف ایل آئی کی زبان کیلئے خدمات کی تعریف کی ۔

دوسری نشست میں کتہ ویری (شیخانوار) زبان پر ناصرمنصور ،مڈکلشٹی زبان کے صوتی اثرات پر پروفیسر ظہورالحق دانش نے اپنے تحقیقی مقالات پیش کئے اور پریزنٹیشن دیں ۔ اور ایف ایل آئی کے تعاون سے زبانوں کو کتابی شکل دینے کے حوالے سے کارکردگی پر روشنی ڈالی ۔ جبکہ مئیر کے فرید احمد رضا نے “کھوار لکھائی میں سوشل میڈیا کا کردار ” کے موضوع پر خطاب کرتے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا ۔ کہ چترال میں پیسے دے کر کتاب خریدنےکا رواج نہیں ہے ۔ اس لئے مئیر اور انجمن ترقی کھوار جیسی ادبی تنظیمات کو کتابوں اور رسالوں کی چھپائی کے اخراجات کی وجہ سے شدید مالی مشکلات کا سامنا ہے ۔ تیسری نشست پلولہ زبان کیلئے مخصوص تھی ۔ جس میں پلولہ زبان پر کام کرنے والے قاضی اسرار الدین اور مولانا شریف احمد نے اس زبان کے تحفظ کیلئےکئے جانے والے اقدامات کا ذکر کیا ۔ اور بتایا کہ 2003 میں ایک سوئیڈش پروفیسر کے تعاون سے زبان پر کام کا آغاز ہوا ۔ بعد میں ایف ایل آئی کے تعاون سے زبان کو ترقی دینے میں مدد ملی ، آج تک دس کتابیں ،ایک قرآن مجید کا پالولہ زبان میں ترجمہ اور ڈکشنری چھپ چکی ہیں ۔ پالولہ سکول قائم کی ، پلولہ یو ٹیوب چینل اور پالولہ آن لائن پیج کام کر رہےہیں ۔ اس نشست میں گواربتی زبان پر فضل اکبر اور نصیراللہ ناصر نے اور دمیلی زبان پر اور عصمت اللہ دمیلی نے اپنی زبان کی ترقی کیلئے کی جانے والی کوششوں پر روشنی ڈالی۔ اور کہا کہ سٹاک ہوم یونیورسٹی آف سوئیڈن کے تعاون سے ابتدائی طور پر کام کا آغاز ہوا ۔ حروف تہجی ترتیب دی ۔ ڈکشنری اور تاریخ پر کام ہو رہا ہے ۔
اس نشست میں پروفیسر حسام الدین نے بطور صدر محفل خطاب کیا ۔ چوتھا سیشن پینل ڈسکشن کا تھا ۔ ڈی ای او محمود غزنوی نے صدارت کی ، فرید احمد رضا ، مختار علی شاہ ، ضیاء الرحمن پشتو زبان کی نمایندگی کرتے ہوئے حصہ لیا ۔اس ڈسکشن میں سکولوں میں زبانوں کی ترویج کیلئے حکومتی اور مقامی سطح پر درپیش مسائل کی نشاندہی کی گئی ۔ جو طویل ڈسکشن کے بعد اس بات پر اختتام پذیر ہوا ۔ کہ صوبے میں پچیس ہزار پرائمری سکولوں میں زبانوں کیلئے اگرایک ا ستاد بھی رکھا جائے۔ تو پچیس ہزار اساتذہ بھرتی کرنے پڑیں گے ۔ مگر موجودہ وقت میں معاشی مسائل کی وجہ سے حکومت اس پوزیشن میں نہیں ہے ۔

پانچویں نشست کے پینل ڈسکشن کی صدارت نقیب اللہ رازی نے کی ،ڈاکٹر نور شمس الدین نے نظامت کی ۔ یوسف فرہاد ، ادینہ شاہ گواربتی ، مشتاق احمد پالولہ ، نجم الحق نجم کتہ آوری ڈسکشن کا حصہ رہے۔ اس نشست میں ” چترال کی زبانوں میں نثر نویسی اور رکاوٹیں ” کے موضوع پر طویل بحث ہوئی، اورچترال میں نثر نگاری کو فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیا گیا ۔ صدر ڈسکشن نےکہا ۔ کہ یہ بہت افسوسناک امر ہے۔کہ ابھی تک نصابی کتابوں کے رسم الخط پر اتفاق نہ ہو سکا ۔
ساتویں سیشن کی صدارت زاہد اللہ لئبریرین نے کی ۔ اس نشست میں یدغہ زبان پر معروف ادیب و شاعر علاءالدین حیدری نے اپنا مقالہ پیش کیا ۔ جس میں انہوں نے انکشاف کیا ۔ کہ یدغہ در اصل زرتشتوں کی زبان ہے ۔ پیر شاہ ناصر خسرو اور ان کے پیروکاروں کے ذریعے انجیگان ( لٹکوہ ) میں پھیلا ۔ مگر بعد آزان کھوار کی چادر کے نیچے دب گیا ۔ اس کے بولنے والوں نے بھی شرم محسوس کرتے ہوئے اس زبان کو زبردست نقصان پہنچایا ۔ لٹکوہ کے مقام روئی ، بیرزین ،اوغوتی وغیرہ مقامات میں آج بھی یہ زبان موجود ہے ۔ اور بتدریج نئے سرے سے فروغ پا رہی ہے ۔

آٹھویں نشست کثیر اللسانی مشاعرے کا تھا ۔ جس کے مہمان خصوصی چترال پریس کلب کے صدر ظہیرالدین تھے۔ اس رنگ برنگی محفل مشاعرے میں منیر احمد ، جنگ بہادر جانی ، الطاف حسین خیاب نے کھوار ، علاء الدین حیدری یدغہ ، آدینہ شاہ و نصیر اللہ ناصر گوار بتی ، نجم الحق نجم و اسماعیل حیدری کتہ آوری ، تاج علی بیگ وخی اورضیاء الرحمن نے پشتو میں اپنا کلام پیش کیا ۔

صدر محفل نے اپنے تاثرات بیان کرتے ہوئے کہا ۔ کہ یہ چترال کی خوبصورتی ہے۔ کہ یہاں کی تمام زبانیں ایک گلدستے کی مانند ہیں ۔ اور ایک دوسرے کی زبان نہ جانتے ہوئے بھی سب کچھ سمجھ میں آجاتا ہے۔ انہوں نے کہا ۔کہ چترال کےحدود میں ہر ایک زبان کا تحفظ اورانہیں ترقی دینے کی کوشش میں مددکرنا ہماری ذمہ داری ہے ۔ سیشن کےآخر میں ثقافتی شو کا اہتمام کیا گیا ۔ جس کے مہمان خصوصی لکچرر عالمگیر بخاری تھے ۔ اس موقع پر مختلف زبانوں کی کتابوں اسٹال لگائے گئے۔ اور کھوار نئے کیلنڈر کی رونمائی کی گئی ۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔