
ضلع اپر چترال کے لئے میونسپل اور علاقائی ترقیاتی تجویز..ناصر علی شاہ
بونی کے مین بازار سے صبح آٹھ بجے کے بعد گزرتے ہوئے کبھی رک کر، زرا تماشہ دیکھیں
ایک طرف گاڑیوں کا ہارن، دوسری طرف موٹر سائیکلوں کی قطار، بیچ میں پیدل چلتا ہوا بچہ، اسکول سے واپس آتی ہوئی بچی، اور دکان کے سامنے کھڑی گاڑی جو نہ آگے جا رہی ہے نہ پیچھے۔ دفاتر کا بے تحاشہ رش الگ، کالج کے طلبہ کا ہجوم الگ، اور اس سب کے اوپر اڑتی ہوئی دھول۔
کیا یہ وہی بونی ہے جس کی خوبصورتی پر ہم فخر کرتے تھے؟ جس کی ہوا میں تازگی تھی جس کے کھیتوں میں سبزہ تھا جس کی گلیوں میں سکون تھا؟
سچ یہ ہے کہ بونی آج بے ہنگم بن چکا ہے۔ نہ الف کا پتہ چل رہا ہے نہ ب کا۔ دفاتر، اسکولز، شاہراہ اور مارکیٹ، سب اندھا دھند بنائے گئے ہیں۔ ٹریفک کا کوئی نظام نہیں، پارکنگ کی کوئی حد نہیں۔ نتیجہ سب کے سامنے ہے۔ ماحولیاتی آلودگی بڑھ گئی ہے، زرعی زمینیں سکڑ رہی ہیں، اور شہر کا حسن روز بروز ماند پڑ رہا ہے۔
اگر بونی اسی رفتار سے آگے بڑھا تو کچھ سالوں بعد یہاں قدم رکھنے کے لیے زمین نہیں ملے گی، پینے کے لیے پانی کا ایک بوند نہیں ملے گا، اور فضلہ چھپانے کے لیے جگہ نہیں ملے گی۔ یہ وہ حقیقت ہے جو ہر روز ہماری آنکھوں کے سامنے سے گزر رہی ہے۔
بونی کا ایک شہری ہونے کے ناطے میونسپل اور علاقائی ترقیاتی تجویز میں اپنا حصہ ڈال رہا ہوں، آپ اسے احساس سمجھ لیں یا زمہ داری
سب سے پہلا قدم۔
مین بازار اور اندرون بونی سے تمام دفاتر بونی بولان لشٹ (کولوم شوغور) منتقل کیے جائیں۔ ایک ہی جگہ، بہترین ڈیزائن کے ساتھ۔ فائدہ یہ بھی کہ وہاں سے بونی کروئے جنالی تک سب سے لمبا اور منظم مارکیٹ بھی بنے گا۔
اور ساتھ میں،
1. زرعی زمین بچائی جائے، رہائشی، تجارتی اور ادارہ جاتی زونز الگ الگ کیا جائے
2. زلزلہ سے محفوظ، کثیر المنزلہ عمارتیں ترتیب دی جائے
3. سڑکوں پر فٹ پاتھ اور مرکزی پارکنگ پلازے بنایا جائے
4. چشموں اور ندی کا پانی فلٹر کرکے گھروں تک لایا جائے اور جدید پائپ لائنز بچھائی جائے اور ساتھ میں جدید سیوریج سسٹم بنایا جائے جو وقت کا تقاضا ہے۔
5. ندی نالوں پر حفاظتی بند تعمیر ہو تاکہ سیلاب کی صورت میں نقصان کم سے کم ہو
6. ہر سیکٹر میں پارک، بچوں کے کھیلنے کی جگہ اور شجرکاری ہو یہ نقشہ ہے کیونکہ بونی ہمارا ہے، اسے بچانا بھی ہم نے ہی ہے۔
7. مارکیٹ بنانے والوں کو انڈر گراؤنڈ پارکنگ ایریا بنانے کا پابند بنایا جائے
اگر ہم مفاد پرستی کا عینک اتر کر، اجتماعی فوائد کا سوچیں تو ہم بونی کو جدید شہر بنا سکتے ہیں ہم ماحول کو بچا سکتے ہیں
آپ کی کیا رائے ہے؟
بونی کو سب سے پہلے کس چیز کی ضرورت ہے؟
