
جماعت اسلامی۔۔۔ آرمی کی ٹیم بی؟۔۔تحریر۔ مبشرالملک
آج کل جماعت اسلامی پر پٹرولیم لیوی کم رکھنے کے مطالبے کے دھرنے کے حوالے سے ’’آرمی کی ٹیم بی‘‘ ہونے کی تنقید ہو رہی ہے۔ یہ الزام صرف آج کے واقعے تک محدود نہیں؛ ناقدین اس کے ڈانڈے جماعت اسلامی کی کئی دہائیوں پر محیط سیاسی تاریخ سے جوڑتے ہیں۔ آئیے جذبات کے بجائے تاریخ کے چند اہم ابواب کا غیر جانب دارانہ جائزہ لیتے ہیں۔
جماعت اسلامی کی تاریخ میں فوجی حکومتوں کے ساتھ تعلق ہمیشہ یکساں نہیں رہا۔ ایوب خان کے دور میں جماعت نے مخالفت بھی کی، لیکن جنرل ضیاء الحق کے دور میں جماعت کے بعض رہنما حکومت میں شامل ہوئے اور اسلامائزیشن کے عمل میں شریک رہے۔ جماعت کا مؤقف تھا کہ مقصد اسلامی قوانین کا نفاذ تھا، جبکہ ناقدین اسے فوجی حکومت کے لیے سیاسی سہارا سمجھتے ہیں۔
ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف 1977 کی تحریک بھی اس بحث کا اہم باب ہے۔ پاکستان قومی اتحاد کی تحریک میں جماعت اسلامی ایک نمایاں جماعت تھی اور اس کے رہنماؤں نے بھٹو حکومت کے خلاف ملک گیر احتجاج میں اہم کردار ادا کیا۔ اس تحریک کا بنیادی نعرہ انتخابی دھاندلی کے ساتھ ساتھ ’’نظامِ مصطفیٰ‘‘ کا قیام بھی تھا۔
اس وقت بھٹو سے نجات کو بہت سے مذہبی اور سیاسی حلقوں نے ایک بڑی کامیابی اور ’’نعمت‘‘ سمجھا۔ لیکن بعد کے برسوں میں بھٹو کی پھانسی، ضیاء الحق کا طویل مارشل لا اور پاکستان کی سیاست پر اس کے اثرات نے اسی واقعے کو ایک مختلف تاریخی تناظر دے دیا۔ آج بھٹو کو ’’شہید‘‘ قرار دینے والے بھی بہت ہیں اور ان کی سیاست کا ازسرنو جائزہ لینے والے بھی۔
یہ کہنا کہ بھٹو کے خلاف تحریک صرف امریکی مفاد کے تحت چلائی گئی یا جماعت اسلامی نے امریکہ کے کہنے پر یہ کردار ادا کیا، براہِ راست ثبوت کے بغیر تاریخی طور پر قطعی دعویٰ ہوگا۔ تاہم یہ سوال ضرور اپنی جگہ ہے کہ بھٹو کی حکومت گرانے کی تحریک، اس میں مذہبی نعروں کے استعمال، اور اس کے بعد آنے والی فوجی حکومت کے درمیان سیاسی تسلسل کو کس طرح سمجھا جائے۔
آج اگر اس پورے سیاسی بحران کا تمام ملبہ صرف امریکہ اور ضیاء الحق پر ڈال کر بھٹو کو مکمل طور پر بے قصور اور صرف ’’شہید‘‘ بنا دیا جائے تو یہ بھی تاریخ کا یک طرفہ مطالعہ ہوگا۔ بھٹو کے خلاف تحریک میں شریک سیاسی قوتوں، خصوصاً مذہبی جماعتوں، کے کردار کا بھی اسی دیانت داری سے جائزہ لینا چاہیے۔
1971 کے مشرقی پاکستان میں جماعت پاکستان کی وحدت کے دفاع میں ریاست کے ساتھ کھڑی رہی۔ اس کے بعض کارکنوں اور وابستگان کے کردار پر بعد میں بنگلہ دیش میں سنگین الزامات اور مقدمات سامنے آئے۔ تاہم ان واقعات کو پوری جماعت کے ہر فرد کے کردار پر منطبق کرنا بھی درست نہیں۔
افغانستان میں جماعت نے سوویت مخالف مزاحمت کی حمایت کی۔ بعد ازاں مشرف دور میں پاکستان امریکہ کا اتحادی بنا، جبکہ جماعت اسلامی سمیت MMA نے امریکی افغان پالیسی کی مخالفت کی اور طالبان کے بارے میں نسبتاً نرم مؤقف اختیار کیا۔ یہی تضاد ناقدین کے لیے سوال بنا کہ ریاست کی پالیسی، امریکہ مخالفت اور طالبان کے بارے میں مذہبی جماعتوں کے مؤقف میں یہ فرق کیوں تھا؟
2002 کے بعد MMA نے خیبر پختونخوا میں حکومت قائم کی۔ ایک طرف مشرف حکومت تھی اور دوسری طرف اس کی پالیسیوں کی مخالف مذہبی جماعتیں صوبائی اقتدار میں تھیں۔ ناقدین نے اس طرزِ سیاست کو بعض مواقع پر ’’فرینڈلی اپوزیشن‘‘ قرار دیا، اگرچہ اسے باقاعدہ خفیہ مفاہمت ثابت کرنے کے لیے براہِ راست ثبوت درکار ہیں۔
مالاکنڈ میں تحریک نفاذ شریعت محمدی کے عروج کے وقت بھی مذہبی سیاست کے اندر اختلاف نمایاں ہوا۔ صوفی محمد کا ماضی جماعت اسلامی سے وابستگی کا تھا، لیکن بعد میں وہ الگ ہوکر اپنی تحریک کے بانی بنے۔ ریاست اور تحریک کے تصادم کو جماعت کی دانستہ سازش قرار دینا ثابت شدہ بات نہیں، تاہم یہ سوال ضرور موجود ہے کہ مختلف مذہبی قوتیں شریعت کے مسئلے پر ایک دوسرے کے مقابل کیوں کھڑی ہوئیں۔
کشمیر اور فلسطین جماعت کے مستقل موضوعات رہے ہیں، مگر سوال یہ ہے کہ طویل احتجاجی سیاست نے عملی طور پر کیا حاصل کیا؟ اسی طرح سود کے خلاف جماعت کی طویل جدوجہد اپنی جگہ، لیکن اصل امتحان نعرے سے آگے قانون سازی اور معاشی نظام میں عملی تبدیلی ہے۔
موجودہ سیاسی ماحول میں جماعت اسلامی خود کو آزاد سیاسی قوت قرار دیتی ہے۔ اس لیے اسے براہِ راست ’’آرمی کی ٹیم بی‘‘ قرار دینا ایک سیاسی دعویٰ ہے، تاریخی طور پر ثابت شدہ حقیقت نہیں۔ البتہ جماعت کی تاریخ کے بعض فیصلوں نے اس کے ناقدین کو یہ سوال اٹھانے کا موقع ضرور دیا ہے کہ کیا جماعت نے ہر دور میں طاقتور ریاستی اداروں کے مقابل وہی بے باک اصولی مؤقف اختیار کیا جو وہ عوام اور سیاسی مخالفین کے سامنے اختیار کرتی ہے؟خاص کر گزشتہ چار سالوں کے دوران بلوچستا۔قبایل ازاد کشمیر افغانستان ۔تحریک انصاف۔ٹی ایل پی۔کے حوالے سے جو کچھ ہوا ۔۔۔ اس پر جماعت ہمیشہ تنقید کا نشانہ بنا رہا۔
جماعت اسلامی کے لیے اصل چیلنج شاید یہی ہے۔ ایک منظم، نظریاتی اور طویل سیاسی تاریخ رکھنے والی جماعت اگر قومی سطح پر مسلسل عوامی مینڈیٹ حاصل نہ کرسکے تو اسے صرف عوام کو موردِ الزام نہیں ٹھہرانا چاہیے؛ اسے اپنی سیاسی حکمتِ عملی، ماضی کے فیصلوں اور طاقت کے مراکز کے ساتھ اپنے تعلقات کا بھی احتساب کرنا چاہیے۔
اسلامی سیاست کا اصل امتحان یہ نہیں کہ اسلام کا نام کتنی بار لیا جاتا ہے؛ اصل امتحان یہ ہے کہ اصول طاقتور کے سامنے بھی وہی رہیں جو کمزور کے سامنے ہوتے ہیں۔
