تازہ ترین

لاہور کے حلقے این اے 122 کا الیکشن پول سامنے آ گیا

لاہور(نیٹ ڈیسک)لاہور کے حلقے این اے ایک سو بائیس کا الیکشن پول سامنے آگیا ،دو آزاد کمپنیوں کے سروے میں رائے عامہ کے جائزے کے مطابق نون لیگ کے ایاز صادق تحریک انصاف کے علیم خان کے مقابلے میں آگے، حلقے میں پی ٹی آئی کی مقبولیت میں بھی کچھ اضافہ ہوا۔

Advertisements

این اے ایک سو پچیس لاہور اور لودھراں کے حلقے این اے 154 میں بھی نون لیگ کو تحریک انصاف پر برتری حاصل ہے۔این اے 122 لاہور 5، این اے 125 لاہو ر آٹھ اور این اے 154 لودھراں ایک کے ضمنی انتخابات میں پاکستان تحریک انصاف،پاکستان مسلم لیگ نواز کو ٹف ٹائم دے گی۔

سروے رپورٹس مسلم لیگ نواز کی جیت کا اشارہ دے رہی ہیں ، جس کااندازہ گیلپ پاکستان اور پلس کنسلٹنٹ کے سروے دیکھ کرلگایا جاسکتا ہے جو ستمبر اور اکتوبر 2015 میں کرائے گئے اور اس میں ہر حلقے کے تقریباً 800 افراد نے حصہ لیا۔تینوں حلقوں کے عوام سے یہ پوچھا گیا کہ آپ اپنے حلقے کے ضمنی انتخاب میں کس جماعت کو ووٹ دیں گے؟

این اے122 کے حلقے میں کرائے گئے گیلپ پاکستان کے حالیہ سروے میں 46 فیصد افراد نے پی ایم ایل نواز اور 37 فیصد افراد نے پی ٹی آئی کو ووٹ دینے کا کہا۔ ستمبر 2015 میں گیلپ پاکستان کے سروے میں 51 فیصد افراد نے پاکستان مسلم لیگ نواز اور 36 فیصد نے پاکستا ن تحریک انصا ف کو ووٹ دینے کا کہا تھا۔

پلس کنسلٹنٹ کی بات کی جائے تو حالیہ سروے میں 52 فیصد افراد نے پاکستان مسلم لیگ نواز اور42فیصد نے پاکستا ن تحریک انصاف کو ووٹ دینے کا کہا۔ ستمبر 2015 کے سروے میں 57 فیصد افراد نے پاکستان مسلم لیگ نواز اور36فیصد نے پاکستا ن تحریک انصا ف کو ووٹ دینے کا کہا تھا۔

یعنی دونوں سروے میں پاکستان تحریک انصاف ووٹرز کا دل جیتنے میں کامیاب ضرور ہوئی مگر اب بھی پاکستان مسلم لیگ کو اس پر برتری حاصل ہے۔ این اے 125 لاہو ر آٹھ کی بات کی جائے تو گیلپ پاکستان کے حالیہ سروے میں پاکستان مسلم لیگ نواز کو 58 فیصدافراد ، جبکہ پی ٹی آئی کو 29 فیصد افراد نے ووٹ دینے کا کہا۔ یہی صورتحال پلس کنسلٹنٹ کے سروے میں بھی دیکھی گئی جہاں مسلم لیگ نواز کو ووٹ دینے کا کہنے والوں کی شرح 58 فیصد اور پی ٹی آئی کو ووٹ دینے کا کہنے والوں کی شرح 34فیصد ہے ۔

یعنی گزشتہ سروے کے مقابلے میں اس حلقے سے پاکستان مسلم لیگ نواز کو ووٹ دینے کا کہنے والوں کی شرح میں اضافہ دیکھا گیا۔ این اے 154 لودھراں ایک کی بات کی جائے تو اس حلقے میں ضمنی انتخاب ہونے کی صورت میں گیلپ پاکستان کے حالیہ سروے کے مطابق پی ایم ایل ن کو 50 فیصد، جبکہ پی ٹی آئی کو 28 فیصد افراد ووٹ دینا چاہتے ہیں جبکہ پلس کنسلٹنٹ کے مطابق اس حلقے میں مسلم لیگ نواز کو ووٹ دینے کا کہنے والوں کی شرح اب 53 فیصد اور پی ٹی آئی کو ووٹ دینے کا کہنے والوں کی شرح 38 فیصد ہے ۔ یعنی اس حلقےمیں بھی پاکستان مسلم لیگ نواز کو ووٹ دینے کا کہنے والے افراد کی شرح میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ

اترك تعليقاً

زر الذهاب إلى الأعلى