چترال لوئر

وزیر اعظم کی چترال آمد کے موقع پر چترال پریس کلب کے مقامی صحافیوں کو کوریج سے روکنے پر ے شدید احتجاج

چترال ( نمائندہ چترال ایکسپریس) وزیر اعظم کی چترال آمد کے موقع پر چترال پریس کلب کے مقامی صحافیوں کو کوریج سے روکنے پر انہوں نے شدید احتجاج کیا ہے ۔ اور اسے صحافتی ذمہ داریوں پر قدغن لگانے کے مترادف قرار دیا ہے ۔ اور وزیر اعظم سے پُر زور مطالبہ کیا ہے ۔ کہ مقامی میڈیا سے اس قسم کے سلوک کرنے والوں سے باز پرس کیا جائے ۔ اس سلسلے میں ایک غیر معمولی اجلاس صدر پریس کلب چترال محکم الدین کی زیر صدارت منعقد ہوا ۔ Nawaz-Sharif3جس میں جملہ ممبران پریس کلب نے شرکت کی ۔ اجلاس میں چترال ضلعی انتظامیہ کے رویے کی پُر زور مذمت کی گئی ۔ اور کہا گیا ۔ کہ اس کے ذمہ دار نو منتخب ضلع ناظم اور ڈپٹی کمشنر چترال ہیں ۔ جنہوں نے وزیر اعظم کے ملاقات کے وفد میں پریس کلب کو سرے سے شامل ہی نہیں کیا ۔ اور دانستہ طور پر چترال کے صحافیوں کو وزیر اعظم سے ملاقات کرنے سے روکا ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ یہ چترال ہی کی میڈیا ہے ۔ جو چترال میں آفات کے حوالے سے دن رات ایک کرکے اعلی حکام تک معلومات اور خبریں پہنچاتی ہے ۔ اور اعلی حکام ان ہی میڈیا رپورٹس پر چترال کا دورہ کرتی ہیں ۔ لیکن افسوس کا مقام ہے ۔ کہ جن لوگوں کی خبروں سے وزیر اعظم نے چترال کا دورہ کیا ۔ اُن کو عین موقع پر کوریج کرنے کی اجازت نہیں دی گئی ۔ اور فہرست میں نام نہ ہونے کا بہانہ بنا کر انہیں نہ صرف اُن کی صحافیانہ ذ مہ داریوں سے روکا گیا ۔ بلکہ اُن کی تضحیک کی گئی ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ چترال کے صحافی کئی سابق وزراء اعظم ،صدور اور جرنیلوں سے ملے اور اُن کی کوریج کی ۔ لیکن یہ نیا طریقہ کار سمجھ سے بالا تر ہے ۔ کہ لوکل میڈیا وزیر اعظم کی کوریج نہیں کر سکتے اور اُن سے نہیں مل سکتے ۔ اجلاس میں یہ قراردادمتفقہ طور پر منظور کی گئی ۔ کہ چترال پریس کلب آیندہ ڈسٹرکٹ گورنمنٹ کے کسی بھی پروگرام کی کوریج نہیں کرے گا ۔ اور تمام ممبران و عہدہ داران اس قرارداد کے پابند ہوں گے ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ گذشتہ سیلاب اور موجودہ زلزلے میں صحافیوں نے دن رات ایک کرکے اموات اورنقصانات کے بارے میں لمحہ لمحہ اپڈیٹ معلومات اور خبریں عوام اور حکومت تک پہنچائیں ۔ جس کی بنا پر وزیر اعظم نے چترال کا دورہ کیا ۔ اور اعلانات کئے ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ چترال کے صحافی اپنے قلم کے ذریعے چترال کے مسائل کو اُجاگر کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی اور اپنی بساط کے مطابق ہر ممکن طریقے سے عوام اور حکومت کو باخبر رکھنے بھر پور کوشش کی ۔ جس کا صلہ یہ دیا گیا ۔ کہ صحافیوں کو ملک کے وزیر اعظم کی آمد کے موقع پر نظر انداز کیا گیا ۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

اترك تعليقاً

زر الذهاب إلى الأعلى