تازہ ترینڈاکٹر عنایت اللہ فیضی

داد بیداد ….چھٹی مردم شماری کا اہم تقاضا

……ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضیؔ ……



وطن عزیز پاکستان میں پانجویں مردم شماری 1998 ء میں ہوئی تھی چھٹی مردم شماری 18 سال کی تاخیر کے بعد 2016 ء میں ہورہی ہے اور تازہ ترین خبر یہ ہے کہ خانہ شماری سے اس کا آغاز ہوگا حکومت نے ڈیڑھ کروڑ روپے کی رقم  سنسس کمشنر کوجاری کردئیے ڈائر یکٹر شماریات نے اس با ت کا اعلان کیا ہے اپنی پریس کانفرنس میں ڈائر یکٹر شماریات نے واضح کیا کہ مردم شماری اور خانہ شماری پر 14 ارب روپے خرچہ آئے گا اس میں سے 7 ارب روپے پاک فوج کودئیے جائینگے بقیہ 7 ارب سول انتظامیہ خرچ کریگی پاک فوج کے جوان اعداد وشمار جمع کرنے میں سول انتظامیہ کی مدد کر ینگے ڈیڑھ کروڑ روپے کی رقم ابتدائی تیاریوں کے لئے دی گئی ہے خانہ شماری کا کام مارچ 2016 ء میں شروع ہوگا جبکہ مردم شماری کی مکمل رپورٹ 2017 ء میں منظر عام پر لا ئی جائیگی1981 ء اور 1998 ء کی دونوں مردم شماری رپورٹوں میں سنگین غلطیاں اور خامیاں موجود ہیں ان کو تاہیوں کی طرف مختلف کانفرنسوں ،سیمیناروں اور مذاکروں میں،نیز اخبار ات اور الیکٹرانک میڈیا کے ذریعے حکام کی توجہ مبذول کرائی گئی مگر حکومت نے توجہ نہیں دی افسوس کے ساتھ 2016 ء کی مردم شماری سے پہلے اراکین اسمبلی ، صوبائی اور وفاقی حکومتوں کی توجہ ان خامیوں کی طرف مبذول کر اناضروری ہے ایوان بالا میں فرحت اللہ بابر، روبینہ خالد ، ثمینہ عابد اور طلحہ محمود کے ذریعے اس مسئلے کو اُٹھا یا جاسکتا ہے قومی اسمبلی میںآفتاب احمد خان شیر پاؤ ،صاحبزادہ طارق اللہ اور حاجی غلام احمد بلور اس مسئلے کواُٹھاسکتے ہیں صوبائی اسمبلی میں اس حوالے سے قرار داد لائی جاسکتی ہے سلیم خان اور سردار بابک اس مسئلے پر قرار داد لاسکتے ہیں مردم شماری رپورٹ کی بہت بڑی خامی یہ ہے کہ اس میں پاکستان کے مختلف اضلاع اور بڑے شہروں کی آبادی میں مذہبی ، نسلی اور لسانی اقلیتوں کے بارے میں معلومات نہیں ہیں پشاور شہر کی آبادی میں ہند کو اں رہتے ہیں کوہاٹ اور ڈیر ہ اسماعیل خان میں سرائیکی بولی جاتی ہے چترال میں کھوار ،سوات میں توروالی اور گاوری زبانیں ہیں ہزارہ میں ہندکو کے ساتھ ساتھ پشتو، گوجر ی اور کوہستانی زبانیں ہیں چترال میں کالاش اقلیت رہتی ہے جو دنیا بھر میں مشہور ہے سیاحت کا بہت اہم ذریعے ہے مگر کالاش کا نام کسی بھی مردم شماری رپورٹ میں نہیں ہے ہند کو زبان کا نام کسی بھی مردم شماری رپورٹ میں نہیں ہے قادیانی / احمد ی اقلیت کی آبادی کا ذکر کسی بھی مردم شماری رپورٹ میں نہیں ہے 2003 ء میں اقوام متحدہ کے ادارے یونیسکو  سے درخواست کی گئی کہ کالاش وادی کو ورلڈ ہیر یٹیج سائٹ قرار دیاجائے یونیسکو حکام نے پہلی میٹنگ میں مردم شماری رپورٹ منگوائی اور سوال کیا کہا کہ اس رپورٹ میں کالاش کاذکر کہاں ہے؟ وزارت ثقافت کے حکام اور لوک ورثہ کے ماہرین نے ضلع چترال کے اندر یونین کونسل ایون کا ذکر کیا رپورٹ میں کالاش آبادی کاذکر وغیر ہ وغیر ہ کے ذیل میں کیا گیا تھا اس لئے یونیسکو حکام نے اس پر مزید غور کر نے سے معذرت کی اُن کا کہنا تھا کہ مردم شماری کی رپورٹ بنیادی دستاویز ہے اگر اس میں کسی قبیلہ یا زبان یا اقلیت کا نام نہیں ہے تو پھر کس بنیاد پر بات کو آگے بڑھایا جائے گا ؟ ڈاکٹر الہیٰ بخش اعوان مرحوم اور ڈاکٹر ظہور احمد اعوان مرحوم کے ساتھ کئی بار ایسے واقعات پیش آئے انہوں نے ریسرچ سکالروں کو ہندکو پر کام کرنے کا موضوع دیا جب مردم شماری رپورٹ کھلی گئی تو اس میں ہندکو بولنے والوں کی آبادی کا ذکر کسی بھی ضلع میں نہیں ملا مسئلہ یہ ہے کہ 1951 ء کی مردم شماری کے لئے جو فارم ترتیب دیا گیا تھا وہ ٹائپ رائیٹر کے ٹول بار کو دیکھ کر ترتیب دیا گیا تھا اس میں چند بڑی قومیتوں ،چند بڑی زبانوں اور چند بڑے مذاہب کا نام لیکر آخر میں وغیر وغیر ہ کا ایک خانہ بنایا گیا جب قومیتوں کاذکر آتاہے تو ہندکو ان ،ہزار وال وغیر ہ وغیر ہ میں شمار ہوتے ہیں جب زبانوں کا ذکر آتاہے تو ہندکو ،سرائیکی ،گوجری ،کھوار ، گاوری ،توروالی ، کوہستانی ،شینا ،بلتی اور دیگر زبانوں کو وغیر ہ وغیر ہ کے خانے میں ڈال دیا جاتاہے جہاں مذہبی اقلیتوں کا ذکر آتاہے وہاں،کالاش اور قادیانی وغیر ہ وغیرہ کے زمرے میںآتے ہیں اس طرح مردم شماری کی رپورٹ میں ملک ،صوبہ اور ضلع کی آبادی کے بارے میں بنیادی نوعیت کی ضروری اور اہم معلومات نہیں ملتیں ریسرچ کرنے والے دانشور اور ریسرچ کرنیوالے ادارے پاکستان کی مردم شماری رپورٹ کو فضول اور بے معنی رپورٹ قرار دیتے ہیں چھٹی مردم شماری ایسے وقت پر ہورہی ہے جب کمپیوٹر کا جدید ترین سافٹ وئیر آگیا ہے یہ سافٹ وئیر نادرا کے پاس بھی ہے لوکل گورنمنٹ کے اداروں میں بھی ہے شماریان ڈویژن اور سنیسس کی ذمہ دار حکام کو جدید سافٹ وئیر کی مدد سے 2016 ء کی مردم شماری کے لئے نیا فارم متعارف کروانا چاہیے جس میں ضلع اوریونین کونسل کی بنیاد پر نسلی ،لسانی اور مذہبی اقلیتوں کے ناموں کے ساتھ انکی آبادی کے ٹھیک اور دُرست اعدادوشمار آئینگے اس بنیاد پر جورپورٹ تیار ہوگی اس میں1951 ء اور 1998 ء میں دہرائی گئی غلطیاں نہیں ہونگی مردم شماری کے فارم میں ڈاکٹر ظہور احمد اعوان ،پروفیسر خاطر غزنوی ، مختار علی نیرّ اور ڈاکٹر نذیر تبسم نے لکھا میری مادری زبان ہندکو ہے رپورٹ میں اس اہم معلومات کووغیر ہ وغیر ہ کے خانے میں ڈال دیا گیا یہ کتنا بڑا ظلم ہے یہ انسانی حقوق کی پامالی ہے اقوام متحدہ کے ڈیکلر یشن اور پا کستان کے آئین کی خلاف ورزی ہے 2016 ء کی مردم شماری میں ان کوتاہیوں کا اعادہ نہیں ہونا چاہیے

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
اظهر المزيد

مقالات ذات صلة

اترك تعليقاً

إغلاق