تازہ ترین

شہید ذوالفقارعلی بھٹوکی 37 ویں برسی چترال میں انتہائی عقیدت اوراخترام سے منائی گئی

چترال (نمائندہ چترال ایکسپریس)شہید ذوالفقارعلی بھٹوکی 37 ویں برسی چترال میں انتہائی عقیدت اوراحترام سے منائی گئی۔ اس موقع پاکستان پیپلزپارٹی کے ضلعی جنرل سیکرٹری محمدحکیم خان ایڈوکیٹ،سینئرنائب صدرسیدبرہان شاہ ایڈوکیٹ،سب ڈویژن چترال کے صدر شریف حسین ،سب ڈویژن مستوج کے صدرابواللیث رامدسی،سابق اسسٹنٹ کمشنر سردارمحمدخان،شیرحسین زئیت،عالمزیب خان ایڈوکیٹ،تحصیل دروش کے صدر شیرجوان خان ،انفارمیشن سیکرٹری اکمل بھٹو،وسیم افضل اوردیگر مقریرین نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ 1977ء کو سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کو محمد احمد خان قصوری کے جھوٹے قتل کے مقدمے میں گرفتار کیا گیا اور 18 مارچ 1977ء کو ذوالفقار علی بھٹو کو قتل کے الزام میں موت کی سزا سنائی گئی۔ فیصلے کے خلاف ذوالفقار علی بھٹو نے سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی۔ اپیل پر کیس کی سماعت کے دوران تین ججوں نے ذوالفقار علی بھٹو کو بری جبکہ تین ججوں نے عدالتی فیصلے کی توثیق کرتے ہوئے سزا برقرار رکھنے کا فیصلہ دیا جس پر اس وقت کے چیف جسٹس، جسٹس انوار الحق نے اپنا وزن بھی ان ججوں کے پلڑے میں ڈال دیا جنہوں نے ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کی سزا کی توثیق کی تھی۔یوں چار اپریل کو 1979ء کو ذوالفقار علی بھٹو کو راولپنڈی کی ڈسٹرکٹ جیل میں تختہ دار پر لٹکا کر ان کی زندگی کا چراغ گل کر دیا گیا۔انہوں نے کہاکہ ملک و قوم کی بقا کی عَلمبددار شخصیت پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹوشہید تھے۔ شہید ذوالفقارعلی بھٹونے پورے عالم اسلام کو متحد اور منظم کرنے اوراِن کے وسائل کو درست سمت میں استعمال کرنے کے لئے ایک ایساجامع اور مربوط منصوبہ اسلامی ممالک میں متعارف کروایاتھا کہ اگر اِس پر اْس وقت صحیح معنوں میں عملدرآمد ہوجاتاتوآج نہ صرف پاکستان کا بلکہ پوری اْمتِ مسلمہ کا نقشہ ہی کچھ اور ہوتامگرافسوس کہ اِن کے اِس منصوبے سے اسلام دشمن قوتوں میں ہلچل برپاہوگئی اور ایسامحسوس ہونے لگاکہ جیسے کہ اگر اِن کے اِس منصوبے پر پوری طرح سے عمل درآمد ہوگیا تو یورپ میں قیامت آجائے گی اوراِس خوف سے ہی اِن کی نیندیں اْڑ چکی تھیں۔آخرمیں انہوں نے حالیہ کسٹم ایکٹ کے شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے ایک قرارداد پاس کیاجس میں ملاکنڈڈویژن میں کسٹم ایکٹ کی بھرپور انداز سے مذمت کرتے ہوئے کہاکہ یہ یہاں کے پسماندہ عوام کے ساتھ انتہائی نا انصافی ہے عوام کسی بھی صورت میں کسٹم ایکٹ کومنظورکرنے کے لئے تیارنہیں ہیں۔اگرحکومت نے اس پرغورنہیں کیاتوچترال کے عوام سڑکوں پرنکلے گے اور اس کی تمام ترذمہ داری صوبائی اورمرکزی حکومت پرعائدہوگی۔تقریب میں پارٹی ورکرز اورجیالوں نے کثیرتعدادمیں شرکت کی۔


اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ مواد

اترك تعليقاً

إغلاق