تازہ ترین

کالاش شخصیات کا گلگت بلتستان کا دورہ


چترال ( محکم الدین ) ہزار وں سال قدیم کالاش تہذیب و ثقافت کے تحفظ کیلئے اسی قبیلے کے مذہبی اور انٹلیکچول افراد پر مشتمل کلچرل اینڈ لیٹریسی کمیٹی نے حکومت ،یو نیسکو اور محکمہ اثار قدیمہ سے پُر زور مطالبہ کیا ہے ۔ کہ کالاش قبیلے کے اثاریات کو بچانے اور اُن کے تحفظ کیلئے حکومتی سطح پر ٹھوس اقدامات کئے جائیں ۔ یو ایس ایڈ کے مالی تعاون سے ایون اینڈ ویلیز ڈویلپمنٹ پروگرام ( AVDP) کے زیر انتظام کالاش لینگویج اینڈ کلچر پریزرویشن کمیٹی کو ہریٹیج سے متعلق معلومات کے حصول کیلئے مطالعاتی اور تفریحی دورے کے موقع پر گلگت بلتستان جاتے ہوئے بالائی چترال کے مقام نصرگول لشٹ میں موجود پہاڑی پتھروں پر کندہ شدہ مختلف جانوروں اور انسانوں کی شبیہیں (شکلیں ) دیکھنے کا موقع ملا ۔ جو حیرت انگیز طور پر کالاش مذہبی شبیہوں سے مماثلت رکھتے ہیں ۔ اور یہ حقیقی معنوں میں اُن کے اباو اجداد کی مذہبی باقیات ہیں ۔ جن کو شدید خطرہ درپیش ہے ۔ کیونکہ اس ائریے میں پتھروں پر صدیوں پہلے کندہ شدہ ان شبیہوں کی اہمیت کسی نے سمجھا ہے ۔ اور نہ آج تک کالاش قبیلے کے لوگوں کو اس بارے میں علم تھا ۔ یہ ایک کھلا میدان ہے جس میں قریب کھڑے پہاڑ کے دامن میں کندہ شدہ مختلف شکلوں سے مزئین بڑے بڑے پتھر درجنوں کی تعداد میں پڑے ہوئے ہیں ۔ اور آس پاس کے دیہات کے لوگ اپنے گھروں کی تعمیر اور سرکاری ٹھیکے دار مختلف عمارات اور سڑکوں کی تعمیر کیلئے یہ پتھر توڑ کر لے جاتے ہیں ۔ اور تاریخی و مذہبی نشانات مٹائے جا رہے ہیں ۔ انہوں نے خد شہ ظاہر کیا ہے ۔ کہ ان پتھروں کے توڑنے کا سلسلہ اگر اسی طرح جاری رہا ۔ تو نہایت کم عرصے میں ایک قدیم تہذیب کے باقیات سے چترال محروم ہو جائے گا ۔ جس سے سب سے بڑا نقصان کالاش قبیلے کو ہو گا ۔ کالاش قبیلے کے مذہبی پیشوا ٖفضل اعظم کالاش اور شیر عالم کالاش نے کہا ہے ۔ کہ کالاش مذہبی تہوار چلم جوشٹ ( چوموس) میں ایک رات ان انسانی اور جانوروں کی شکلوں کی تیاری کیلئے مخصوص ہے ۔ اور آٹے سے ان شکلوں کو تیار کیا جاتا ہے اور انہیں آگ پر پکایا جاتا ہے ۔ اُس کے بعد اُن کو دیوتا کے پاس بھیج دیاجاتا ہے ۔ جس کے نتیجے میں یہ شکلیں قدرتی طور پر مختلف مقامات میں پتھروں پر خود بخود کندہ ہوجاتی ہیں ۔ اور کالاش مذہب میں یہ شکلیں بہت اہمیت رکھتی ہیں ۔
یہی وجہ ہے ۔ کہ کالاش مذہبی مقام جشٹکان کی دیواروں پر کوئلے سے بنائی ہوئی شکلیں دیکھی جا سکتی ہیں ۔ کالاش لینگویج اینڈ کلچر کمیٹی کے جملہ ممبران قاضی فضل اعظم کالاش ، شیر عالم کالاش اکرام حسین ، خاتون کونسلر اں ملت گل ، جام شالی،اکبر بھٹو کالاش ، رجمنٹ کالاش نے حکومت سے پُزور مطالبہ کیا ہے ۔ کہ ان نایاب پتھروں کو بچانے کیلئے ان کو ایک چاردیواری کے اندر محفوظ کیا جائے ، یا ان کو اس مقام سے کالاش وادیوں میں منتقل کیا جائے ۔ تاکہ کالاش تاریخ و مذہب کے یہ باقیات نہ مٹنے پائیں ۔انہوں نے یونیسکو اور دیگر متعلقہ اداروں سے بھی اس حوالے سے جامع منصوبہ بندی کرنے کا مطالبہ کیا ۔ دورے کی ٹیم میں منتظم کی حیثیت سے منیجر اے وی ڈی پی وزیر زادہ اور فنانس آفیسر فضل امین بھی موجود تھے ۔


اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ مواد

اترك تعليقاً

إغلاق