چترال لوئر

چترال شھر کا واحد پولو گراونڈ کسی مسیحے کا منتظر

………….تحریر:وقاص احمد ایڈوکیٹ………….

بادشاھوں کا کھیل اور کیھلوں کا بادشاہ پولو ,جبکہ چترال شھر کا واحد پولو گراونڈ اور پولو گراونڈ کے آس پاس کے مکین, کسی مسیحے کا منتظر چترال رقبے کے لحاظ سے کے پی کےکا سب سے بڑا ضلع تو کہا جاتا ھے ,لیکن چترال میں پلئےگراونڈ تو دور کی بات ایک پولو گراونڈ ہی نہیں بنایا گیا ھے خدا تعالی مہتر امان الملک کے درجات کو بلند کریں کہ اسکے دور کا پولو گراونڈ ظاھری طور پر چترال شہر میں موجود ہے. باقی علاقوں کا پولو گراونڈ یا مداخلت بےجا کی وجہ سے ختم ہوچکی ہے یا وارث ولی نہ ہونے کی وجہ سے گائوں کا اماائچ گاہ بن گیا ھے با بلاک بنانے کا کارخانہ , چترال کے پولو اور پولوگراونڈ میجر گاڈین کے زمانے سے آج تک ہمیں نوازتے آئے ہیں …. لواری ٹنیل ,گولین گول, جیسے بڑے پراجیکٹ بھی پولو کا مرحون مننت ہے میں اپنے تمام پولو پلئر اور پولو کا شکر گزار ہو کیونکہ جنرل مشرف پولو میچ دیکھنے چترال تشریف لایا جسکی وجہ سے لواری ٹنیل بنا آج ہم 100 روپے میں تیں کیلو ٹماٹر خریدتے ہیں یہ سب پولو کی وجہ سے ممکن ھوا اس کے علاوہ ہمارے سیاسی پارٹئیوں کے بڑے بڑے جلسے بھی پو لو گراونڈ چترال میں منعقد ہوتے رہےہیں اور دینی اجتماعات بھی پولو گراونڈ میں ہو تے ہیں اب چترال میں بہار کا آمد ہے اور پولو گراونڈ غلاظت اور گندہ گی کا ڈھیر بن چکا ہے جسکی وجہ سے نہ صرف پولو گراونڈ بلکہ پولو گراونڈ کے آس پاس کے مکین بھی بہار کے خوشبو سونگھنے کےبجائے غلاظت اور گندگی کے بدبوں سے تنگ اچکے ھیں . میں حکومت وقت ,ڈسٹرکٹ انتظامہ ,پولو ایسوسی ایشن اور ریاض احمد ناظم سے گزارش کرونگا کہ وہ ازخود موقع پر جاکر اس بات کا نوٹس لیں اور پولو گراونڈ کی صفائی کا کام فوری کروائے . اگر انتظامیہ اس میں سنجدہ نھیں ہے تو پولو گراونڈ کا کنٹرول عوام کو ہی حوالہ کریں تاکہ ہم اپنے اثاثے کو خود سنبھال سکھیں میں چترال کے تمام پولو پلئر سے بھی درخواست کرتا ھوں کہ خدارا اپنے پولو گراونڈ پر رحم کر کے آواز اُٹھائے تاکہ ہم پولو جیسے دلچسپ میچ کو صاف ماحول میں دیکھ سکھیں اور پولو گراونڈ میں مسجید کے نام بنائے گئے کمرے میں بھی پائپ رکھیں گے ہیں اورآپ جواب دیں یہ کس کی نا اہلی کو ظاہر کرتی ہے؟ آپ خود سو چھے کل کے پوسٹ پر ایک برخوردار نے یہ اعتراز کیا کہ میں سیاست میں آنا چاہتا ہوں میرا جواب یہ ہے کہ لعنت ہو ایسی سیاست پر جو کسی بھی فورم پر قوم کی صحیح نمائندہ گی نہ کر سکیں سیاست میں اکر مجھے بےروزگاری کا شوق نہیں یہ سیاست اپ کو مبارک ہو میں اپنے حثیت کے مطابق آواز حق اپنے قوم کے لیے بلند کرتا رہونگا

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ

زر الذهاب إلى الأعلى