چترال لوئر

صوبائی سیٹ بحال نہ ہونے کی صورت میں تمام سیاسی جماعتیں الیکشن 2018 کا مکمل بائیکاٹ کریں۔اقبال حیات

چترال (نمائندہ چترال ایکسپریس) پی۔پی۔پی کےرہنمااقبال حیات نے ایک اخباری بیان میں کہا کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان کی طرف سے ایک صوبائی نشست کے خاتمہ اور چترال کے سیاسی جماعتوں کے خاموش احتجاج سے نہیں لگتا کہ چترال کا مذکورہ سیٹ دوبارہ بحال ہوسکے۔اس ضلع کی پسماندگی اور یہاں کے مسائل کے حوالے سے مذکورہ سیٹ کے علاوہ ایک اور سیٹ ملنا چاہیے تھا بلکہ ہمارے ساتھ ایک اور ضلع بنانے کے نوٹیفیکیشن کو ہمارے منہ پر مارنے کا اعلان بھی ہوا تھا۔بدقسمتی سے وہ لوگ شاید اس دن ہوش میں نہیں تھے جس کی وجہ سے ہمیں اپنی ایک صوبائی نشست سے بھی محروم ہونا پڑا ۔مردم شماری کے نام پر جو طریقہ کار اپنایا گیاجس کو اس وقت پورے پاکستان میں مستررد کیاجارہا ہے اور عوام چترال کے ساتھ بھی الیکشن کمیشن آف پاکستان نے دانستہ طور پر ظلم اور بربریت کی انتہا کردی ۔
انہوں نے کہا کہ چترال کے عوام کو احساس محرومی سے دوچار کرنے کا انجام الیکشن کمیشن آف پاکستان کو مہنگا پڑے گا۔ہم الیکشن کمیشن آف پاکستان سے صوبہ نہیں بلکہ اپنا سیٹ چاہتے ہیں چترال کی سیاسی قیادت اور سیاسی جماعتوں کا خاموش احتجاج کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ ہمارے سیاسی لوگ اپنی اپنی سیاسی مقاصد رکھتے ہیں اور وقت آنے پر اپنے سیاسی مفادات کو پیش نظر رکھتے ہیں۔ضرورت اس امر کی ہے کہ چترل کی عوامی نمائندگان سیاسی اور سول سوسائٹی ملکر اس مقصد کے لیے اقدامات کریں۔انہوں نے کہا کہ جنرل الیکشن شیڈول آنے سے پہلے الیکشن کمیشن آف پاکستان نے اس سیٹ کو بحال نہیں کیا تو سیاسی جماعتوں پر یہ فرض عائد ہوتی ہے کہ ضلع چترال میں انتخابات کا مکمل بائیکاٹ کریں ۔اور ہرسیاسی جماعت اپنی پارٹی کی ہائی کمانڈ کو بذریعہ قرارداد انتخابات سے بائیکاٹ کرنے کا عزم ظاہرکریں اوراپنی جماعت کو اس بات پر مجبور کریں کہ وہ چترال کے اس سیٹ کی بحالی میں ہمارے ساتھ بھرپور تعاون کو یقینی بنائیں، ورنہ چترال کے عوام اُن کو کبھی معاف نہیں کریں گے۔
اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ

زر الذهاب إلى الأعلى