
تازہ ترین
آنے والی ویکسینیشن مہم کے انتظامات کے سلسلہ میں ہیلتھ سیکرٹریٹ میں ایک اعلی سطحی اجلاس کا انعقاد
پشاور(چترال ایکسپریس)سیکرٹری محکمہ صحت خیبر پختونخوا محمد عابد مجید نے صوبہ بھر میں بچوں کو خسرہ سے بچانے کے لئے اکتوبر میں شروع ہونے والی ویکسینیشن مہم کو اعلی معیاراور بہترین نتائج کو یقینی بنانے کی غرض سے صوبائی، ضلعی اور یونین کونسل کی سطح پرماہرین امراض اطفال پر مشتمل نگران کمیٹیوں کے قیام کی ہدایت کی ہے مہم کے دوران 43لاکھ بچوں کی ویکسینیشن کی جائے گی انہوں نے یہ بات آنے والی ویکسینیشن مہم کے انتظامات کے سلسلہ میں منگل کے روز ہیلتھ سیکرٹریٹ میں ایک اعلی سطحی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا اجلاس میں ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ سروسزڈاکٹر ایوب روز، قائمقام کوآرڈینٹر ایمرجنسی آپریشن سنٹر عاطف رحمان،ڈائریکٹر ای پی آئی ڈاکٹر اکرم شاہ، ڈپٹی ڈائریکٹر ای پی آئی ڈاکٹر تیمور شاہ، بی ایم جی ایف کے ڈاکٹر امتیاز علی شاہ، ڈبلیو ایچ او کے ڈاکٹر عبدی ناصر،این سٹاف کے ڈاکٹر اعجاز شاہ، یونیسیف اور دیگر اداروں کے اعلی حکام نے شرکت کی سیکرٹری ہیلتھ محمد عابد مجید نے کمسن بچوں کو خسرہ سے بچانا معاشرہ کے تمام طبقات اور باالخصوص والدین کافرض ہے انہوں نے بچوں کو خسرہ سے بچانے کے لئے صوبہ بھر میں وسیع پیمانے پر ویکسی نیشن مہم سے قبل والدین اور معاشرہ کے دیگر طبقات میں ویکسینیشن میں تعاون کا شعور اجاگر کرنے کے لئے موثر کمیونیکیشن اور بھرپور سوشل موبلائزیشن کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ تربیت یافتہ ویکسینیشن سٹاف، ویکسین اور دیگر لوازمات کی فراہمی سے بروقت موثر ویکسی نیشن مہم یقینی بنایا جائے ای او سی کوآرڈینیٹر عاطف رحمان نے کہا کہ اس ویکسینیشن مہم کو کامیاب بنانے کے لئے مہم کے دوران ای او سی کی جانب سے ای پی آئی کو ہرقسم کا تعاون فراہم کیا جائے گا اس موقع پر ڈائریکٹر اجنرل ہیلتھ سروسز خیبر پختونخوا ڈاکٹر ایوب روزاور ڈائریکٹر ای پی آئی ڈاکٹر اکرم شاہ نے اجلاس کے شرکا کوبچوں کو خسرہ سے بچانے کے لئے مجوزہ مہم کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ خسرہ کے واقعات سامنے آنے کے بعد اکتوبر میں صوبہ بھر میں وسیع پیمانے پر خسرہ ویکسینیشن مہم کا آغاز کیا جارہاہے اس مہم کے دوران 9ماہ سے59ماہ کی عمر تک کے 43لاکھ بچوں کی ویکسینیشن کی جائے گی جس کے لئے محکمہ صحت اور معاون اداروں کے اشتراک سے عملہ کی تربیت، ویکسین کی فراہمی اور دیگر تمام انتظامات تکمیل کے مراحل میں ہیں۔
