تازہ ترینمضامین

سٹلمنٹ کے حوالے سے اھم معلومات

تحریر: وقاص احمد ایڈوکیٹ۔۔۔۔۔۔۔

 چترال میں چراگاہ شکار گاھ بنجر اور ریویر بیڈ کے نام سے لوگوں کے شاملات پر سرکار کی جانب سے اپنی ملکیت قرار دیکر قبضہ کرنے اور سرکاری ریکارڈ میں سرکار کے نام ملکیت قرار دینے کا سلسلہ جاری ھے بد قسمتی سے قومی اور صوباٸی اسمبہلی میں اواز اٹھانا دور کی بات ضلعی اسمبیلی بھی خاموش تماشاٸی ہے بنجر زمین سرکار کی ملکیت ہے بنجر کا مقصد یہ ہے جو کبھی نہ ہوسکیں یعنی پہاڑ اس کو قانون کے زبان میں رس نیلس کہا جاتا ہے وہ زمیں یا چیز کسی کے قبضے میں نھیں رہا ہوں مثلاً اگر کوٸی مرعابیوں کا شکار کرتا ہے وہ کسی کے قبضے میں نہیں ہوتا جو شحص شکار کرتا ہے اس کی ملکیت بن جاتی ھے دیرسوات کوھستان میں پہاڑوں پر لوگ گھر بنا لتے ھیں چترال میں اکر قانون مختلف ھے اس کے علاوہ River bed کا مطلب وھ زیر اب زمین جب دریا نارمل کوس اف فلو میں ہو یعنی نومبر سے مارچ تک دریاے کے نیچے زمیں مارچ کے بعد یہ flood بن جاکر لوگوں کےزمینات تک پانی پہچتا ھے وہ سرکاری نہیں ہوتی ۔باقی شاملات میں سرکار کا ایک فیصد حصہ نہیں ہوتا یہ لوگوں کی ہوتی ہے اگر بنجر اباد ہو جائے تو سرکار کا 40 فیصد جبکہ 60 فیصد علاقے کے لوگوں کا ھوتا ھے جنگل اگر کوٸی شحص اپنے زمین میں جنگل لگاے تو کیا سرکاری ھو گا کبھی نھیں میرا پدری ایک انچ زاتی شوتار اور بنجر زمین نہیں ہے میں قوم کو خبردار کرتا ہوں کہ اپنے حقوق کی خفاظت کریں چترال میں پہاڑوں کے علاوہ ایک انچ سرکاری زمین نہیں ہے اگر کوٸی کہتا ہےعلط ھے اپنے جاٸداد کی حفاظت کا حق شریعت اپ کو دیتاھے صرف rus nullus سرکاری ھے باقی عوام کی ھوتی ھے باقی 1975 کے نوٹیفیکن کا اطلاق 1974 کے فاصلے پر نھیں ھوتی اگر کوٸی فیصلہ مھتر رواجی عدالت میں ہوٸی ہے تو سپریم کورٹ کواختیار نھیں کہ وہ ان کو چھڑے یہ بات اپ سنجدہ لی لیں بعد میں پچتھاوا ھوگا

زر الذهاب إلى الأعلى
Ads Blocker Image Powered by Code Help Pro

Ads Blocker Detected!!!

We have detected that you are using extensions to block ads. Please support us by disabling these ads blocker.

Powered By
100% Free SEO Tools - Tool Kits PRO

اشتہارات بند کیوں ہیں؟۔

براہِ کرم ہمارے پلیٹ فارم کو سپورٹ کرنے کے لیے اشتہارات کو روکنے والی ایپ بند کر دیں۔ آپ کی معاونت ہمارے لیے اہم ہے۔