
تورکہو کے عوام کو مفت صحت کی سہولیات مہیا کرکے آغاخان ہیلتھ کے ہاتھوں غریب عوام کو لوٹنے سے بچایا جائے۔ذیشان زرین ایڈوکیٹ/محمد نواب شاہ ایڈوکیٹ
چترال(نمائندہ چترال ایکسپریس)ذیشان زرین ایڈوکیٹ اور محمد نواب شاہ ایڈوکیٹ پشاور ہائی کورٹ نے ایک مشترکہ اخباری بیان میں کہا ہے کہ سنے میں آیا ہے کہ چیف سیکرٹری اور سیکرٹری ہیلتھ چترال کے دورے پہ آئے ہوے تھے۔اور چترال کے انتہائی دورافتادہ اور پسماندہ تحصیل تورکہو کے واحدہسپتال کو مزید 5 سال کے لئے آغا خان ہیلتھ کی تحویل میں دینے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں جو کہ تحصیل تورکہو اور تریچ کے عوام کے کیساتھ سراسر ناانصافی اور ذیادتی ہے۔اُنہوں نے کہا کہ صحت عوام کے بنیادی حقوق میں سے ایک ہےاورآئین پاکستان اس کا ضامن ہے۔اور حکومت وقت کی ذمہ دری ہے کہ غریب عوام کو انکی دہلیزپہ آسان اور مفت صحت کی سہولیات فراہم کریں۔مگرارایچ سی شاگرام جو کہ پہلے ہی سے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت آغا خان ہیلتھ کے تحتغ تسلی بخش سروس مہیا کرکے عوام کا اعتماد حاصل کرنے میں ناکام رہا اورغریب عوام سے او پی ڈی چارجز کی مد میں 110 روپے،نارمل ڈیلیوری کیس کے لئے 10 سے 20 ہزار روپے اورمختلف ٹیسٹوں اورادویات کی مد میں بھاری بھررقم بٹورتے ہیں۔اوراکثرعلاج ڈاکٹرز کی جگہ نرسز اور ایل ایچ ویز سے کرواتے ہیں۔اوردلچسپ امر یہ ہے کہ ہسپتال کی عمارت بھی حکومت کی ملکیت ہے ادویات اوردوسرے سروسیزکے مد میں سالانہ 57 لاکھ روپے صوبائی حکومت مہیا کرتی ہےاور 80 فیصد عملہ بھی حکومت کے ہونے کے باوجود غریب عوام کا استحصال کیا جا رہا ہے۔جبکہ پورے ملک بشمول ضلع چترال کے باقی علاقوں میں یہ سہولیات مفت مہیا کی جاتی ہے۔اس کے علاوہ چونکہ بچوں کی ویکسینیشن پورے پاکستان بشمول ضلع چترال کے نواحی علاقوں میں مفت کروائی جاتی ہے جبکہ آغا خان ہیلتھ کے زیر کنٹرول دورافتادہ علاقوں میں 30 سے 40 روپے فی ویکسین وصول کر رہے ہیں۔جبکہ یہ ویکسین بھی حکومت آغا خان ہیلتھ کو مفت فراہم کرتی ہے جو کہ سراسر ناانصافی ہے۔
اُنہوں نے حکومت وقت،ایم این اے ،ایم پی اےوزیرزادہ،ڈسٹرکٹ ناظم مغفرت شاہ ،عبدالطیف اور دوسرے سیاسی اور سماجی عہدہداران سےمطلبہ کیا کہ اس مسئلے کو جلد از جلد حل کرنے کے لئے اقدامات اٹھائیں اورملک کے دوسرے شہریوں کی طرح تورکہو کے عوام کو بھی مفت صحت کی سہولیات مہیا کی جائے اور آغاخان ہیلتھ کے ہاتھوں غریب عوام کو لوٹنے سے بچایا جائے۔بصورت دیگر ہم مجبوراً انصاف کے لئے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹائیں گے۔۔۔
