خیبر پختونخوا

وزیراعلیٰ محمود خان نے نئے مالی سال کے صوبائی بجٹ کو صوبے کی پائیداربنیادوں پر ترقی کا ضامن قراردیا ہے

پشاور(چترال ایکسپریس)وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے نئے مالی سال کے صوبائی بجٹ کو صوبے کی پائیداربنیادوں پر ترقی کا ضامن قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ بجٹ میں صوبائی حکومت نے صوبے کے تمام اضلاع بشمول ضم شدہ اضلاع کی ترقی، صحت اور تعلیم سمیت تمام شعبوں کے استحکام اور سرکاری ملازمین سمیت معاشرے کے تمام طبقوں کی فلاح و بہبود اوران کو ریلیف دینے پر بھر پور توجہ دی ہے اور یہ بجٹ صوبے کے پسماندہ اضلاع کو ترقی کے میدان میں دوسرے ترقی یافتہ اضلاع کے برابر لانے اور عوام کی زندگیوں میں ایک مثبت تبدیلی لانے میں ایک سنگ میل ثابت ہوگا۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے صوبائی وزیر محنت شوکت یوسفزئی اور معاون خصوصی برائے اطلاعات کامران بنگش سے گفتگو کرتے ہوئے کیا جنہوں نے ان کے دفتر میں ان سے ملاقات کی اور نئے مالی سال کے بجٹ خصوصا سالانہ ترقیاتی پروگرام میں شامل ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا۔ صوبائی کابینہ اراکین نے ناموافق مالی صورتحال کے باوجود ایک تاریخی، عوام دوست اور غریب پرور بجٹ پیش کرنے پر وزیر اعلیٰ کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی بجٹ کے حوالے سے جو عوامی رد عمل سامنے آرہا ہے وہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ بجٹ میں عوامی توقعات کا بھر پور خیال رکھا گیا ہے اور معیاری عوامی خدمات کی فراہمی کے لئے دور رس اقدامات تجویز کئے گئے ہیں۔ اپنی گفتگو میں وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ نئے مالی سال کے بجٹ میں پسماندہ اضلاع کو پائیدار بنیادوں پر ترقی دینے اور اضلاع کے درمیان ترقی کی تفریق کو ختم کرنے کے لئے 61 ارب روپے کی لاگت کا ڈسٹرکٹ ڈیویلپمنٹ پلان تشکیل دیا گیا جس کے تحت اگلے مالی سال کے دوران 10 ارب روپے سے زائد خرچ کئے جائیں گے جس کے نتیجے میں پسماندہ اضلاع کی محرومیوں کا آزالہ ہو گا اور ان اضلاع کو ترقی کے میدان میں دیگر ترقی یافتہ اضلاع کے برابر لانے میں بہت زیادہ مدد ملے گی۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ بجٹ میں صحت اور تعلیم سمیت تمام سماجی شعبوں میں خدمات کی فراہمی کے عمل کو بہتر بنا کر اسے عوامی توقعات اور ضروریات سے ہم آہنگ کرنے کے لئے نتیجہ خیز اقدامات تجویز کئے گئے ہیں جن میں 21 ہزار سے زائد سکولوں کی تعمیر، بحالی اور اپگریڈیشن، 20 ہزار اساتذہ اور تین ہزار سکول لیڈرز کی تقرری، 10 ہزار ماڈل کلاس رومز کی تعمیر، چار ارب روپے سے زائد کی لاگت سے سکولوں میں فرنیچر کی فراہمی، ضم اضلاع میں چار ہزار سے زائد اساتذہ کی تقرری ، صوبے کے تمام بڑے ہسپتالوں کی ازسر نو بحالی، بنیادی مراکز صحت اور دیہی مراکز صحت کی اپگریڈیشن، ہسپتالوں میں مفت ادویات کی فراہمی کے لئے فنڈز میں 100 فیصد سے بھی زیادہ اضافہ جیسے اقدامات شامل ہیں جن سے تعلیم اور صحت کے شعبوں میں معیاری خدمات فراہمی مقامی سطح پر یقینی بنانے میں مدد ملے گی۔ وزیر اعلیٰ کا مزید کہنا تھا کہ بجٹ میں شہری ترقی کے مختلف پہلوو¿ں میں سرمایہ کاری کےلئے خطیر فنڈز مختص کئے گئے ہیں، صوبے میں عوام کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی کے لئے 2900 ٹیوب ویلز کی بحالی، تنصیب اور سولرائزیشن، نکاسی آب کے موثر نظام کے لئے تین لاکھ فٹ نالوں کی تعمیر اور صوبے کے 25 مختلف شہروں میں تزین و آرائش کے منصوبوں کے علاوہ واٹر سپلائی اینڈ سنٹیشن کمپنیز کی خدمات میں بہتری اور توسیع، ٹاون میونسپل ایڈمنسٹریشنز سروسز میں بہتری، ریسکیو 1122 کی تحصیلوں تک توسیع کے منصوبے جیسے اقدامات نئے بجٹ کا حصہ ہیں۔ مواصلات کے شعبے کا تذکرہ کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ 48 ارب روپے کی لاگت سے 300 کلومیٹر سے زائد سڑکوں کی تعمیر کے منصوبے بھی نئے بجٹ کا حصہ ہیں جن میں ڈی ائی خان موٹروے، پشاور ناردرن بائی پاس، بنوں سرکلر بائی پاس ، سوات موٹروے فیز ٹو، دیر چکدرہ موٹروے، ہری پور بائی پاس، پشاور طور خم موٹروے وغیرہ قابل ذکر ہیں، ان منصوبوں کی تکمیل سے صوبے کے تمام حصے معیاری روڈ نیٹ ورک کے ذریعے ایک دوسرے سے منسلک ہونگے،اور صوبے میں تجارتی اور صنعتی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا اور لوگوں کو روزگار کے مواقع فراہم ہونگے۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔