لوئیر چترال میں الیکٹرانک سٹام پیپر کا اجراء این سی بی میں اے ڈی سی محمد عرفان نے ای سٹامپ کا افتتاح کیا۔

چترال(چترال ایکسپریس ۔۔اشتیاق چترالی) چترال میں ای سٹیمپ کا اجراءi ہوا۔ خیبر پحتون خواہ کے دس دیگر اضلاع میں بھی اس نظام کا اجراء ہوا ہے جس میں کوئی بھی شہری اپنے گھر بیٹھ کر موبائل یا کمپیوٹر میں مطلوبہ مالیت کے سٹام پیپر کیلئے رجوع کرسکتا ہے جس کی ادایگی نیشنل بنک کے کسی بھی برانچ میں چالان کے ذریعے جمع کی جاتی ہے اور بنک آکر اپنا مطلوبہ سٹام پیپر حاصل کرسکتا ہے۔اس موقع پر محکمہ مالیات کے اسسٹنٹ ڈائیریکٹر عبد الوہاب خان بورڈ آف ریوینیو، صاحبزادہ محمد شجاع اے ڈی سوفٹ وئیر ای سٹیمپ بھی موجود تھے۔ ای سٹیمپ کے اجراء کے موقع پر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر محمد عرفان مہمان حصوصی تھے جبکہ ان کے ساتھ ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنرعدنان حیدر ملوکی، تحصیلدار امجد، ڈی ایس پی شیر وزیر، تاجر، بنک کا عملہ اور دیگر مہمان بھی موجود تھے۔
ای سٹیمپ کے اجراء کے اغراض و مقاصد کے بارے میں بنک منیجر امجد احمد ثانی نے بتایا کہ اس کا بنیادی مقصد کاغذات اور پراسسنگ سے متعلق دھوکہ دہی کے طریقوں کو روکنا ہے۔ اسی طرح حکومتی محصولات کی وصولی میں کمی بیشی کی خدشے کو ختم کرنا ہے۔اس کے علاوہ مالیات سے متعلق معلومات اور دستاویزات کو الیکٹرانک یعنی ڈیجیٹل شکل میں ذحیرہ کرنا اور تصدیق کے عمل کو آسان بنانے کیلئے ایک مرکزی ڈیٹا بیس بنانا ہے۔انہوں نے کہا کہ اب کوئی بھی مرد یا خاتون گھر بیٹھے اس کیلئے اپلائی کرسکتا ہے اور اب لوگ اپنی ضرورت کے مطابق جتنی مالیت کی سٹیمپ پیپر لینا چاہے اتنا ہی رقم بنک چالان کے ذریعے جمع کرنا پڑتا ہے جبکہ ماضی میں اکثر و بیشتر سٹیمپ ونڈر لوگوں سے زیادہ پیسے وصول کرتے تھے۔حسینہ خانم نے کہا کہ ای سٹیمپ کی اجراء سے اب ہم خواتین بھی آسانی سے گھر بیٹھ کر سٹیمپ پیپر کیلئے رجوع کرسکتی ہیں اور رش سے بچ کر آسانی سے اسے حاصل کرسکتی ہیں۔
محکمہ مالیات کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر عبدلوہاب نے بتایا کہ یہ صوبائی وزیر اعلےٰ کا ایک اچھا اقدام ہے انہوں نے کہا کہ اس کا مقصد Manual سٹیمپ کے الیکٹرانک کرنا ہے تاکہ اس میں کسی قسم کی غلطی یا دھوکہ دہی کی گنجائش ہی نہ رہے۔ اس کے مقاصد میں یہ بھی شامل ہے کہ بیک ڈیٹ یعنی پچھلے تاریح میں اب کوئی بھی سٹیمپ پیپر جاری نہیں ہوگا جس طرح ماضی میں بعض مافیا پرانے تاریح میں سٹیمپ پیپر نکال کر اسے جعل سازی کیلئے استعمال کرتے تھے اور اکثر جعلی سند کے ذریعے دوسرے کے زمین پر قبضہ جماتے تھے یا دیگر کوئی جعلی دستاویز بناتے اب ایسا نہیں ہوگا۔اس کے علاوہ لوگوں کے درمیان زمین پر تنازعات حتم ہوں گے۔ صوبائی وزیر اعلےٰ نے پنجاب انفارمیشن بورڈ اور بورڈ آف ریوینیو خیبر پحتون خواہ کے تعاون سے شروع کیا ہوا ہے۔ہم نے صوبے کے دس دیگر اضلاع میں بھی اس کا اجراء کیا ہوا ہے اور چترال گیارہویں ضلع ہے جہاں آج ای سٹیمپ کا اجراء ہوا۔پہلے سٹیمپ پیپر لینے کیلئے چار پانچ دن انتظار کرنا پڑتا بعض اوقات مارکیٹ میں دستیاب نہیں ہوتا اب کوئی بھی شہری ویب سائٹ سے اس کو لے سکتا ہے۔اب کوئی بھی شحص اپنے موبائیل یا کمپیوٹر سے اسے حاصل کرسکتا ہے۔اب اس کا سارا ریکارڈ کمپیو ٹرائز ہوگا اور محکمہ مالیات کے ویب سائٹ اور انکے ریکارڈ میں بھی دستیاب ہوگا۔
حسینہ خانم نے بتایا کہ اس نظام کے تحت اب پردہ دار خواتین گھر بیٹھے باعزت طریقے سے ضرورت کے مطابق مطولبہ مالیت کی سٹامپ کیلئے رجوع کرسکتی ہیں اور کچہری وغیرہ میں مردوں کے بیچ میں آنے سے بچ جائے گی۔
صاحبزادہ محمد شجاع اے ڈی سوفٹ وئیر ای سٹیمپ نے بتایاکہ اس ای سٹامپ کی اجراء کا بنیادی مقصد عوام کو صاف شفاف طریقے سے الیکٹرانک سٹامپ پیپر جاری کرنا ہے اور عوام کے درمیان جعلی سٹام پیپر کی وجہ سے جو زمین پر تنازعات تھے وہ سب حتم ہوں گے اور اب اس میں دھوکہ دہی اور جعل سازی کا گنجائش نہیں رہے گا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اب جو ای سٹامپ جس مقصد کیلئے جاری ہوا ہے وہ کسی اور مقصد کیلئے استعمال نہیں ہوسکے گا۔
بنک منیجر امجد احمد ثانی نے کہا کہ ای سٹامپ کی حصولی کیلئے بنک کے اندر علیحدہ کاونٹر قائم کرے گا جہاں کوئی بھی شحص آکر دس سے پندرہ منٹ میں اپنا مطلوبہ سٹام پیپر لیکر فارغ ہوگا اور لوگوں کا کافی وقت بھی اس طریقے سے بچ جائے گا۔انہوں نے کہا کہ اب عوام ای سٹامپ کی اصل ذر یعنی اس کی مالیت بنک میں جمع کرکے سٹامپ لے سکتا ہے اور اسے کوئی اضافی پیسہ خرچ کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ای سٹامپ کی اجراء سے امید کی جاتی ہے کہ اب ماضی کی طرح Tempering یعنی جعل سازی اور نقلی کاغذات کے ذریعے کسی اور کے زمین پر قبضہ جمانے کی کوئی گنجائش نہیں ہوگی۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔