
عوامی تحریک چترال اور انتظامیہ کے درمیان مذاکرات کامیاب،دھرنا اورروڈ بلاک ختم
چترال(نمائندہ چترال ایکسپریس) چترال کو گلگت بلتستان کے طرز پر گندم پر سبسڈی دینے کے لئے عوامی تحریک نے پیر کے روز چترال شہر کے قریب پشاور روڈ کو نو گھنٹوں تک احتجاجاً بلا ک کئے رکھا جس سے دونوں طرف ہزاروں مسافر پھنس کر رہ گئے جن میں زخمی اور مریض بھی تھے۔ بعد ازاں ڈپٹی کمشنر لو یر چترال محمد علی خا ن
اور ڈی پی اور لویر چترال صلا ح الدین کنڈی نے عوامی تحریک کے نما ئندوں سے طویل گفت و شنید کے بعد سڑک کھلوا دیا جس کے بعد موٹر گاڑیوں کی ٹریفک دوبارہ شروع ہو گئی عوامی تحریک کے نما ئندوں کا مطالبہ ہے
کہ چترال میں بھی 100کلو گندم کو 2000روپے میں سر کاری گوداموں میں دستیاب کیا جا ئے ڈی سی لویر چترال کے دفتر میں منعقدہ گفت و شنید میں عوامی تحریک کے کنوینر مغفرت شاہ اور دوسرے رہنما ؤں نے جن نکا ت پر دھر نا ختم کرنے پر رضا مند ی کا اظہار کیا،
ان میں شندور فیسٹول کے اختتامی سیشن میں گندم سبسیڈی کو سپا س نا مہ کے ٹا پ پر رکھنا، وزیر اعظم کے آنے کی صورت میں ملا قات کے لئے وقت دینا اور جشن شندور کے بعد چیف سیکر ٹری، کور کمانڈر اور آئی جی پی کے ساتھ تحریک کے نما ئندوں کا اجلا س منعقد کرنا شامل ہیں بعد ازاں ڈی سی، ڈی پی او نے
بکر آباد کے مقام پر جا کر ان نکا ت کی منظوری کا اعلا ن کر کے دھر نا ختم کرا دیا
