سنولپرڈ فاونڈیشن چترال کی طرف سے اسٹیک ہولڈرز مشاورتی ورکشاپ کا انعقاد

چترال(نمائندہ چترال ایکسپریس ) ہندوکش لینڈ سکیپ کی منیجمنٹ پلان کو حتمی شکل دینے کے لیے چترال میں ایک روزہ اسٹیک ہولڈرز کی مشاورتی ورکشاپ کا انعقادکیا گیا جس میں مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے خواتین سمیت 55سے زیادہ اسٹیک ہولڈرز نے شرکت کی جن میں محکمہ وائلڈ لائف، محکمہ جنگلات، محکمہ لائیو سٹاک، محکمہ زراعت، اور دیگر سرکاری اور غیر سرکاری اداروں کے ساتھ ساتھ مقامی کمیونٹی کے نمائندے بھی شامل تھے۔ وائلڈ لائف ڈویژن چترال کے ڈی ایف او فاروق نبی اور ایگریکلچر ریسرچ اسٹیشن کے ڈائرکٹر ٖڈاکٹر عبدالرؤف کے علاوہ تقریب سے سنولیپرڈ فاونڈیشن کے ڈاکٹر شعیب حمید، آر پی ایم چترال جمیع اللہ شیرازی، محکمہ لائیو اسٹاک کے ڈاکٹر سفیر اللہ، فارسٹ ڈیپارٹمنٹ کے اعجاز احمد ا ور کمیونٹی کے نمائندوں نے منیجمنٹ پلان کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہاکہ برفانی چیتا اس علاقے کی ماحولیاتی نظام میں انتہائی اہمیت کا حامل درندہ ہے اور کسی قدرتی ماحول میں اس کی موجودگی اس کی صحت مندی کا ضامن ہے۔ ان کاکہنا تھاکہ گزشتہ کئی سالوں سے برفانی چیتے کے اس ماحولیاتی نظام میں عدم موجودگی باعث تشویش ہے اور یہ اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ ہم نے ماحول کے توازن میں بگاڑ پیدا کردیا ہے۔انہوں نے کہاکہ اس منصوبے کے لیے مالی اعانت وائٹلی ایوارڈ فار نیچر نے کی اور سنو لیپرڈ فاؤنڈیشن کے ڈاکٹر علی نواز، ڈاکٹر شعیب حمید اور ڈاکٹر جعفر الدین نے اس پلان پر کام کیا جوکہ برفانی چیتا اور اس کے ماحول کی تحفظ کی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ہے۔

ورک پلان کے تفصیلات میں شرکاء نے گہری دلچسپی لی اور اس کے مواد پر اپنے خیالات اور تبصروں کے ذریعے خیالات کا اظہار کیا اور کمیونٹی کے نمائندوں نے اپنے تحفظات سے آگاہ کیا جنہیں اس پلان کو حتمی شکل دینے سے پہلے شامل کئے جائیں گے تاکہ یہ اسٹیک ہولڈروں کے امنگوں کا مکمل طور پر آئنہ دار ا ور قابل عمل ہو۔ منتظمین نے ان تجاویز اور تحفظات کا خیر مقدم کیا اور انہیں پلان میں شامل کرنے کی یقین دہانی کرائی۔ اس سے قبل سابق انسپکٹر جنرل آف فارسٹ پاکستان ڈاکٹر سید محمود ناصر نے ہندوکش منیجمنٹ پلان کی تفصیلات پر مبنی پریزنٹیشن دی اور اس کے مختلف پہلووں پر روشنی ڈالی جس میں اس کے اعراض ومقاصد، کنزرویشن کے راہ میں حائل رکاوٹین اور چیلنج اور سفارشات شامل تھے۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔