*حضورصلی اللہ علیہ وسلم  کے بچپنے کے یادگار لمحے* … (12)۔۔*تحریر۔۔ شہزادہ مبشرالملک*

* *بحیرا راہب۔*

حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم جب بارہ برس کے ہوئے تو چجا کے ساتھ پہلی مرتبہ تجارتی سفر پہ شام روانہ ہوئے۔ قریش کا یہ تجارتی قافلہ ابو طالب کی قیادت میں بصرہ شہر کے باہر ایک گرجے کے قریب رکا تو گرجے سے ایک عیسائی راہب یہ منظر دیکھ رہے تھے جو مدتوں سے اس گرجے میں نبی اخر زمان صلی اللہ علیہ وسلم کے آنے کے منتظر رہ رہے تھے اور نصرانی علماء میں ایک بلند پادری حق پرست راہب علم نجوم اور فلکیات کے ماہر ماننے جاتے تھے ۔حضرت سلمان فارسی ؐ بھی حق کی تلاش میں ان کے تلامزہ میں شامل رہے تھے۔

بحیرا۔۔۔۔دور سے اس قافلے پر نظریں لگائے ہوئے تھے کیونکہ ایک بادل کا ٹکڑا ان پر سایہ کیے آرہا تھا جب یہ رکتے تو وہ بادل بھی رک جاتا۔۔ قافلہ نے جب گرجے کے قریب ایک درخت کے نیچے پڑاو ڈالا تو ایک شاخ نےجھک کے ایک بچے کے اوپر سایہ کیا۔۔۔ بحیرا ۔۔۔ یہ سب دیکھ رہے تھے۔اس نے قافلہ والوں کو ضیافت کے لیے گرجے میں بلایا تو اہل قافلہ نے ۔۔۔ بچے ۔۔۔ کو سامان کے ساتھ چھوڑ کر حاضر خدمت ہوئے ۔۔۔ راہب نے دیکھا کہ بچے کے اوپر شاخ درخت اب بھی جھکی ہوئی ہے اور بادل کا ٹکڑا بھی ٹھر گیا ہے۔
بحیرا۔۔۔ نے پوچھا قافلے کا کوئی بندہ پیچھے تو رہ نہیں گیا۔۔۔؟  حارث بن عبدالمطالب نے ابوطالب سےکہا بھائی جان یہ اچھا نہیں لگتا ہم یہاں دعوتیں آرائیں اور ۔۔۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔ وہاں اکیلا بیٹھا رہے۔۔۔ لفظ ۔۔۔ محمد۔۔ سننا تھا کہ بوڑھے راہب کی تن بدن میں بجلی کی تیزی آئی اور اس نے بےقرار ہوکے حارث کو روانہ کیا کہ بچے کو ساتھ لایے اورخود دیکھتا رہا جب بچہ اٹھ کے چلنے لگا تو بادل کا سفید ٹکڑا بھی چلنے لگا ۔۔۔ بحیرا حیرت سےاٹھ بیٹھے اور بچے کو پاس بیٹھا کر کھانا کھلایا اور تکتا رہا۔۔۔ کھانے سے فارغ ہوئے تو۔ لات وعزی کی قسم دے کر بچے کا امتحان لیا کہ جو پوچھوں سچ بتانا۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا ان بتوں سے زیادہ میرے نزدیک کوئی اور چیز قابل نفرت نہیں۔
بحیرا۔۔۔۔ بہت متاثر ہوئے سوالات کے تسلی بخش جواب پاکر ابوطالب سے سوال کیا کہ تیرا اس بچے سے کیا رشتہ ہے ۔۔۔ ابوطالب نے کہا میرا بیٹا ہے۔۔۔ راہب نے کہا بالکل نہیں یہ نہیں ہوسکتا ہمارے علم اور کتابوں کے مطابق اسے یتیم ہونا چاہیے۔ ابو طالب نے بتاہا کہ میرا بھتیجا ہے تو ۔۔۔ محمدصلی اللہ علیہ وسلم  ۔۔۔ کے کندھوں کا معائنہ کیا اور مہر نبوت کے علامات دیکھ کر زارو قطار رونے لگے حضور کی نبوت۔ مکہ کے مظالم۔ اور ہجرت۔ کے مطالق بہت سی باتیں بتادیں ۔۔۔ عیسائیوں اور یہود سے بچا کر واپس جانے کا مشورہ دیا ۔ابو طالب خطرہ بھانپ کر قافلےکو شام روانہ کرکے بھتیجے کو لیکر مکہ واپس ہوئے۔

* *جنگ فجار۔۔۔*

کی چوٹھی جنگ قرش مکہ اور تمام قبایل کنانہ اور ہوازان کے درمیان شدد سے برپا ہوئی اور ایک سال تک جاری رہی ۔اس جنگ  میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم  پندرہ سال کی عمر میں چچاوں کے ساتھ شریک ہوئے۔یہ جنگ حرمت والے مہینوں کو پامال کرکے لڑی گئی تھی ۔یہ جنگ ۔۔۔ عکاظہ ۔۔کے بازار میں ۔۔۔ حیرہ کے آمیر نعمان بن منذر کے ایک آدمی کو بنو کنانہ کے ایک آدمی کے ہاتھوں قتل پر شروع ہوا۔ابتدا میں قبیلہ قبیس اور کنانہ کو قبیلہ ہوازان کے ہاتھوں شکست ہوئی۔مگر آخر میں قریش اور کنانہ کا بے دردی سے قتل عام کیا گیا۔نوجوان عتبہ بن رابعیہ نے بلند آواز صلح کی صدا دی اور مقتولین کے خون بہا وقریش کو ادا کرنے اور قبیس کے نہ کرنے کے شرط پر اس بے نتیجہ جنگ کا خاتمہ ہوا۔ حرم مہینوں کی پامالی کے سبب اس جنگ کو ۔۔۔ جنگ فجار۔۔۔ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔

* *حلف الفضول* ۔

قریش۔۔۔ جب جنگ فجار۔۔۔ سے واپس مکہ آئے ۔۔۔ تو ایک دن ۔۔ زبید۔۔۔ کا ایک آدمی تجارتی سامان لیکر مکہ آئے سامان فروخت کرنے کے بعد اس کا معاوضہ اسے دینے سے انکار کیا گیا وہ پرشانی میں منت سماجت کرتا رہا مایوس ہوکر حلیف قبایل کو مدد کے لیے پکارا مگر کامیابی نہ ہوئی ۔۔۔ تو اس نے ۔۔۔ جبل ابو قبیس۔۔۔ پر چڑھ کر ایک مظلمومانہ دستان غم ۔۔۔ رزمیہ شاعری میں بلند آواز سے بیان کی اور شاعری کے ذریعے۔۔۔ سنگ دل لوگوں کے دل موم کر ڈالا ۔حضرت زبیر بن عبدالمطالب ان کی حمایت اس ظلم کے خلاف سامنے آئے اور اس کا حق دلوایا اور تمام قبایل کو مظلموموں کی حمایت کا درس دیا قریش کے قبایل نے باہم امن قایم رکھنے کے لیے ایک معاہدہ کیا جو ۔۔۔ حلف الفضول۔۔۔ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔جس کے زریں نکات میں سے ایک یوں بھی تھا۔۔۔۔: خدا کی قسم ۔۔ مظلوم کی حمایت اس وقت تک جاری رکھیں گے جب تک دریا اون کو تررکھے گا اور معاشرے میں ہمدردی اور غمگساری کیا کریں گے۔۔۔۔ رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے ۔۔۔ عصبیت ۔جہالت اور قتل وغارت سے بھری معاشرے میں ۔۔۔ امن و آشتی۔۔۔ کے اس معاہدے کو ۔۔۔ سرخ اونٹوں۔۔ سے بہتر قرار دیا تھا۔
۔

بحوالہ۔ الرحیق المختوم ۔تاجدار حرم ۔محمد رسول اللہ ۔دلایل بنوت۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔