
حضرت عیسیٰ علیہ السلام۔۔۔ نئی بحث۔۔تحریر۔مبشرالملک
آج کل مشہور اسکالر جاوید احمد غامدی صاحب کی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں ایک تشریح نے علمی دنیا میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ غامدی صاحب سورۂ آلِ عمران کی آیت ﴿إِنِّي مُتَوَفِّيكَ وَرَافِعُكَ إِلَيَّ﴾ کا مفہوم یہ لیتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے پہلے حضرت عیسیٰؑ کو وفات دی، پھر انہیں اپنی طرف اٹھا لیا۔ غامدی صاحب کے اپنے بیان میں یہی ترجمہ موجود ہے: “میں تمہیں وفات دینے والا ہوں اور اپنی طرف اٹھانے والا ہوں۔”
غامدی صاحب کا ترجمہ اور دلایل اس صلیب دینے کے حوالے سے بہت ہی دلچسپ اور وزنی ہیں ۔ کہتے ہیں کہ علم سمبدر ہے اور سوال اٹھانا اسی سمندر کو چیر کے راستے بنا نا ہے۔
یہاں ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے:
اگر پہلے وفات دی گئی، پھر جسم کو آسمان کی طرف اٹھایا گیا، تو اس کے بعد دوبارہ دنیا میں تشریف لانے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟
اگر دوبارہ زمین پر آنا ہے تو کیا دوبارہ وفات بھی ہوگی؟
اور اگر ایسا ہے تو قرآن و حدیث میں اس پورے معاملے کی ترتیب کیا بنتی ہے؟
یہ سوالات نئے ضرور ہیں، لیکن یہ کہنا درست نہیں کہ اس آیت کے بارے میں پہلے مفسرین نے غور ہی نہیں کیا۔ حقیقت یہ ہے کہ قدیم ترین تفاسیر میں اس لفظ “متوفیک” پر باقاعدہ اختلاف موجود ہے۔
امام طبریؒ، جن کا انتقال 310ھ میں ہوا، نے سورۂ آل عمران کی آیت 55 کے تحت مختلف اقوال نقل کیے ہیں۔ ایک قول یہ ہے کہ متوفیک سے نیند مراد ہے، یعنی حضرت عیسیٰؑ کو سلا کر اٹھایا گیا۔ دوسرا قول یہ ہے کہ اس سے مراد زمین سے قبض کرنا اور زندہ اپنی طرف اٹھانا ہے۔ تیسرا قول موت کا ہے، جس میں حضرت ابن عباسؓ سے “إني مميتك” یعنی “میں تمہیں موت دینے والا ہوں” منقول ہے۔ وہب بن منبہ سے بھی چند ساعتوں کی وفات کا قول نقل کیا گیا ہے۔
لیکن یہاں اصل دلچسپ بات یہ ہے کہ امام طبری نے خود موت والے قول کو آخری اور ترجیحی موقف نہیں بنایا۔ انہوں نے ان احادیث کی بنیاد پر جن میں حضرت عیسیٰؑ کے آخر زمانے میں نزول اور دجال کے قتل کا ذکر ہے، یہ معنی اختیار کیا کہ “متوفیک” سے مراد زمین سے قبض کرنا اور زندہ اپنی طرف اٹھانا ہے۔
تفسیر بغوی میں بھی یہی اختلاف موجود ہے۔ وہاں حسن بصری، کلبی اور ابن جریج سے زندہ قبض اور رفع کا قول، ربیع بن انس سے نیند کا قول، اور ابن عباسؓ سے موت کا قول نقل کیا گیا ہے۔ یعنی یہ مسئلہ قدیم زمانے ہی سے زیرِ بحث رہا ہے۔
اب آئیے احادیث کی طرف۔
صحیح بخاری کی حدیث 3448 میں حضرت ابوہریرہؓ سے رسول اللہ ﷺ کا واضح فرمان موجود ہے:
“والذي نفسي بيده، ليوشكن أن ينزل فيكم ابن مريم حكماً عدلاً”
یعنی: “اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، قریب ہے کہ ابن مریم تم میں نازل ہوں گے اور عادل حکمران ہوں گے۔”
اسی حدیث میں صلیب توڑنے، خنزیر کو قتل کرنے اور جزیہ ختم کرنے کا ذکر بھی ہے۔
لہٰذا نزولِ عیسیٰؑ کا تصور صرف کمزور روایات پر قائم نہیں بلکہ صحیح بخاری میں موجود ہے۔ اس کے علاوہ صحیح مسلم میں بھی نزولِ عیسیٰؑ، دجال اور آخری زمانے کے واقعات سے متعلق متعدد روایات موجود ہیں۔
البتہ اسلامی کتابوں میں حضرت عیسیٰؑ کے بارے میں بہت سی ایسی باتیں بھی مشہور ہو گئی ہیں جنہیں صحیح بخاری و مسلم کی حدیث سمجھ لیا جاتا ہے، حالانکہ ان کی سند کا درجہ مختلف ہے۔ مثلاً یہ بات کہ وہ نزول کے بعد شادی کریں گے، اولاد ہوگی اور آخرکار روضۂ رسول ﷺ کے ساتھ دفن ہوں گے، ان تفصیلات کو صحیح بخاری و مسلم کی صریح صحیح حدیث کے درجے میں رکھنا درست نہیں۔
اس لیے علمی دیانت کا تقاضا یہ ہے کہ حضرت عیسیٰؑ کے معاملے میں قرآن، قدیم تفاسیر، صحیح احادیث اور بعد کی روایات کو الگ الگ درجے میں دیکھا جائے۔
ایک طرف یہ حقیقت ہے کہ “متوفیک” کے معنی پر قدیم مفسرین میں اختلاف موجود تھا؛ دوسری طرف صحیح حدیث میں حضرت عیسیٰؑ کے نزول کا ذکر نہایت واضح ہے۔ اب اصل علمی سوال یہ رہ جاتا ہے کہ “متوفیک” میں موت مراد ہے یا قبض و رفع؟ اور اگر موت مراد ہے تو نزولِ عیسیٰؑ والی صحیح احادیث کے ساتھ اس کی مکمل تطبیق کیسے ہوگی؟
یہی وہ مقام ہے جہاں جذبات کے بجائے قرآن کی آیات، عربی الفاظ، قدیم تفاسیر اور صحیح احادیث کو سامنے رکھ کر تحقیق کی ضرورت ہے۔ اختلافِ رائے اپنی جگہ، مگر تحقیق کا حسن یہی ہے کہ جس بات کی دلیل جتنی مضبوط ہو، اسے اتنا ہی مضبوط سمجھا جائے۔
